عزتِ نفس اور توقیرِذات کی اہمیت و ضرورت

عزتِ نفس اور توقیرِذات کی اہمیت و ضرورت
 عزتِ نفس اور توقیرِذات کی اہمیت و ضرورت

  

ماضی میں جب دنیا اتنی تیز اور ترقی یافتہ نہیں تھی اور انسانوں کا ایک دوسرے کی محنت پر انحصار بہت زیادہ تھا تو انسانوں کا آپس میں اُنس و محبت کا رشتہ بھی اتنا ہی مستحکم تھا ۔ ایک دوسرے کے لئے دکھ درد کا احساس اور دکھ درد میں شرکت اور انتہائی قربت ، ایثار کا جذبہ بھی عیاں محسوس ہوتا تھا ۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خلوص کے رشتے ماند پڑرہے ہیں۔ ایثار کے جذبے ختم ہو رہے ہیں۔ اُنس و اپنائیت کے احساسات کا ادراک اور عملاََ اسکا اظہار بہت کم دکھائی دے رہا ہے ۔ اگر کہیں یہ احساسات نظر بھی آرہے ہیں تو انکے پیچھے خلوص اور ایثار کم اور ذاتی منفعت ، لالچ کے عوامل زیادہ کار فرما ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی عزت نفس ، توقیرذات اور انسانی احترام کے رویوں کے پیمانے بدل رہے ہیں۔ خلوص ، سچائی ، انسانی مساوات اور اقتدار کی جگہ فریب ، حرص ، حسد اور خود غرضی لے رہی ہے۔ انسان کا احترام انسان ہونے کی بنا پر نہیں کیا جار رہا بلکہ اسکے معاشرتی رتبے ، اختیار ، عہدہ اور وسائل کو دیکھ کر اسکے مطابق عزت و توقیر دی جاتیہے۔انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اﷲتعالیٰ نے انسان کو باقی تمام موجودات کے اوپر شرف و عزت کا اعلیٰ رتبہ اور مقام عطا کر کے پیدا کیا ہے ۔ فطری طور پر ہر انسان اپنے آپ کو بھی احترام کے لائق سمجھتا ہے اور دوسروں سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ اپنے ہوں یا پرائے اُن کے ساتھ احترام کا رویہ رکھے ۔ کوئی بھی انسان اپنی عزت نفس کو مجروح ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ۔ کوئی بھی انسان توقیر ذات کی نفی نہیں کر سکتا۔ ہر انسان چاہے بڑا ہے یا چھوٹا ، غریب ہے یا متمول، مرتبے اور عہدے میں بڑا ہے یا کم تر اپنی ذات پر حملے یا بے توقیری کو برداشت نہیں کر سکتااور ایسی کسی نا زیبا حرکت پر مرنے مارنے پر تیار ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ احترام کروانا اپنی جگہ ایک جائز حواہش ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ انسان خود بھی دوسروں کو احترام دے۔دوسروں کے وقار کا خیال رکھنا اپنے مزاج کا حصہ بنائے ۔ دوسروں کی عزت کرنا اپنے آپ پر لازم کرلے۔ اگر کوئی فرد اپنے طور پر اتنا مغرور ، متکبر ، انا پرست ، اکھڑ، بے حس اور لا پرواہ ہو کہ اسکے سامنے انسا ن کے عزت و احترام کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو تو وہ پھر کیسے دوسروں سے یہ توقع کرسکتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کی عزت نفس اور توقیر ذات کا خیال رکھیں۔ہمارے معاشرے میں مادہ پرستی کا غلبہ ہے یہاں انسان کے لئے احترام اور عزت کا پیمانہ اس کا رُتبہ ، اختیار ، عہدہ ، دولت اور بڑی گاڑی کے ساتھ آگے پیچھے گن مین اور بندوق برداروں کی موجودگی ہے ۔ یہاں غریب محنت کشوں کا کوئی احترام نہیں حالانکہ یہ لوگ دن رات معاشرے کو اپنی مہارتوں کے بل بوتے پر ان گنت فائدے پہنچانے میں مگن رہتے ہیں ہم کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے کہ مزارع ، دہقان ، باورچی ، ہاری، ڈرائیور، مکینک ، میسن اور گوالے کی محنت اور سعی کے بل بوتے پر ہماری زندگی کی عیاشیاں رواں دواں ہیں، ہم یہ نہیں سوچتے کہ چوک کے درمیان میں کھڑا ٹریفک کا سپاہی کوئی بڑی خدمت سرانجام دے رہا ہے ۔ یہ سپاہی بے چارہ سارا دن گرد اور دھوئیں کی زد میں رہتا ہے ۔ جون جولائی کی دھوپ اور دسمبر جنوری کے جاڑے میں برابر اپنی ڈیوٹی دیتا ہے اور ہمارے لئے راستہ بناتا ہے۔لیکن ہم اسے رشوت خور کے طور پرجانتے اور پہچانتے ہیں ۔ بحثیت انسان اسکی کوئی عزت اور تکریم نہیں ہوتی۔

