وہ آدمی جو عورت بن گیا لیکن چین نہ آیا تو پھر دوبارہ۔۔۔

وہ آدمی جو عورت بن گیا لیکن چین نہ آیا تو پھر دوبارہ۔۔۔

لاس اینجلس (نیوز ڈیسک) انسانوں کی بھاری اکثریت تو نر یا مادہ کے طور پر پیدا ہوتی ہے مگر بعض لوگوں میں جسمانی اور ذہنی صنف مختلف ہوتئی ہے اور نہیں عام طور پر خواجہ سرا کہا جاتا ہے۔ مغرب میں ایسے لوگوں کو آپریشن کے ذریعے جنس کی تبدیلی کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔ والٹ ہینر بھی ایک ایسا ہی شخص ہے کہ جس کی پیدائش مرد کے طور پر ہوئی مگر اس کا ذہن کہتا تھا کہ وہ عورت ہے۔

چڑیا گھر کی انوکھی پیشکش،دل دکھانے والوں کو خوفناک تحفہ بھیجیں

معاشری دھارے کے ساتھ چلتے ہوئے والٹ نے شادی بھی بطور مرد کی اور اس کے دو بچے بھی پیدا ہوئے مگر جب وہ 42 سال کا تھا تو اس نے فیصلہ کیا کہ آپریشن کروا کر مرد بن جائے۔ اپنے بچوں کے ساتھ شدید اختلاف اور بیوی کے ساتھ طلاق کے بعد وہ تبدیلی جنس آپریشن (SRS) کرواکر خاتون بن گیا۔ والٹ کہتا ہے کہ یہ عمل نہایت تکلیف دہ تھا۔ اس کے جسم کو کاٹا گیا، چھاتیوں کیلئے امپلانٹ لگائے گئے اور اسے ایسٹروجن ہارمون کی بھاری خوراکیں دی گئیں۔ بے پناہ تکلیف اور بھاری اخراجات کے بعد اسے مرد سے خاتون بنادیا گیا۔ ابتدائی کچھ عرصہ تو وہ مرد والٹ ہنر سے خاتون لالا جینسن بن کر بہت خوش تھا مگر پھر پچھتاوا اور احساس ندامت شروع ہوگیا۔ اسے نفسیات کے مطالعے کے دوران معلوم ہوا کہ اس کی کیفیت جسمانی نہیں بلکہ ذہنی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ بچپن میں اس کی دادی نے اسے لڑکیوں جیسے کپڑے پہنانا شروع کردئیے اور اس کے باپ کے کالے پالک بھائی اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ ان نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اس کے ذہن میں اپنی صنف کے متعلق شکوک پیدا ہوگئے۔ اسے غلطی کا احساس اتنا بڑھا کہ اس نے عورت بننے کے 8 سال بعد دوبارہ آپریشن کروایا اور ایک دو دفعہ پھر والٹ ہنر بن گیا۔ اب وہ اپنے بچوں سے معافی مانگ کر دوبارہ ان کے ساتھ پرمسرت زندگی گزاررہا ہے۔ اس نے جنس کے بارے میں مسائل کے شکار لوگوں کی مدد کیلئے ایک ویب سائٹ "Sex Change Regret" بھی قائم کررکھی ہے۔ واضح رہے کہ سائنسدانوں کی بڑی تعداد خواجہ سرا کی کیفیت کو Gender Dyspheria یعنی پیدائشی جنس سے ناخوش ہونا قرار دیتی ہے اور ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جسمانی اور ذہنی ٹیلنٹ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...