غیر مستند دائیاں زچہ بچہ کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں،غیاث النبی

غیر مستند دائیاں زچہ بچہ کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں،غیاث النبی

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) پرنسپل جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا 52فیصد خواتین پر مشتمل ہے اور معاشرے میں خواتین اپنے مثانے اور پیشاب سے متعلق بیماریوں کو اکثر نظر انداز کرتی ہیں اور معا لجین سے رجوع کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے مزید پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔ لہذا اس حوالے سے خواتین کو علاج معالجہ کی سہولیات اور آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے وہ گزشتہ روز یورو گائنی سمپوزیم سے خطاب کر رہے تھے ۔تقریب میں پروفیسر ممتاز احمد ، پروفیسر محمد نذیر ، پروفیسر نزہت خواجہ اور پروفیسر فرحت ناز نے کہا کہ پیشاب کا بار بار آنا او ر غیر ارادی طور پر نکل جانا قطعاً نظر انداز نہیں کرنا چاہئے غیر مستند افراد جن میں دائیاں ، غیر تربیت یافتہ خواتین جو کہ زچگی کے عمل کے دوران ماں اور بچے دونوں کی صحت کو خطرا ت لاحق کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔ ان کی وجہ سے خواتین کو تمام زندگی پیشاب لیک ہو نے کی بیماری بھی لاحق ہو جاتی ہے ۔گائنی اور یورالوجی کے ماہرین نے مزیدکہا کہ سن یاس (پیشاب کی نالی کا سکڑ جانا ) اس سلسلے کی کڑی ہے ایسی بیماری میں مبتلا خواتین کو فوری معالج سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ تقریب کے اختتام پر سرٹیفیکیٹس اور شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں ۔ اس موقع پر پروفیسر خالد مسعود گوندل ، پروفیسر راشد لطیف ، ڈاکٹر غلام صابر ،ڈاکٹر شاہ جہان، ڈاکٹر سلیم ملک، ڈاکٹر کامران زیدی اور ڈاکٹر ذیشان وینس کے علاوہ لاہور سمیت صوبہ بھر کے نامور معا لجین بھی موجود تھے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -