عائشہ ممتاز کامقدمہ

عائشہ ممتاز کامقدمہ
 عائشہ ممتاز کامقدمہ

  

عائشہ ممتاز پنجاب فوڈ اتھارٹی کی پہلی ڈائریکٹر نہیں تھیں بلکہ یہ بتانا ضروری ہے کہ اتھارٹی کی سربراہی کسی ڈائریکٹر نہیں بلکہ ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے پاس ہے، فوڈ اتھارٹی کا پنجاب والوں سے پہلا تعارف اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل اسد مانی کے ذریعے ہوا تھا، موصوف عجیب ڈھیلی ڈھالی شخصیت کے مالک تھے، ان سے جب بھی بات کی جاتی کہ فوڈ اتھارٹی قائم ہونے کے بعد مضر صحت خوراک تیار کرنے والوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا، ہمیشہ ایک ہی جواب ملتا، ہم قواعد و ضوابط تیار کر رہے ہیں، اسد مانی مالی طور پر شاید کرپٹ نہیں تھے مگر ان کی مصروفیات کا محور کچھ اور تھا اور پھر انہی قابل اعتراض مصروفیات نے انہیں رخصتی کی راہ دکھا دی۔عائشہ ممتاز پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر آپریشنز مقرر ہوئیں تو انہوں نے ہر طرف تھرتھلی مچا دی۔ میڈیا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور یوں لگا کہ تھڑوں سے پانچ ستاروں والے ہوٹلوں تک ہر جگہ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

عائشہ ممتاز کے مقدمے میں سب سے اہم اور مضبوط دلیل ہی یہی ہے کہ انہوں نے خوراک جیسی اہم شے میں گندگی، ناقص معیار اور ملاوٹ کے خلاف شعور بخشا، وہ میڈیا کو استعمال کرنا اور عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتی تھیں، عام آدمی جو محروم اور مجبور ہے ،وہ نفسیاتی طور پر ہرامیر شخص کو کرپٹ سمجھتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ دولت کا حصول جائز طریقوں سے ممکن ہی نہیں ،عائشہ ممتاز نے عوام کی اسی نفسیاتی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے وہاں ہاتھ ڈالا جہاں ماضی میں کوئی ہاتھ ڈالنے بارے سوچتا بھی نہیں تھا اور اگر ہاتھ ڈالا بھی جاتا تھا تو اس کی پروجیکشن نہیں ہوپاتی تھی۔ محترمہ نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے پہلے اورکہیں زیادہ سوشل میڈیا کو استعمال کیا۔ فیس بک پر اتھارٹی کے صفحے کے ذریعے ایسی ایسی تصویریں شئیر کی گئیں کہ عام آدمی کو یہ لگا کہ وہ ہوٹلوں میں سوائے گند کے کچھ نہیں کھا رہا، اس تاثر کی بالواسطہ سرپرستی کی گئی کہ ہوٹلوں میں بکرے کے نام پر گدھے کا گوشت پکایا اور کھلایا جاتا ہے اورا س امر کی بھی پرواہ نہیں کی گئی کہ اصل میں گدھا، بکرے سے کہیں زیادہ مہنگا جانور ہے اور گدھوں کو گوشت نہیں بلکہ اس کی کھال کے لئے چوری کیا جاتا ہے، گوشت تو اضافی منافع دے سکتا ہے مگر لاہور جیسے شہر کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ کھانے پینے کے شوقین زندہ دلوں کا شہرلاہور بری طرح بدنام ہو گیا۔

