ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات

ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات
 ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات

  

20جنوری کو امریکی صدرات کا حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ آئے روز ایسے ایسے احکامات جاری کر رہے ہیں جن پر پوری دنیا حیرت کا اظہار کر رہی ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ کئی مضحکہ خیز نوعیت کے دعوے کرتے تھے تو اس وقت ری پبلکن پارٹی کے سنجیدہ عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے سیاسی مخالفین بھی یہ موقف اختیار کرتے تھے کہ چونکہ ٹرمپ کبھی بھی کسی انتظامی عہدے پر فا ئز نہیں رہے، اس لئے ان کو انتظامی پیچیدگیوں کا صحیح اندازہ نہیں ہے، وہ جیسے ہی صدارتی عہدے کا حلف اٹھائیں گے تو ان کو انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں پر نظر ثانی کر نا پڑے گی۔اگر سیاسی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس دعوے میں ایک حد تک صداقت بھی نظر آتی ہے، کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بڑے بڑے تصوریت پسندیا آدرش پسند نظریات رکھنے والے افراد کو جیسے ہی اقتدار نصیب ہوا،ان کی تصوریت پسندی کو عملیت پسندی نے نگل لیا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے 20جنوری سے لے کر اب تک کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران کئے گئے انتہائی خطر ناک اورمضحکہ خیز وعدوں کو پورا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے روز جو تقر یر کی، یہ کسی بھی طورپرایک مہذب ملک کے سربراہ کی تقر یر نہیں لگ رہی تھی۔ ٹرمپ نے اس تقریر میں جو زبان استعمال کی، اسے ایک فاشسٹ حکمران کی زبان قرار دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی فاشسٹ رہنما کی طرح ٹر مپ نے امریکی سرمایہ داری نظام کی داخلی کمزوریوں کی بجائے امریکہ کے معاشی مسائل کا ذمہ دار دوسرے ملکوں کو ٹھہرایا جو ٹرمپ کے الفاظ میں امریکہ کی وجہ سے امیر ہوتے جا رہے ہیں۔ (ٹرمپ کا اشارہ چین کی جانب تھا)۔

اوباما کئیر(اومابا کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے صحت کے قانون) میں ترمیم کے احکامات کے اثرات تو امریکہ تک ہی محدود رہیں گے، مگر دوسرے کئی اقدامات سے تو عالمی سطح پر بھی بہت منفی اور گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جیسے اب کئی ممالک کے امیگرنٹس کی امریکہ میں داخلے پر پا بندی اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے احکامات۔امریکی میڈیا کا بہت بڑا حصہ ان احکامات کو غیر جمہوری، بلکہ فاشزم سے تعبیر کر رہاہے۔امیگرنٹس کے خلاف معاملات کو ٹرمپ کے سیکرٹری آف ہوم لینڈ سیکیورٹی جان کیلی ہی دیکھیں گے جو امریکی سدرن کمانڈ کی سربراہی بھی کر چکے ہیں اور اسی مناسبت سے لاطینی امریکہ میں پینٹاگون کے آپریشنز کی نگرانی بھی کر چکے ہیں۔کیلی کی تعیناتی سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ اب امریکہ کے لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ہی دیکھنے میں آئے گی۔خود امریکہ کے اندر ٹرمپ کے اس فیصلے کی اس بنا پر بھی مخالفت کی جا رہی ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقاتی رپورٹس سے ثابت ہو رہا ہے کہ گزشتہ بیس سال کے عرصے سے میکسیکو کی جانب سے وہاں کے شہریوں کی امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخلے میں بہت زیا دہ کمی آ چکی ہے، ایسے میں دوسرے کئی مسائل کو ترجیحی بنیا دوں پر حل کرنے کی بجائے اس مسئلے پر ضرورت سے زیا دہ زور دینے کو ٹرمپ کی نسل پرستی پر مبنی سیاست ہی قرار دیا جا رہاہے۔سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس دیوار کو بنانے کے لئے 10 سے 25 ارب امریکی ڈالرز کے درمیان جو خرچ آئے گا،یہ خرچ بھی میکسیکو سے ہی وصول کرنے کی بات کی جارہی ہے، تاہم اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میکسیکو نے ایک مرتبہ پھر اس رقم کو ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری طرف شام، عراق، ایران، لیبیا ،صومالیہ ،سوڈان اور یمن کے شہریوں پر امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی لگانے کے بھی انتہائی منفی نتائج مرتب ہوں گے۔ مٹھی بھر دہشت گردوں کے جرائم کے لئے کسی پوری قوم کومورد الزام ٹھہرانا کسی بھی طور متوازن رویہ نہیں ہے۔ گزشتہ 15سال کے عرصے میں امریکہ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں ان سات میں سے کسی ملک کے شہری کا کوئی کردار نہیں ہے،2015ء میں’’ سان برنا ڈینو‘‘ میں ہونے والی 14 ہلاکتوں کا ذمہ دار خود امریکہ میں پیدا ہونے والا شہر ی تھا۔ جون 2016ء میں’’آرلینڈو‘‘کے نائٹ کلب پر حملے میں49افراد کو مارنے والا شخص بھی امریکہ میں ہی پیدا ہوا۔’’بوسٹن میراتھن‘‘ میں بم حملے کرنے والا فرد نسلی طور پر چیچنیا کا تھا جو کرغیزستان کے راستے امریکہ میں داخل ہوا تھا۔ 2015ء میں ’’ٹینیسی‘‘ میں 4 امریکی فوجیوں کو مارنے والے شخص کا تعلق فلسطینی خاندان سے تھا۔ ’’فورٹ ہوڈ‘‘ میں 13افراد کو ہلاک کر نے والا نیدال حسن بھی ورجینیا (امریکہ) میں ہی پیدا ہوا تھا۔سب سے بڑھ کر 9/11 حملوں میں خود امریکی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق 15ہائی جیکروں کا تعلق سعودی عرب، 2کا متحدہ عرب امارات سے ، 1کا لبنان اور 1کا مصر سے تھا، یہ ممالک 9/11تک امریکہ کے حلیف ممالک تصور کئے جا تے تھے تو پھر ان ممالک کے شہریوں نے امریکہ پر حملہ کیوں کیا؟خود مغرب میں دہشت گردی کے حوالے سے سنجیدہ ماہرین ایسے لا تعداد تھیسس اور مقالے پیش کرچکے ہیں جن سے ثابت ہو تا ہے کہ دہشت گردی کا اس دنیا کی کسی بھی قوم ، نسل، مذہب، فرقے ، رنگ اور علاقے کے ساتھ کوئی اجتما عی تعلق نہیں ہوتا۔ایسے میں چند مسلمان اکثریت کے حامل ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پا بندی لگانے سے ان ممالک میں امریکہ کے خلاف سخت ردعمل پیدا ہوگا۔دہشت گردوں کو اپنے ملک میں آنے سے روکنا دنیا کے ہر ملک کا بنیادی حق ہے، مگر دہشت گردی کو بنیا د بناکر کچھ ممالک کے تما م شہریوں پر ہی پا بندی لگاناسرا سر فا شسٹ رویہ ہے۔

