عدالت بھی قومی اسمبلی بن گئی ، وکلاء کا تصادم تھپڑ ، مکے اور گالیاں

عدالت بھی قومی اسمبلی بن گئی ، وکلاء کا تصادم تھپڑ ، مکے اور گالیاں

  

 لاہور(نامہ نگار)سیشن عدالت میں ججز سے بدکلامی کے واقعات کے بعد اب وکلاء کے آپس میں ہی لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے ،قتل کے مقدمہ کی پیروی کے لئے ایڈیشل سیشن جج سعد رفیق کی عدالت میں پیش ہونے والے وکلاء کولڑنے کے لئے کوئی نہ ملا تو وہ آپس میں ہی الجھ پڑے جس کی وجہ سے کمرہ عدالت میدان جنگ بن گیا۔ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں 12جنوری 2017ء کی عدالت میں ہنگامی آرائی کی ایک اور فوٹیج سامنے آگئی ہے جس میں ایک قتل کے مقدمہ کی سماعت جاری تھی کہ مدعی مقدمہ کے وکیل نے تلخ کلامی پر ملزم کے وکیل کے منہ پر تھپڑ دے مارا جس کے جواب میں ملزم کے وکلاء نے بھی مدعی مقدمہ کے وکیل پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کر دی،اس موقع پر کیا قانون کی کتابیں اور کیا مقدمات کی فائلیں جس کے ہاتھ میں جو آیا اس نے دوسرے کو دے مارا ،واضح رہے کہ عدالتی تقدس پامال کرنے میں وکلاء صرف لاتوں اور گھونسوں تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے پرکرسیوں سمیت ہر چیزکابے دریغ استعمال کیا گیاجس کے باعث 3 وکلاء بھی زخمی ہو گئے۔کمرہ عدالت میں موجودسینئرز نے لڑائی کرنے والے وکلاء میں بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی مگر وہ بھی ناکام رہے ،یاد رہے کہ وکلاء کی طرف سے عدالتی تقدس پامال کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی وکلاء کی طرف سے سائلین اورپولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا چکے ہیں جبکہ فاضل ججز کے ساتھ بھی بدتمیزی اور بدکلامی کے واقعات رونما ہوئے ہیں ،اس کے باوجود پنجاب بار کونسل وکلاء برادری کے لئے بدنامی کاباعث بننے والے چند ایسے وکلاء کے خلاف کارروائی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

مزید :

صفحہ اول -