تین اسمبلیوں میں بیک وقت ہنگامہ آرائی؟

تین اسمبلیوں میں بیک وقت ہنگامہ آرائی؟

  

قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعرات کو زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ارکان نے ایک دوسرے کو تھپڑ اور مُکے مارے، گالیاں دیں پورا ایوان اکھاڑہ بن گیا۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔بیچ بچاؤ کرانے والے بھی پٹ گئے۔ سیکیورٹی گارڈز کو مداخلت کرنا پڑی۔اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن شاہ محمود قریشی وزیراعظم کے خلاف استحقاق کی تحریک پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے وزیراعظم کے خلاف نعرے لگوانے شروع کر دیئے، جس کے جواب میں حکومتی ارکان نے جوابی نعرے بازی شروع کر دی۔ نعرہ بازی کے اس شور میں وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اپوزیشن بنچوں کی طرف آئے تو شاہ محمود سے تکرار شروع ہو گئی اس دوران تحریک انصاف کے شہریار آفریدی اور مراد سعید ان پر جھپٹ پڑے، ہاتھا پائی شروع ہو گئی جسے روکنے کے لئے بعض حکومتی اور اپوزیشن ارکان آگے آئے تو اپوزیشن کی طرف سے سرکاری ارکان کو دھکے دیئے گئے۔ اس دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر مکّوں کی بارش شروع کر دی گئی۔ بعض ارکان بیچ بچاؤ کے لئے آئے لیکن ان کی کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ امجد نیازی نے شاہد خاقان عباسی کو تھپڑ رسید کیا جس کے جواب میں معین وٹو نے امجدنیازی کو تھپڑ مار دیا۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایوان میں شاہ محمود قریشی سے مخاطب ہو کر کہا شاہ صاحب ایوان کا ماحول بہت اچھا تھا آپ کو تحریک استحقاق پر بات کرنے کا وقت دیا گیا لیکن آپ نے اشتعال دلایا اور وزیراعظم کے خلاف نعرے لگوائے، سپیکر نے ارکان کو پرامن رہنے کی تلقین کی تاہم نہ ماننے پر اجلاس کی کارروائی 15منٹ کے لئے معطل کر دی۔ بعدازاں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

ایوان سے باہر سیاسی ماحول میں جو تلخی فضا میں رچی بسی ہے ہمیں خدشہ تھا کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو ایوان کا ماحول بھی متاثر ہو گا چنانچہ یہی ہوا، سپیکر ایاز صادق نے اپنے خطاب میں اس تلخی کا ذمہ دار تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کو قرار دیا جنہوں نے وزیراعظم کے خلاف تحریک استحقاق پر خطاب کرتے ہوئے آخر میں وزیراعظم کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بھی لگوا دیئے اب اگر شاہ صاحب کا یہ خیال تھا کہ اس نعرہ کا جواب نہ ملے گا تو درست نہیں تھا، نعروں کا جواب نعروں سے دیا گیا تو ماحول کشیدہ ہو گیا۔ اور بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی، تھپڑوں اور گھونسوں تک پہنچ گئی، اس واقعہ نے قومی اسمبلی کے معزز ارکان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا، پوری قوم اپنے نمائندوں کی ان اوچھی حرکتوں پر طرح طرح کے تبصرے کر رہی ہے۔ ارکان اسمبلی اگر یہ تبصرے پڑھ اور سن لیں تو انہیں احساس ہوگا کہ خلقِ خدا ان کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے۔سیاست ایک فائن آرٹ ہے لڑائی مار کٹائی سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں سیاست میں اختلاف رائے سلیقے کے ساتھ ہونا چاہیے لیکن جب سے جلسوں میں مخالفین کے خلاف دشنام آمیز الفاظ استعمال کرنے کا رواج ہوا ہے اور بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اس وقت سے تصادم کے خدشات بھی موجود ہیں۔اسمبلی کے ایوان کا اپنا ایک وقار ہوتا ہے جسے ملحوظ خاطر رکھناہر رکن پر لازم ہے۔ لیکن جب دوسروں کے جذبات کا احترام کئے بغیر ایوان کو نعروں سے گرمایا جائے گا تو پھر اسی طرح کے بد صورت مناظر دیکھنے کو ملیں گے جس طرح گزشتہ روز کے اجلاس میں سامنے آئے، اخبارات میں اس ہنگامے کی جو رپورٹنگ سامنے آئی ہے اس میں یہ اتفاق موجود ہے کہ ہنگامے کا آغاز اشتعال انگیز نعروں سے ہوا تھا جو شاہ محمود نے لگوائے ۔شاہ محمود طویل عرصے سے سیاست میں ہیں، ان کے والد بھی پنجاب کے گورنر رہے۔ وہ گدی نشین پیر بھی ہیں ان سب حیثیتوں کے پیش نظر ان سے اس روئیے کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔تاہم سپیکر نے ہنگامے کی ویڈیو بھی منگوالی ہے اور تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے جس میں حقیقت حال بھی واضح ہو جائے گی۔ لیکن نرم سے نرم الفاظ میں اس واقعے کو افسوسناک ہی قرار دیا جائے گا اور اس میں ملوث لوگوں کے روئیے کو سراہنا بہت مشکل ہے۔

