پنجاب اسمبلی، کالج کمیٹی میں اپنا نام سوال پڑھ کر معلوم ہوا: حکومتی رکن کا انکشاف

پنجاب اسمبلی، کالج کمیٹی میں اپنا نام سوال پڑھ کر معلوم ہوا: حکومتی رکن کا ...

  

 لاہور (نمائندہ خصوصی )پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا ،اس سے قبل اپوزیشن نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والے پی ٹی آئی اور( ن) لیگ کے ممبران کے دوران لڑائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی،بی ایس نظا م تعلیم انٹر نیشنل فیم ہے اس کے ذریعے اب طلباء کو تعلیم دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے حکومت نے 2016میں ہائر ایجوکیشن میں 25سو خالی آسامیوں پر کی ہیں مزید3250کی سمر ی وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیج دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے10بجکر5منٹ پر سپیکر رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں محکمہ ہائر ایجوکیشن بارے میں پارلیمانی سیکرٹری مہوش سلطانہ نے جوابات دئے حاجی عمران ظفر کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ سرکاری تعلیمی ادارے سرکاری اراضی پر ہی تعمیر ہوتے ہیں کسی پرائیویٹ اراضی پر نہیں اور نہ ہی کسی پرائیویٹ ادارے کو سرکاری زمین الاٹ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو پی ایچ ڈی لوگوں کی بڑی کمی ہے اس کے لئے حکومت اقدامات کررہی ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس طرف مائل ہوں۔میاں طارق کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجز ملازمین ضرورت کے مطابق رکھے جاتے ہیں اور یہ مستقل نہیں ہوتے میاں طارق نے کہا کہ ڈیلی ویجز اور سرکاری ملازمین کی بھرتی کے لئے جو حکومتی پالیسی ہے وہ متنازع ہے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کالجز کے پرنسپل کو اس کا اختیار دینا غلط ہے اسی سے کرپشن جنم لیتی ہے میاں طارق نے ایوان میں یہ بھی انکشاف کیا کہ کالج کمیٹی میں میرا نام شامل ہے مجھے آج اسمبلی سوال پڑھ کر معلوم ہواانہوں نے کہا کہ ایوان میں بیٹھے کسی ممبر کو معلوم نہیں کہ وہ کسی کا لج کمیٹی کے بھی ممبر ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو یہ اختیار دینا غلط ہے اس پر نظر ثانی کی جائے۔وقفہ سوالات کے بعد اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ گذشتہ روز قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔رکن اسمبلی عظمی بخاری نے نکتہ اعتراض پر انکشاف کیا کہ سروسز ہسپتال کی ایک ڈاکٹر جو کہ سرکاری ملازم بھی ہے لیکن وہ ڈیوٹی ادانہیں کرتی اور اپنا پرائیویٹ کلینک چلاتی ہے ہسپتال کے عملہ سے اس کے بارے میں پو چھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ملک سے باہر گئی ہیں اس پر ایک تحریک استحقاق اگست میں جمع کروائی تھی اور میں سپیکر آپ کے کہنے پر خاموش بھی رہی لیکن آج تک اسے کیوں ایوان میں ٹیک اپ نہیں کیا گیا؟سپیکر ا نہیں بیٹھنے کے لئے کہتے رہے لیکن مذکورہ ممبر بڑے غصے والے انداز میں مخا ب ہوتے ہوئے بولی کہ اگر اتنے ہی بے بس ہیں تو وہ تحریک استحقاق ڈسپوز آف کردیں۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر کسانوں کو آلوکی فصل کی قیمت پوری نہیں مل رہی کسانوں کے ساتھ تعاون کریں جس پر سپیکر نے کہا کہ ان کی بات کو متعلقہ وزیر تک پہنچایا جائے ۔ سپیکر نے جیسے ہی سرکاری کارروائی شروع کرنی چاہی تو اپوزیشن کی رکن خدیجہ عمر فاروقی نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر کورم پورا نہ تھا پانچ منٹ تک کے لئے گھنٹیاں بجائی گئیں لیکن پھر بھی کورم پورا نہ ہوا تو سپیکر نے اجلاس30جنوری بروز پیر سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

علاقائی -