سی آئی اے کو خفیہ جیلیں نہیں بنانء دینگے ، پولینڈ اور لیتھوانیا کا اعلان

سی آئی اے کو خفیہ جیلیں نہیں بنانء دینگے ، پولینڈ اور لیتھوانیا کا اعلان

  

 وارسا(اے این این) پولینڈ اور لیتھوانیا نے اعلان کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشتبہ دہشت گردوں کو ملک سے باہر حراست میں رکھنے اور پوچھ گچھ کرنے سے متعلق سی آئی اے کے پرانے پروگرام کو دوبارہ شروع کیا تو وہ اپنے ملکوں میں امریکی ایجنسی کی خفیہ جیلیں بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔برطانوی خبر ایجنسی رائٹرزکی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی یورپ کے یہ دونوں ملک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اور نیویارک پر گیارہ ستمبر 2001کے حملوں کے بعد سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت کے دور میں امریکہ کو اپنے علاقوں میں جیلیں قائم کرنے کی اجازت دے چکے ہیں جو اب باقی نہیں رہیں۔امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نظرثانی کا حکم دے سکتے ہیں جو پرانے پروگرام کی بحالی کی طرف جاسکتا ہے۔اس طرح کے حراستی مراکز جہاں تفتیش کے دوران اکثر وقات تشدد کے حربوں سے کام لیا جاتا تھا، رومانیہ، تھائی لینڈ اور فغانستان میں بھی موجود تھے۔پولینڈ کی وزیر عظم بیتا شدلونے میڈیا کی جانب سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس سلسلے میں نہ تو کوئی تجویز دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی صورت میں میرا جواب انکار میں ہوگا۔لیتھوانیاکے وزیر خارجہ لنسا لنکوویس نے خبررساں ادارے رائٹرز بتایا کہ ان کا ملک سٹرٹیجک نوعیت کے مسائل پر امریکہ سے تعاون کے لیے تیار ہے لیکن انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت لوگوں کو تشدد کا ہدف بنانا ممکن نہیں ۔ یہ صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی تقاضا بھی ہے۔

پولینڈ ،لیتھوانیا

مزید :

علاقائی -