غیر فوجی کالم

غیر فوجی کالم
غیر فوجی کالم

  

جناب صولت رضا صاحب فوج کے اعلیٰ افسر رہے ہیں مگر ان کا اصرار ہے کہ ان کے کالموں کو ’’غیرفوجی کالم‘‘ سمجھ کر پڑھا جائے۔ ان سے پہلی ملاقات جناب مجیب الرحمن شامی کے پاس ہوئی۔ اس وقت وہ میجر تھے ۔ بعد میں بریگیڈیئر بننے کے بعد ریٹائرڈ بھی ہو گئے۔ مگر ہمیں ہمیشہ فوجی سے زیادہ ادیب اور کالم نگار نظر آئے۔ ان سے ادبی تعارف ان کی کتاب ’’کاکولیات‘‘ پڑھ کر ہوا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کیڈٹ کو کس طرح فوجی بنایا جاتا ہے؟ مگر انہوں نے اس عمل میں بھی نہ صرف مزاح تلاش کر لیا تھا بلکہ فوجی روایات کے خلاف وہ مزاح کو اپنی گفتگو کا حصہ بنانے سے بھی پرہیز نہیں کرتے تھے۔صولت صاحب بریگیڈیئر تھے۔ آئی ایس پی آر سے وابستہ تھے۔ ایک روز میں نے برادر شاہد کرمانی جو اب خود بھی ماشاء اللہ بریگیڈیئر بن چکے ہیں سے دریافت کیا کہ صولت صاحب کے آئی ایس پی آر کا سربراہ بننے کے کتنے امکانات ہیں؟ شاہد کرمانی سچ بولتے ہیں مگر ہمیشہ احتیاط سے بولتے ہیں۔ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے جو جواب دیا اس سے ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صولت رضا صاحب آئی ایس پی آر کے سربراہ بن سکتے ہیں۔ مگر اس میں ایک ہی بڑی رکاوٹ ہے اور وہ رکاوٹ خود ان کی ذات ہے۔ وہ شاید بہت بڑا فوجی بننے سے گریزاں ہیں۔ وہ زندگی سے مطمئن رہنے کا ہنر سیکھ چکے ہیں اور بڑی جگہوں پر سب کچھ ہوتا ہے اطمینان نہیں ہوتا۔

صدر ضیا الحق کے دور حکومت میں ہارس اینڈ کیٹل شو بڑے اہتمام سے ہوتا تھا۔ میری ڈیوٹی کمنٹری باکس میں تھی۔ صولت رضا صاحب بھی آتے تھے اور ان سے خوب گپ شپ رہتی تھی۔ صولت صاحب میں لطیفے کو شناخت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ وردی میں بھی لطیفہ ان کی نظر سے بچ کر نہیں جا سکتا۔ ایک دن کتوں کی دوڑ کے نتائج آئے۔ نتائج مرتب کرنے والے نے ’’جیتنے والے کتوں‘‘ کے عنوان کے نیچے کتوں کے مالکان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ خاصے معزز قسم کے سیاستدانوں‘ جاگیرداروں کو باقاعدہ کتوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا۔ صولت صاحب نے اس دلچسپ غلطی کو پہچان لیا اور کئی روز تک اس کا تذکرہ ہوتا رہا۔جناب صولت رضا صاحب نے فوجی معاملات پر لکھا ہے اور اس کو غیر فوجی قرار دے کر لکھا ہے۔ اگر وہ فوجی نہ ہوتے تو شاید زیادہ بڑے مزاح نگار ہوتے۔ ہمیں یہاں بھارت کے شاعر مجاز یاد آرہے ہیں۔ وہ ایک مشاعرہ پڑھنے کے لئے کشمیر گئے تو ایک کشمیری ادیب نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے کشمیر کا قدرتی حسن بھی دیکھا ہے؟ مجاز صاحب نے کہا کہ خوب دیکھا ہے۔ ان صاحب نے کہا تو گویا آپ قدرتی نظاروں سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ اس پر مجاز نے برجستہ کہا ’’کشمیر بہت خوبصورت ہے۔ میں نے اسے خوب دیکھا ہے ۔ لیکن اگر پہاڑ نہ ہوتے تو کشمیر کو دور تک دیکھتا۔‘‘ صولت صاحب اگر فوجی نہ ہوتے تو زندگی کے مزاح کو خوب دیکھتے مگر تب شاید بہت سے لوگ فوجی مزاح کو دیکھنے سے محروم رہ جاتے۔

جسٹس کیانی نے ایک کتاب لکھی تھی جس کے ٹائٹل کا ترجمہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ ’’جج ہنس سکتا ہے بلکہ وہ رو بھی سکتا ہے‘‘۔صولت صاحب کا کمال یہ ہے کہ فوج میں انہوں نے خوب ترقی کی مگر کسی عہدے کو اپنی شخصیت کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے گویا علم‘ تجربے اور مزاح سے ملاقات ہوتی ہے اور یہ ملاقات دوسری ملاقات کی خواہش پیدا کرتی ہے۔گزشتہ روز ان کے کالموں کا مجموعہ ’’غیرفوجی کالم‘‘ موصول ہوا تو ہمیں سید قاسم محمود بہت یاد آئے۔ وہ ایک ادبی جریدے کے مالک سے رسالہ نہ بھجوانے کا گلہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نہ تو مجھے ادیب سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی دوست۔ جناب صولت رضا صاحب کی کتاب ملتے ہی ہمیں جہاں ان کی دوستی پر یقین آیا وہاں اپنے کالم نگار ہونے کا بھی شبہ ہوا۔غیرفوجی کالم اس اعتبار سے دلچسپ اور اہم کتاب ہے کہ ایک باقاعدہ فوجی نے جرات کے ساتھ سچائی بیان کی ہے۔ وہ بات کو خوبصورتی سے کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اپنے ایک باس کے متعلق وہ رقمطراز ہیں ’’کچھ عرصے بعد وہ ڈائریکٹر آئی ایس پی آر تعینات ہوئے اور عہدہ سنبھالنے کے لئے پوری سروس میں پہلی مرتبہ آئی ایس پی آر کے دفاتر میں تشریف فرما ہوئے۔ ظاہری قد کاٹھ صدیق سالک کی مانند تھا جس سے دنیا کی نظروں میں آئی ایس پی آر کی یتیمی دور ہو گئی۔ البتہ پیشہ ورانہ بے بسی کا دورانیہ طویل سے طویل ہوتا چلا گیا اور میڈیا کی نظروں میں آئی ایس پی آر باوردی مزاح کا ایک منبع بن گیا۔ اس بیش قیمت مزاح کے شہ پاروں کو عام کرنے میں ذرائع ابلاغ کے دوستوں نے اہم کردارادا کیا۔‘‘

جنرل ضیاالحق کے دورحکومت پر تنقید کرنا ایک فیشن بن گیاہے۔ کوئی یہ تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ ان سے غلطی سے بھی کوئی اچھا کام ہو سکتا تھا۔2006ء میں لکھے جانے والے ایک کالم میں صولت رضا ضیاالحق کے متعلق اپنی شہادت ریکارڈ کراتے ہوئے لکھتے ہیں

’’ان کا جنازہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد حاضرین کی تعداد کے حساب سے سب سے بڑا جنازہ تھا۔ اکثر سامعین اور ناظرین کو وہ رقت آمیز مناظر آج بھی یاد ہوں گے جنہیں پاکستان ٹیلی ویژن پر آنکھوں دیکھا حال سنانے والے نامور تبصرہ نگاروں اظہر لودھی اور حسین حقانی کی ہچکیوں اور آہوں نے ’’حیات جاودانی عطا کر دی۔‘‘ ضیاالحق کی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ رقم طراز ہیں۔ ’’پاکستان کے نامور صحافی محمد صلاح الدین ایک مرتبہ محمد ضیاالحق سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ میں آئی ایس پی آر کی جانب سے ان کے ہمراہ تھا۔ قریباً ایک گھنٹہ ملاقات کے بعد دونوں کمرے سے باہر نکلے تو میں بھی اے ڈی سی کے دفتر سے نکل کر ساتھ کھڑا ہو گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ محمد صلاح الدین فوری انتخابات کے لئے دلائل دے رہے تھے اور جواب میں ایک دلآویز مسکراہٹ تھی۔ محمد صلاح الدین کے چند جملے تلخ بھی تھے لیکن جنرل محمد ضیاالحق کمال مہربانی سے پی گئے۔ ہم دونوں آرمی ہاؤس کے سادہ سے پورچ میں سرکاری گاڑی میں بیٹھ گئے تو ڈرائیور نے بتایا کہ کار بند ہو گئی ہے شاید دھکے کی ضرورت ہے۔ میں فوراً نیچے اترا۔ دو تین فوجی جوان بھی لپکے۔ لیکن ہم سب سے پہلے صدر‘ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور چیف آف آرمی سٹاف کا ہاتھ اپنے’’ نکتہ چین‘‘ کی کار پر تھا۔ گاڑی فوراً سٹارٹ ہو گئی۔ راستے میں محمد صلاح الدین نے کہا کہ یہ شخص اپنے رویئے سے دوسروں کو ’’ختم‘‘ کر دیتا ہے۔‘‘

صولت رضا صاحب کے غیر فوجی کالموں سے فوج اور سیاست کے درمیان تعلق کے بعض نازک پہلوؤں کی وضاحت ہوتی ہے۔ انہوں نے وارث میر صاحب کا ذکر محبت سے کیا ہے جنہوں نے ایک موقعہ پر صولت صاحب کی فوجی گاڑی اور اظہرزمان صاحب کی امریکی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا اور آٹو رکشہ میں جنگ کے دفتر سے گھر روانہ ہو گئے تھے۔ کالموں کے مجموعے دیکھنے کا تو اکثر اتفاق ہوتا رہتا ہے مگر یہ ایک ایسا مجموعہ ہے جس کو کتاب سمجھ کر پڑھا جا سکتا ہے اور لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سیکھا بھی جا سکتا ہے۔ تعلقات عامہ کے شعبہ سے وابستہ لوگوں کے لئے انہوں نے شگفتہ لہجے میں گر کی بہت سی باتیں بتا دی ہیں۔ شفیق الرحمن نے فوجی ہونے کے باوجود مزاح کی جو شاندار روایت قائم کی تھی صولت رضا صاحب نے اس میں خوبصورت اضافے کئے ہیں۔

مزید :

کالم -