کرکٹ ٹیم کا مستقبل؟

کرکٹ ٹیم کا مستقبل؟
 کرکٹ ٹیم کا مستقبل؟

  

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی گئی ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کے نتیجے میں کرکٹ ٹیم میں تبدیلیاں لازم ہو چکی ہیں ان میں پہلی تبدیلی ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ ٹیموں کے کپتانوں کی ہوگی اس کے بعد کھلاڑیوں کی باری آئے گی، یقینی طور پر بہت سی تبدیلیاں ہوں گی اگر کچھ نہیں ہوگا تو بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کے علاوہ دیگر پیر تسمہ پاء حضرات کا نہیں ہوگا اور یہ سب جوں کے توں موج اڑاتے رہیں گے، کہ ان کو تو میدان میں جا کر کھیلنا اور زخمی نہیں ہونا ہوتا۔ابتدائی طور پر جو ’’مصدقہ خبر‘‘ گردش کررہی ہے وہ یہ ہے کہ وکٹ کیپر سرفراز احمد پر قسمت کے دروازے کھلنے والے ہیں اور وہ ٹی۔20 ٹیم کے بعد پہلے ون ڈے ٹیم اور پھر ٹیسٹ ٹیم کے بھی کپتان ہوں گے اور’’لوٹ پیچھے کی طرف اے، گردش ایام تو‘‘کے مطابق طویل وقفے کے بعد تینوں فارمیٹ کا ایک ہی کپتان ہوگا، کہ سرفراز احمد کو ہر مرض کا علاج قرار دے دیا گیا ہے ، اسی لئے تو یہ سب کیا جارہا ہے، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، قصور خود محمد حفیظ اور اظہر علی کا ہے جو حالات کے مطابق کنٹرول نہیں کر سکے، حفیظ کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا تو اظہر علی بطور کپتان سب سے زیادہ میچ ہارنے والے سربراہ بن گئے رہ گئے محترم مصباح تو ان کا جرم بھی نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز اور اس دوران آؤٹ آف فارم ہونا ہے ، پہلے تو ان کو ’’ امرت دھارا‘‘ قرار دیا جارہا تھا لیکن اب شہر یار خان پر منکشف ہوا کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں اور اب ان کو ریٹائر ہو ہی جانا چاہئے کہ ان کے سامنے آم چورن کی شکل میں سرفراز احمد تو ہیں، ان کو تینوں فارمیٹ کا کپتان بنا دینے سے ان کی جان تو چھوٹ جائے گی اور جو لابی قومی کرکٹ کو کراچی زونل کرکٹ بنانا چاہتی ہے وہ مطمئن ہو جائے گی اور شہر یار خان کو اپنی میعاد کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

یہ عجیب بات ہے کہ مرض کی تشخیص اور اس کا علاج سوچے بغیر مریض کو زہر دے کر نجات حاصل کر لینا ہی عقل مندی تصور کیا جارہا ہے، حالانکہ ٹیم کی ناکامی کے بارے میں پوری تحقیق اور جستجو کی ضرورت ہے یہی ٹیم اور یہی کھلاڑی تھے جنہوں نے امارات میں ہوم سیریز کھیل کر ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کیا اور یہیں آسٹریلیا سے بھی جیتے، لیکن نیوزی لینڈ جاتے ہی سب مٹی کے مادھو ثابت ہوئے، اور دونوں فارمیٹ میں شکست کا سامنا کیا، ایک میں وائٹ واش اور دوسری سیریز چار ایک سے ہار گئے، بہتر ہوتا کہ اصل وجوہ تلاش کی جاتیں۔

