اقتصادی ترقی کا سفر

اقتصادی ترقی کا سفر
 اقتصادی ترقی کا سفر

  

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ڈیووس میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا کہ پاکستان کے حوالے سے اچھی رائے قائم ہوچکی ہے ۔قبل ازیں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا وژن ایسا پاکستان ہے جو تاجر دوست ہو ۔جہاں غیرملکی سرمایہ کار خود کو محفوظ سمجھیں ۔یہ صرف وزیر اعظم پاکستان کی خوش کن باتیں نہیں، بلکہ ترقی یافتہ خوشحال پاکستانی معاشرے کا نقشہ ہے، جسے بنانے سنوارنے اور اس میں رنگ بھرنے کے لئے میاں محمد نواز شریف دن رات ایککئے ہوئے ہیں ۔ملکوں ملکوں جا رہے ہیں ۔بزنس کمیونٹی اور ارباب اقتدار کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لئے سازگار ماحول کے بارے میں اطمینان دلاتے اور انہیں سرمایہ کاری اور اشتراک عمل کے لئے آمادہ کرتے ہیں ۔چند برس پہلے تک پاکستان اس سلسلے میں تہی دامن تھا ۔خارجہ سرمایہ کاری کا فقدان تھا ۔وزیر اعظم کے مسلسل رابطوں کے نتیجے میں دوست ملک چین نے گوادر بندرگاہ تا کاشغر اقتصادی راہداری تعمیر کرنے اور بجلی کے متعدد منصوبوں کے لئے 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخظ کرکے پاکستان میں خارجہ سرمایہ کاری کے جمود کو توڑا ۔اس کے بعد متعدد ملک پاکستان میں سرمایہ کاری اور اقتصادی و معاشی روابط بڑھانے پر آمادہ ہو چکے ہیں ۔

پاکستان میں اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی تھی ۔دہشت گردی کے ناسورکو ختم کرنے اور کراچی کو بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے وجود سے پاک کرنے کے لئے وزیراعظم پاکستان نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر متفقہ طور پر بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی منظوری حاصل کی ۔پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف 14ہزار آپریشن کئے ۔تین ہزار دہشت گرد مارے گئے،21 ہزار گرفتار ہوئے،پاکستان کی سرزمین اب دہشت گردوں کے لئے تنگ ہو چکی ہے۔ ان کے منصوبہ ساز بیرون ملک چھپے بیٹھے ہیں ۔اپنے بچے کھچے پالتو بھگوڑوں سے تعلیمی اداروں پر حملے کرا رہے ہیں،جہاں معصوم بچوں اور نوجوان طالب علموں کو شہید کر کے پاکستانی معاشرے پر خوف اور مایوسی طاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ سمجھ رہا ہے کہ پاکستان جانی ومالی قربانیوں سے وجود پذیر ہوا تھا ۔پاک سرزمین کے لئے ایک بار پھر قربانیاں دینا پڑ رہی ہیں جو جلد رنگ لائیں گی۔

اس سلسلے میں محب وطن افراد و طبقات کا خیال ہے کہ ملک کے اندر کسی نہ کسی صورت میں دہشت گردوں کے سہولت کار موجود ہیں،اس لئے قومی کانفرنس میں منظور کردہ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر مکمل اور بھرپور طریقے سے عملدرآمد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ۔اس سلسلے یہ امر خوش آئند ہے کہ آرمی چیف نے 2016ء کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دیا ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے دہشت گردی کے خلاف قوم سے متحد رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ سہولت کاروں کے بغیر دہشت گردی نہیں ہو سکتی،اس لئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سب کو کردار ادا کرنا چاہئے ۔رینجر ز نے جان نثارانہ آپریشن سے کراچی میں ٹارگٹ کلر اور جبریہ کاروبار بند کرانے والوں کا کافی حد تک صفایا کر دیا ہے ۔بد قسمتی سے کراچی میں موجود سیاسی عناصر رینجرز کی مختلف طریقوں سے حوصلہ شکنی کرتے رہتے ہیں ۔متعدد بااثر مطلوب افراد کو گرفتار کرنے سے روک رہے ہیں۔ اس قسم کی وقتی اور سیاسی مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا دہشت گردی کے خلاف وژن بہت واضح ہے ۔انہیں شرح صدر ہے کہ دہشت گردی ،بھتہ خوری ا ور ٹارگٹ کلنگ کی موجود گی میں سرمایہ کاری کھل کے سامنے نہیں آ سکتی ۔

عساکر پاکستان کے چیف جنرل راحیل شریف بھی اپنے عزائم اور کارکردگی کے مطابق وطن عزیز کاپرُ امن چہرہ بگاڑنے والے عناصر کا حلیہ بگاڑنے کے لئے مکمل طور پر کمر بستہ ہیں ،اس لئے اللہ تعالی کی تائید و نصرت سے امید واثق ہے کہ 2016ء کے آخر تک باقی ماندہ دہشت گرد اپنی بد اعمالیوں کے ناپاک خون میں ڈوب چکے ہوں گے۔اس وقت قوم کی آزمائش کا وقت ختم اور سرمایہ کاری محفوظ و مامون راستے پر آ گے بڑھ چکی ہوگی ۔صنعتکاری بڑھانے پھیلانے میں توانائی کی قلت بڑی رکاوٹ ہے، لیکن صنعتکاروں ،سرمایہ کاروں اور دنیا بھر کو معلوم ہے کہ وزیر اعظم پاکستان دوست ملکوں کے اشتراک و تعاون سے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں ۔ان پر تعمیراتی کام جاری ہے ۔توقع ہے کہ 2017 ء میں کچھ منصوبے بجلی بنانا شروع کر دیں گے ۔کسی وقت مسائل و مشکلات کی بھرمار تھی ایک ایک کرکے راستے کے پتھر اٹھائے جا رہے ہیں ۔مستعد اور ذمہ دار حکومت موجود ہے ۔سب دیکھ رہے ہیں کہ ملک کو محفوظ بنانے ،صنعتکاری کا عمل تیزِ کرنے اور عوام کوریلیف مہیا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جا رہی ۔سیاست دانوں اور معاشرے کے دیگر طبقات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سرمایہ کاری اور اقتصادی و معاشی سرگرمیاں بڑھانے کے سلسلے میں ماحول خراب کرنے سے اجتناب کریں۔ حکومت بیرونی دنیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرے، لیکن اندرون ملک سیاست دان حکومتی کاوشوں پرپانی پھیرنے کی کوششیں کرتے رہے تو ملک میں خوشحالی نہیں آ سکے گی ۔اگر سیاست دانوں سمیت تمام طبقات عوام کے خیرخواہ ہیں۔ معاشرتی مشکلات ختم کرنا چاہتے ہیں تو کچھ وقت کے لئے منفی سوچوں کو ترک کرکے مثبت سوچوں کے ساتھ آ گے بڑھنا ہوگا ۔

مزید :

کالم -