حکومتی ادارے اصلاح کے لئے کام کرتے ہیں، سزا بجائے خود ایک مقصد نہیں ہوتی بلکہ اصلاح کی منزل کے حصول کا راستہ ہوتی ہے مگر یہاں سزا کے اختیار کو اصلاح کی بجائے ذاتی شہرت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا۔اگر یہ دیکھا جائے کہ کسی بھی ادارے میں قوانین اور قواعد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تواس کے لئے سب سے پہلا طریقہ انہیں خبردار کرنا یعنی اصلاح کے لئے ایک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے نوٹس جاری کرناہے اور اگر اس ڈیڈ لائن تک بھی اصلاح نہ کی جائے تو پھر جرمانہ عائد کرنا ہے جو سینکڑوں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے بھی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اگلی ڈیڈ لائن دینا ہے لیکن اگر کوئی ادارہ اس کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے تو اسے سیل یعنی بند کیا جا سکتا ہے۔ عائشہ ممتاز نے انتہائی قدم سب سے پہلے اٹھایا، انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں اداروں کو سیل کرنا شروع کر دیا مگر وہ ڈی سیل کس طرح ہوتے تھے اس کا کسی کو پتا نہیں چلتا تھا۔ میڈیا بھیڑ چال کا شکار ہے۔ وہ کسی بھی ادارے کے سیل ہوجانے کی خبر تو چلاتا تھا مگر اس کے ڈی سیل ہونے کے بارے کچھ نہیں بتاتا تھا۔ ایسے میں اگر ڈائریکٹر صاحبہ کا ڈرائیور چند مہینوں میں ہی اپنے آبائی گاوں میں لاکھوں روپے مالیت کا گھر بنانے میں کامیاب ہو گیا تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ حیرت تو مجھے اس وقت بھی نہیں ہوئی جب ایک صحافی نے یہ پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی کہ عائشہ ممتاز کو سیاسی انتقام کانشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ ڈرائیور اکیلا نہیں تھا، اس کے پارٹنر کچھ اور بھی تھے۔ ایک شخص کے امپورٹڈ جام اور جیلی کے ٹرک پکڑ لئے گئے اور کہا گیا کہ یہ مضر صحت ہے، اس کے نمونے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے اور ٹرک دھوپ میں اتھارٹی کے احاطے میں بند کر دئیے گئے،رپورٹ ہفتوں بعد آنی تھی، وہ شخص روتا، چیختا اور چلاتا رہا کہ یہ اس کی عمر بھر کی کمائی ہے، اگر مال کو بند بھی کرنا ہے تو کسی کولڈ سٹوریج میں رکھا جائے اور اسے سیل کر دیا جائے مگروہ ٹرک دھوپ میں ہی کھڑے رہے اور لاکھوں روپے کا امپورٹڈ مال خراب ہو گیا۔

ڈائریکٹر صاحبہ کا پسندیدہ مشغلہ بڑے بڑے اداروں کو سیل کرنا تھا۔جب فوڈ اتھارٹی کے اختیار کی حدود محض لاہور شہر تک محدود تھیں محترمہ نے لاہور سے باہر ایک ایسی فیکٹری کو سیل کر دیا جس میں سات سو کے لگ بھگ کارکن کام کرتے تھے حالانکہ اس فیکٹری کو پہلے نوٹس دیا جانا اور پھر جرمانہ عائد کیا جانا چاہئے تھا مگر وہ فیکٹری ایک مہینہ بند رہی تومالکان نے کارکنوں کو تنخواہیں ادا کرنے سے معذرت کر لی اور یہ کہانی بہت جگہوں پر دہرائی گئی۔ لاہور کے مرکز میں برکت مارکیٹ کے پاس ایک معروف ریسٹورنٹ کو سیل کیا گیا تو اس کی بجلی کی سپلائی منقطع کرتے ہوئے تالے لگا دئیے گئے۔ ریسٹورنٹ کے مالکان کی طرف سے درخواست کی گئی کہ الیکٹرک سٹی کی سپلائی نہ روکی جائے کہ ان کے ایکوریم میں موجود درجنوں قیمتی مچھلیاں ہیں جو آکسیجن اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مر جائیں گی، پھر یہی ہوا کہ د س لاکھ مالیت کی وہ قیمتی مچھلیاں مر گئیں کیونکہ ڈائریکٹر صاحبہ کی خود پسند شخصیت کسی قسم کے قانون کی پابند نہیں تھی۔ وہ شہنشاہ تھیں اور شہنشاہوں جیسے ہی فیصلے کرتی تھیں۔میں نے ان کی طرف سے استعمال ہونے والی زبان ایک ویڈیو میں سنی جسے موبائل کے ذریعے بنایا گیا تھا۔ یہ ویڈیو کنزیومر رائٹس کے لئے کام کرنے والے ایک دوست کے پاس تھی۔ وہ جوزبان استعمال کر رہی تھیں وہ ایک مہذب مرد بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ شہرت کی بھوک کی انتہا اس وقت اپنے عروج پر تھی جب محترمہ نے راولپنڈی سے لاہور منگوائے جانے والے گوشت کو بغیر کسی لیبارٹری ٹیسٹ کے محض سونگھ کر ہی سور کا گوشت قرار دے دیا۔

میں پھر کہتا ہوں کہ اسد مانی کی ڈھیلی ڈھالی شخصیت کے بعد عائشہ ممتاز کسی بجلی کی طرح کڑکی اور لہرائی،اس نے لاہور میں ناقص خوراک کے خلاف شعورپیدا کیا مگر اس شعور کی قیمت لاہور کے بہت سارے کاروباری اداروں نے ادا کی جو قانون پر عمل کرنا چاہتے تھے مگر انہیں کبھی اس کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔ معروف ریسٹورنٹ تو فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کو برداشت کر گئے مگر بہت سارے ایسے بھی تھے جنہوں نے لاکھوں ہی نہیں بلکہ کروڑوں کی سرمایہ کاری کی، عائشہ ممتاز کے ایک چھاپے کی بدنامی برداشت نہیں کر سکے اوردیوالیہ ہو گئے۔ فوڈ اتھارٹی کو پہلے مرحلے میں آگاہی مہم چلاناچا ہئے تھی، اپنے سب رولز بنانا چاہئے تھے، ایک طریقہ کار وضع کرنا چاہئے تھا مگر عائشہ ممتاز صرف اداروں کو سیل کرنا جانتی تھیں کہ اسی سے شہرت ملتی تھی اور پھر بعد میں وہ ادارے ڈی سیل ہوجاتے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ عائشہ ممتاز اوراس کے ڈرائیور سے گٹھ جوڑ رکھنے والے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ منہ کی کھائیں گے کیونکہ لوگوں کو بہت جلد علم ہوجائے گا کہ بہتری کاروباروں کا گلا گھونٹ دینے میں نہیں بلکہ ان کے امراض کے علاج میں ہے۔میری نظر میں اس وقت پنجاب کی سب سے طاقت ور اتھارٹی ،فوڈ اتھارٹی ہی ہے مگر اس طاقت کا اگر غلط استعمال کیا جائے گا تو اس سے نہ لاہور اور پنجاب بدنام ہو گا بلکہ یہاں کے کاروبار بھی تباہ ہوں گے۔اگر کوئی یہ تصور دیتا ہے کہ لاہوری گدھے کا گوشت کھاتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ لاہور میں تو چیکنگ کا نظام مرتب ہو چکا، اس کا دائرہ کار دوسرے شہروں تک بھی بڑھایا جا چکا مگر پشاور، کوئٹہ اور کراچی کے لوگ کیا کھاتے ہیں؟ اس بارے تو ابھی کسی نے جاننے کی کوشش تک نہیں کی۔

عائشہ ممتاز کے مقدمے میں ایک پلڑے میں اس کی وہ خدمات ہیں جو اس نے شعور اجاگر کرنے اور ناقص خوراک تیار کرنے والوں کونکیل ڈالتے ہوئے سرانجام دیں لیکن دوسرے پلڑے میں مک مکا نہ کرنے والوں کے کاروباروں کی تباہی اور ڈرائیوروں تک کے لکھ پتی ہوجانے کی کہانیاں ہیں۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ کس پلڑے کو دوسرے سے زیادہ وزنی دیکھتے ہیں۔

مزید :

کالم -