ہمارے ہاں ہسپتالوں میں ڈاکٹر کی عزت ہوتی ہے۔لیکن کمپوڈر، ٹیکنیشن اور نرس کی عزت نہیں ہوتی۔ حالانکہ وہ رتبے اور پیشہ ورانہ تربیت کے لحاظ سے کم تر ہو کر بھی ڈاکٹر سے بڑی خدمت سرانجام دیتے ہیں ، ڈاکٹر معائنے کے لئے آکر پندرہ منٹ گزار کر چلاجاتاہے اور وہ رات بھر جاگ کر مریضوں کی خدمت کرتے ہیں۔ ہسپتال میں جب کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوجاتا ہے اور ہسپتال کے عملے کی لاپرواہی سے کوئی مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے تو جب لواحقین با اثر ہوتے ہیں اور انتظامیہ پر دباؤ آتا ہے ۔ انکوائری ہوتی ہے ۔ تو آخر میں کسی میل یا فی میل نرس کی معطلی پر معاملہ آکر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ بڑے رُتبے والوں کی کوئی غلطی نہیں ہوتی غلطی تو ہمیشہ نچلی سطح کے سٹاف سے ہوتی ہے۔ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ جب انسان کی بجائے پیسے کی عزت ہوگی تو لامحالہ رشوت خوری اور کرپشن مزید بڑھے گی ۔ کیونکہ جب عزت ، توقیر اور احترام کمانے کا ذریعہ صرف پیسہ ہوگا تو ہر کوئی اسے پیسے کے ذریعے حاصل کرنے کی تگ و دو میں شامل ہوگا اور یہ کام روٹین کا ایک جائزاور معمول کا کام سمجھا جائیگا ۔ جب رشوت خوری اور کرپشن برائی نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت سمجھی جا ئیگی تو پھر کو ئی ۔۔۔۔۔، کوئی خوف خدا کا احساس اور کوئی آخرت کا ڈر اسے نہیں روک سکے گا ۔ ایسی صورتحال میں قانون ، ڈنڈا، جبر اور حکومت بھی بے معنی اور لایعنی چیزیں بن جاتی ہیں ۔

دراصل سوچنے کی ضرورت اس امر کی ہے کہ ایثار ، خلوص اور محبت کس چیز کا نام ہے ۔ انسان کے ساتھ محبت کیا ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ ماں اپنے بیٹے کے غلط کام کو دیکھ کر بھی اسے محبت کرنا نہیں چھوڑتی، محبوب وہ ہوتا ہے جس کا خراب کام بھی ٹھیک نظر آتا ہے ۔ کیونکہ انسان حضرت آدم کی اولاد ہے۔چاہے وہ کمہار ہے یا لوہار ، آفیسر ہے یا ماتحت ، بااختیار ہے یا بے اختیار ۔ اس لئے اولادِ آدم کی حیثیت سے اسکا احترام لازم ہے۔انسان دوستی اور انسانیت کا حترام ہمارے دین اور خصوصاََ سیر ت رسول ﷺکا ایک خاصہ رہا ہے ۔ حضور ﷺ نے ہمیشہ بغیر کسی امتیاز کے ہر انسان کو احترام دیا ۔ بغیر کسی مذہبی تفریق کے غیر مسلموں کو بھی مسلمانوں کے برابر عزت و تکریم سے نوازا ۔ کسی انسان کے بے گناہ قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر جرم قرار دیا چاہے انسان مسلم ہو یا غیر مسلم ۔ لہٰذا ایک مسلمان اور ایک انسان دونوں حیثیتوں میں دوسرے انسانوں یا مسلمانوں کے ساتھ روزمرہ کے رویے بہتر کرنے کی اشد ضرورت اس دور میں شدت سے محسوس ہو رہی ہے ۔ عموماََ ہمیں صرف دوسروں کی خامیاں نظر آتی ہیں ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب سے پہلے شعوری طور پر اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنی خامیوں پر نظر رکھنے اور انہیں دور کرنے کی سعی کریں۔اس کاوش کی بنیاد پر ہمارا معاشرہ سدھرے گا اور معاشرتی خرابیاں دور ہونگیں۔

مزید :

کالم -