ترقیاں، وزیراعظم کے اختیارات کے قانونی جائزے کا فیصلہ

ترقیاں، وزیراعظم کے اختیارات کے قانونی جائزے کا فیصلہ
ترقیاں، وزیراعظم کے اختیارات کے قانونی جائزے کا فیصلہ

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے سی ایس پی افسران کی ترقیوں کے کیس میں وزیر اعظم کے اختیارات کی حدود و قیود اور ان کے استعمال سے متعلق قانونی نکتے کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس نا صر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہاکہ اس معاملے میں کیا وزیر اعظم ربڑ سٹمپ ہیں عدالت کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں وزیر اعظم کے اختیارات کیا ہیں تو چیف جسٹس نے کہاکہ سوال دو ہیں ایک یہ کہ وزیر اعظم کے اختیار کی حدود کیا ہیں اور دوسرا ان کا استعمال کس طرح ہو گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے تو فیصلے میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس ذاتی معلومات تھیں جن کی کوئی اہمیت نہیں ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں تھیں نہ ہی انہوں نے ان کا ذکر کیا ہے کہ مسترد کردہ افسران میں سے کوئی نااہل یا کرپٹ تھا اور ترقی کا حق دار نہیں تھا۔ اس بات کا علم اس سمری سے ہو سکتا ہے جو بورڈ نے وزیر اعظم کو بھجوائی تھی۔ انہوں نے آج سمری طلب کر لی۔افسران کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ آج بھی مجھے جلدی آنا پڑا حالانکہ آج بدقسمتی سے میری سالگرہ تھی جس پر جج صاحبان ہنس پڑے اور چیف جسٹس نے انہیں کہاکہ آپ کو سالگرہ مبارک ہو۔عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ کچھ دنوں کا وقت دیدیا جائے جس پر عدالت نے سماعت 30جنوری تک ملتوی کردی ہے۔

مزید : اسلام آباد