جہاں تک نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دوروں کے دوران کھلاڑیوں کی پرفارمنس کا تعلق ہے تو کبھی کے دن بڑے، کبھی کی راتیں والا معاملہ ہے، کہیں باولر چلے اور کہیں بلے بازوں کی بن آئی، جس میچ میں دونوں کا کھیل بہتر تھا وہ جیت لیا گیا باقی سب میں شکت ہوئی، اب ذرا اندازہ لگائیے، وہاب ریاض اپنی نو بال کی عادت سے چھٹکارا نہیں پاسکے، محمد عامر نفسیاتی دباؤ سے نجات نہیں حاصل کرپا رہے، بقول وسیم اکرم ان کے گیند کی رفتار تو برقرار اور درست ہے لیکن وہ بال کو سوئنگ نہیں کر ا پارہے، اس پرمستزاد یہ کہ فیلڈروں نے ان کی گیندوں پر کیچ چھوڑ چھوڑ کر ان کو خاصا مایوس کیا، سہیل خان کی نہ کوئی رفتار اور نہ ہی گہرائی ہے، قسمت ساتھ دیتی تو وکٹ حاصل کرلیتے تھے لیکن ان کی فٹنس مسئلہ رہی، اسی طرح ایک ایک کا جائزہ لیں تو ایسی ہی صورت حال نظر آئے گی، بلے بازوں کا بھی یہی حال ہے یونس خان بہت بڑے کھلاڑی اور اب کپتان بننے کی خواہش بھی ظاہر کر چکے ہیں، ان کا یہ حال ہے کہ پانچ اننگز میں دس کا ہندسہ مشکل سے پار کرتے ہیں اور پھر اگلے میچ میں قدرت مہربان ہوتی اور وہ سکور کر لیتے ہیں، عرصہ سے ان کے ساتھ یہی ہو رہا ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ریٹائر نہیں ہوں گے ان کو علم ہے کہ کوئی سیکٹر اور بورڈ ان کو باہر نہیں کر سکتا، پھر مصباح کا کیا قصور کہ وہ آؤٹ فارم ہوا ہے تو اسے فارغ کرنے کا سوچ لیا گیا اور اب اسے ریٹائر منٹ پر آمادہ کیا جارہا ہے۔

ٹیم کی یہ حالت نئی نہیں، یہ ’’شاہین‘‘ ایک سے زیادہ بار ایسا احساس دلاچکے ہیں کہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں اگر ایسا ہے تو پھر کیا ٹیم آسمان سے اترے لوگوں سے بنے گی جو فتوحات کرتی چلی جائے گی،آسٹریلیا میں جو ہوا وہ افسوسناک ہے، عرفان کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ واپس آگئے لیکن سر فراز احمد کو جب والدہ کی علالت کے بارے میں پتہ چلا تو وہ فوراً واپس آگئے، اور پھر پلٹ کر نہیں گئے کہ بنی بنائی عزت جانے کا سوال تھا، اب وہ کپتانی کے مضبوط امیدوار ہیں، یوں کپتانی کراچی چلی جائے گی، پھر اور بھی بہت کچھ ہوگاہم سمجھتے ہیں کہ یہ حل نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ٹیم میں سیاست ہوتی رہے گی اور ٹیم پھر بھی ہارتی رہے گی، ضرورت تو یہ ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے لئے خواہش رکھنے والے کھلاڑی بھی اپنا فرض ادا کریں اور تن، من سے جیت کے لئے لڑیں، اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک کی وکٹوں( میچ) کے مطابق ملک میں ساز گار وکٹیں بنانے اور پھر ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو نچلی سطح اور یونیورسٹی سے سکول کی سطح پر بھی لانا ہوگا، کہ گھر سے پکے ہو کر نکلیں گے تو کچھ کر بھی گزریں گے۔کپتان بدل دینے سے ریجنل ایسوسی ایشن مطمئن ہو سکتی ہے لیکن مجموعی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی تجربہ کار سنیئر حضرات کو کھڈے لائن لگا کر کچھ ہوگا، بہتر عمل میرٹ اور میرٹ ہے، جب تک یہ رائج نہیں ہوگا، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

مزید :

کالم -