صدر بننے کے بعد ’’اے بی سی نیوز ‘‘کو انٹر ویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ٹارچر (تشدد) کی حمایت کرتے ہیں۔کیا کسی مہذب ملک کے سربراہ کو اعلانیہ یہ کہنا زیب دیتا ہے کہ مقاصد کے حصول کے لئے تشدد کا ذریعہ اپنا یا جا سکتا ہے۔امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ایسے ڈاکومینٹس کی نشاہدہی کی ہے جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ ٹرمپ ، سابق امریکی صدر اوباما دور میں بند کئے گئے، سی آئی اے کے ٹارچر سیلوں کو ایک مرتبہ پھر کھولنے کا ارادہ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے ایک مرتبہ پھر کئی ممالک کے عقو بت خانوں کا بھی سہارا لیا جائے گا۔ ٹرمپ کے ایسے اقدامات سے دہشت گردی میں کمی آئے گی یا اضافہ ہو گا؟ اس کا اندازہ لگا نا با لکل بھی مشکل نہیں ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ ٹرمپ کی فاشسٹ سوچ کے خلاف یورپ کے کئی ملکوں کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کے بڑے شہروں میں بھی بہت بڑے بڑے عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔امریکی اخبارات کے مطابق بوسٹن میں 150,000، شکا گو میں 250,000 ،نیو یارک میں500,000، سینٹ پال میں 60,000 ونسکونسن میں 75000، اور ٹرمپ کی حلف وفا داری کی تقریب کے ایک روز بعد، یعنی ہفتے کے روز واشنگٹن ڈی سی میں خواتین کے مظاہرے میں 500,000 افراد نے شرکت کی۔ ان مظاہروں کو امریکی تاریخ کے بڑے مظاہرے قرار دیا جا رہاہے۔جیسا کہ اس آرٹیکل کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ٹرمپ کے مضحکہ خیز، بلکہ خطر ناک وعدے انتخابی مہم کے جلسوں تک ہی محدود رہتے تو کو ئی مسئلہ نہیں تھا ، مگر اب ایسا دکھا ئی دے رہا ہے کہ ٹرمپ نے مقبولیت اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے مہم جوئی پر مبنی جو وعدے کئے تھے، وہ ان کو پورا کرنا چا ہ رہا ہے۔دنیا کی کسی اور چھوٹی ، بڑی ریاست میں ٹرمپ جیسا کوئی دیوانہ اقتدار حاصل کرنے میں کا میاب ہو جا تا تو یہ اتنا سنگین مسئلہ نہیں تھا، مگر اس وقت پوری دنیا کے لئے یہ بات کسی خطرے سے کم نہیں کہ امریکہ جیسی عالمی طاقت کے اقتدار پر ٹرمپ فائز ہو چکاہے۔

مزید :

کالم -