گزشتہ روز ہی پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بھی ہنگامہ ہو گیا اور یہ ہنگامہ بھی اسی نعرے کی وجہ سے ہوا جو نعرہ قومی اسمبلی کے ایوان میں لگایا گیا تھا تو کیا ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا محض اتفاق ہے کہ ایک ہی نعرہ دونوں جگہ اشتعال کا باعث بن گیا۔ نعرے کی ابتدا پنجاب اسمبلی میں بھی تحریک انصاف نے کی، بظاہر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ہنگامہ آرائی سے پہلے کسی نہ کسی جگہ مشاورت کی گئی۔ جمعرات کو ہی کے پی کے اسمبلی میں بھی ہنگامہ ہو گیا۔ لیکن وہاں اس کی وجہ مختلف تھی۔ اسمبلی میں کورم پورا نہیں تھا جب تک کوئی رکن نشاندہی نہ کرے اجلاس کی کارروائی چلتی رہتی ہے لیکن پیپلزپارٹی کے ایک رکن نے جب کورم کی نشاندہی کر دی تو جماعت اسلامی کے ایک رکن نے اس کا بُرا منایا اور یوں ہنگامے کی ابتدا ہو گئی حالانکہ کورم کی نشاندہی کرنا کوئی گناہ نہیں ہے اور اگر کوئی رکن حاضری کم دیکھے تو سپیکر کی توجہ اس جانب مبذول کرا سکتا ہے اس طرح پیپلزپارٹی کے رکن نے نشاندہی کرکے کوئی ایسا جرم تو نہیں کیا تھا جس کا بُرا مناکر ہنگامہ کھڑا کیا جاتا لیکن لگتا ہے معاشرے میں برداشت کا جو کلچر مجموعی طور پر ختم ہوتا جا رہا ہے اس کے اثرات اسمبلیوں کے اندر تک جا پہنچے ہیں اور ارکانِ اسمبلی اجلاس کے دوران بیٹھ کر تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور بیٹھے بٹھائے بھڑک اٹھتے اور ہنگامہ آرائی پر اتر آتے ہیں۔

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے اسمبلی کے اندر پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کا اجلاس بلایا ہے توقع یہی ہے کہ وہ ان رہنماؤں کو یہی تلقین کریں گے کہ وہ ایوان کے فلور پر اپنی بات ڈھنگ سے کہیں اور دوسروں کی بات سنیں، ہنگامہ آرائی کرکے وہ اسمبلیوں کے امیج کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ معاملہ جلد رفت گزشت ہو جائے گا لیکن اہلِ وطن پر اس کے جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ طویل عرصے تک محسوس کئے جاتے رہیں گے،سیاستدانوں پر پہلے ہی طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے سیاستدان تضحیک اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنتے ہیں۔ سیاسی حکومتوں کے خاتمے کے مطالبے کا پس منظر بھی یہی ہوتا ہے کہ قومی امور کے بارے میں سیاستدانوں کا ویژن بہت محدود ہے اور وہ ہر وقت ذاتی کاموں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور جتنا پیسہ خرچ کرکے ایوان میں پہنچتے ہیں اس سے زیادہ کمانے کے چکروں میں ہر وقت الجھے رہتے ہیں انہیں ملک و قوم کے مسائل کا ادراک ہے نہ ان کے حل میں ان کی کوئی دلچسپی ہے وہ ہر وقت ذاتیات پر اترے رہتے ہیں مخالف رہنماؤں کو گالیاں دیتے ہیں جواب میں ان کے مخالفین ان کے لیڈر یا لیڈروں کو بُرا بھلا کہتے ہیں یہ سب کچھ قومی اسمبلی ، پنجاب اسمبلی اور کے پی کے اسمبلی کے ایک ہی روز ہونے والے ہنگاموں کے دوران کھل کر پوری قوم کے سامنے آ گیا معلوم نہیں سیاستدان اپنے دامن کے اس داغ کو کیسے دھوئیں گے یا پھر انہیں اس سیاسی نقصان کا اندازہ ہی نہیں جو ان کے اس طرزِ عمل سے سیاست، سیاسی جماعتوں اور معزز ایوانوں کو پہنچ چکا ہے۔

مزید :

اداریہ -