"چائلڈ لیبر اور حکومت پنجاب"

"چائلڈ لیبر اور حکومت پنجاب"

  

انسانی شعور میں اضافہ اور ترقی تعلیم کے باعث ہی ممکن ہے۔ہم چاہے جتنی مرضی ترقی کر لیں۔ بڑی بڑی عمارتیں ،خوب صورت سڑکیں اور پل بنا لیں جب تک معاشرے میں بسنے والے شعوری طور پر ترقی نہیں کرتے اس وقت تک معاشرہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔شعوری ترقی کے لئے تعلیم کا سہارا ہر حال میں لینا پڑتا ہے۔دنیا میں ایسا کوئی بھی ملک یا معاشرہ نہ ہے جس نے بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر کے ترقی کی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آج سے 14سو سال قبل جہالت اور کفر کے اندھیرے کو تعلیم کی شمع سے روشن کیا اور راہِ راست سے ہٹے ہوئے لوگوں کو راہِ راست کی جانب گامزن کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں بھی "اقرا"کا لفظ استعمال کر کے تعلیم اور پڑھے لکھے ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

چائلڈ لیبر پاکستان سمیت عالمی دنیا کا مسئلہ ہے جس کے تدارک کے لئے کئی این جی اوز اور عالمی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ترقیاتی پذیر ممالک کی نسبت چائلڈ لیبر ترقی یافتہ ممالک میں کم ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق اس وقت دنیا کی کل آبادی میں سے 211ملین بچے ایسے ہیں جو چائلڈ لیبر کر رہے ہیں اور ان کی عمریں 5سال سے14سال کے درمیان ہیںیہ بچے زراعت کے علاوہ مختلف اشیاء کی مینو فیکچر سے وابستہ ہیں۔ایشیاء میں 60فیصد چائلڈ لیبر ہے۔ہر سال تقریبا6ملین بچے کام کرتے ہوئے زخمی ہو جاتے ہیں جن میں 2.5ملین بچے معذور اور تقریباًسالانہ 3,200کے قریب ہلاک ہو جاتے ہیں۔یہ اعدادو شمار کسی بھی ذی شعور اور انسانیت کی فلاح کی سوچ رکھنے والے شخص کے لئے پریشانی کا باعث ہیں جس کے تدارک کے لئے عالمی سطح پراور ملکی سطح پر ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔عالمی سطح پر دیکھا جائے تو بر طانیہ نے 1833ئمیں فیکٹری ایکٹ لاتے ہوئے کچھ قانون سازی کی اور چائلڈ لیبر اور اس کے ایسے اوقات کا تعین کیا جو بچوں کی تعلیم کو متاثر نہ کرے۔اسطرح ایجوکیشن ایکٹ 1918ئاور پھر ینگ پرسن ایکٹ 1933ئمیں قانون سازی کرتے ہوئے چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنیکی بھر پور کوشش کی۔برطانیہ کی حکومت نے چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ کر نے کے لئے خاندان کی ماہانہ انکم میں اضافہ کا بندوبست کیا۔ اس کی دیکھا دیکھی جاپان نے بھی چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے اقدامات اور بچوں کی تعلیمی صلاحیت بڑھانے کا بندوبست کیا۔

پاکستان کا شمار چونکہ ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں پر معاشرہ کو کئی معاشرتی مسائل اور خاص طور پر غربت کا سامنا ہے۔ یہاں پر بھی چائلڈ لیبر دو طرح کی ہو رہی ہے ایک تو بچے زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور دوسرا کسی نہ کسی فیکٹری یا دیگر مینوفیکچر کی فیلڈ سے وابستہ ہیں۔ان میں سے ایک اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہو رہا ہے کہ بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہو پا رہے اور مختلف معاشرتی استحصالی کا شکا ر ہیں۔حکومت پنجاب اور خاص طور پر وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے اس جانب خصوصی طور پر توجہ دی اور اینٹوں کے بھٹوں پر ہونے والی بچوں کی مشقت کے تدارک کے لئے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم کے بندوبست کو یقینی بنایا۔ حکومت پنجاب کی نئی قانون سازی کی بدولت ایک تو اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو جائے گا اور دوسرا اینیٹیں بنانے سے وابستہ خاندان بھٹہ مالکان کے قرضہ کے تسلط سے آزاد ہو جائے گا کیونکہ نئی قانون سازی میں قرضہ دینے اور لینے کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔

گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے 14جنوری 2016 ء کو اینٹوں کے بھٹوں پر سے مکمل چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے ایک آرڈیننس جاری کیا جس میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا کہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والا ہر بڑا مزدور تحریری طور پر بھٹہ خشت کے مالک کے ساتھ معاہدہ کریگا جس میں وہ بھٹہ خشت کے مالک سے قرضہ لیتا تو وہ درج کریگا۔اپنی اجرت کے بارے میں بتائے گا جبکہ لئے گئے قرضہ کی واپسی کا شیڈول بنائے گا۔ ہر بھٹہ مالک آرڈیننس کے جاری ہونے کے 60دن کے اندر اندر بھٹہ پر کام کرنیوالے مزدوروں سے یہ تحریری معاہدہ کریگااگر بھٹہ مالک یہ تحریری معاہدہ نہیں کرتا اور انتظامیہ کو پیش نہیں کرتا تو اس کے خلاف باؤنڈڈ لیبر کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بھٹہ مالک مزدور کو چھ تنخواہوں (اجرتوں) سے زائد پیشگی ادائیگی یا قرضہ نہ دیگااور اس کو رجسٹرڈ میں درج کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کے انسپکٹر سے منظوری بھی کروائے گا۔ آرڈیننس کی رُو سے کوئی بھی بھٹہ مالک بھٹہ پر کمسن بچے کو کام پر نہیں رکھے گااور اگر وہ آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کی ساری ذمہ داری بھٹہ مالک پر عائد ہوگی۔ انسپکٹر خلاف ورزی پر بھٹہ کو سیل کریگا اور مجسٹریٹ بھٹہ مالک کو 6ماہ کی قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کر سکتا ہے۔اس آرڈیننس کا ایک خوب صورت پہلو یہ ہے کہ بھٹہ پر کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کے لئے بھٹہ مالک ہی ذمہ دار ہو گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مزدور کا بچہ سکول میں جائے نہ کہ بھٹہ پر مٹی کی اینٹیں بنائے۔

اس آرڈیننس کے جار ی ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے اپنی پوری مشینری کو متحرک کیا اور اس آرڈیننس پر عمل در آمد کیا جس کی صورت میں پنجاب بھر میں قائم اینٹوں کے 2517بھٹوں کو چیک کیا گیا جن میں سے 5سو سے زائد بھٹوں پر چائلڈ لیبر کی خلاف ورزی پائی گئی۔ 498بھٹہ مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے 472مالکان کو گرفتار کیا گیا اور 201بھٹوں کو سیل کیا گیا۔ حکومت پنجاب کے اس اقدام کے باعث 22,368بچوں کو بھٹوں پر سے کام چھڑوا کر سکولوں میں داخل کروا دیا گیا۔صوبائی دارالحکومت میں ڈی سی او لاہور کیپٹن(ر) محمد عثمان اور سی سی پی او لاہور امین وینس نے خود لاہور کے بھٹوں پر چھاپے مارے اور تقریباً ڈیڑھ سوسے زائد بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا۔31بھٹوں کو سیل کر کے 17مقدمات درج کئے گئے۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے اس احسن قدم کو معاشرہ کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے فرد نے سراہا ہے اور کمسن بچوں کو جسمانی معذوری اور اَن پڑھ رہ جانے سے بچایا ہے۔اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کا تو مکمل خاتمہ ممکن ہوتا ہوا نظر آرہا ہے لیکن دیگر مینو فیکچر کمپنیوں سے بھی چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات کو مزید بہتر بنانیکی ضرورت ہے۔ اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے سے یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ حکومت چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہے۔

مزید :

کالم -