کیا آپ جانتے ہین ’خادم الحرمین شریفین‘ کے الفاظ کس حکمران نے پہلی بار استعمال کیے؟ انتہائی دلچسپ معلومات

کیا آپ جانتے ہین ’خادم الحرمین شریفین‘ کے الفاظ کس حکمران نے پہلی بار ...
کیا آپ جانتے ہین ’خادم الحرمین شریفین‘ کے الفاظ کس حکمران نے پہلی بار استعمال کیے؟ انتہائی دلچسپ معلومات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ماضی کے بادشاہ اپنے لئے ”فاتح عالم“ شاہ جہاں اور شہنشاہ عالم جیسے خطاب استعمال کرتے تھے جن سے ان کا غرور اور تکبر ٹپکتا تھا مگر سعودی عرب کے حکمران اپنے لئے ”خادم الحرمین الشریفین“ یعنی ”مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کے خادم“ کا خطاب استعمال کرتے ہیں۔

تاریخ دان حسن الباشہ اپنی کتاب "Positions and Titles" میں رقمطراز ہیں کہ صلاح الدین ایوبی وہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے اپنے لئے یہ خطاب اس وقت استعمال کیا جب وہ صلیبی جنگوں کے دوران عیسائی حکمرانوں کے خلاف برسرپیکار تھے اور خدا کی نصرت کے طلبگار تھے۔ اس کے بعد ملوک سلطان الاشرف ابونصر اور پھر سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیم اول نے یہ خطاب استعمال کیا۔ سعودی عرب میں یہ خطاب متعارف کروانے والے پہلے حکمران شاہ فیصل تھے جب ان کے دور میں غلاف کعبہ تیار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس مقدس غلاف پر اپنا نام لکھوانا مناسب خیال نہیں کرتا لہٰذا اس پر لکھ دیا جائے کہ یہ غلاف ”خادم الحرمین الشریفین “ کے دور میں بنایا گیا۔

وہ وقت جب شاہ سلمان عبدالعزیزنے کنوارے سعودی کے دل کےارمان پورے کر دیئے

شاہ فیصل کے بعد شاہ خالد سعودی حکمران بنے اور پھر جب 1982ءمیں شاہ فہد تخت نشین ہوئے تو انہوں نے دوبارہ یہ خطاب استعمال کرنا شروع کر دیا۔ شاہ عبداللہ اگست 2005ءمیں حکمران بنے تو انہوں نے بھی اپنے لئے اسی خطاب کا انتخاب کیا۔ جب انہیں ”شہنشاہ قلوب“ اور ”شہنشاہ عالم“ کے خطاب پیش کئے گئے تو انہوں نے یہ کہہ کر اپنانے سے منع کر دیا کہ اصل شہنشاہ تو خدائے بزرگ و برتر ہے اور کل عالم اس کا اطاعت گزار ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس