تنزلی کا شکار پولیس افسروں کی سابق عہدوں پر بحالی کا معاملہ ، بیورو کریسی اور 2اہم حکومتی شخصیات میں ٹھن گئی

تنزلی کا شکار پولیس افسروں کی سابق عہدوں پر بحالی کا معاملہ ، بیورو کریسی اور ...

  

لاہور(سعید چودھری )سپریم کورٹ کی طرف سے آؤٹ آف ٹرن ترقیوں کوکالعدم کئے جانے کے فیصلہ کی روشنی میں تنزلی کا شکاردرجنوں پولیس افسروں کی سابقہ عہدوں پربحالی کے معاملے پربیوروکریسی اورپنجاب حکومت کی دو اہم شخصیات کے درمیان رسہ کشی شروع ہوگئی ہے ،انتہائی ذمہ دار ذرائع نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا اور وزیراعلیٰ کے سیکرٹری (امپلیمنٹیشن)امداد اللہ بوسال سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد اوران افسروں کی تنزلی کے حامی ہیں جبکہ صوبائی وزیرقانون رانا ثنا ء اللہ اور وزیراعلیٰ کے خصوصی معاون رانا مقبول ان افسروں کی سابقہ عہدوں پر بحالی کے لئے سرگرم ہیں ،اس سلسلے میں دونوں دھڑے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ان پر واضح کردیا ہے کہ قانون کے منافی کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے ۔آئی جی مشتاق سکھیرا اور سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ امداد اللہ بوسال عدالتی حکم پر تنزلی پانے والے پولیس افسروں کی سابقہ اعلیٰ عہدوں پر بحالی نہیں چاہتے اور وہ اس ضمن میں کسی قسم کی مقدمہ بازی میں الجھنے سے اجتناب برت رہے ہیں جبکہ رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول کا موقف ہے کہ اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر آؤٹ آف ٹرن ترقی پانے والے افسروں کی تنزلی سے پولیس فورس کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ذرائع کے مطابق وزیرقانون اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کا خیال ہے کہ عدالتی فیصلے پرنظر ثانی کی درخواست دائر کی جاناچاہیے یا پھر ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس کے تحت ان افسروں کو سابقہ عہدوں پر بحال کیا جاسکے ۔دونوں بیوروکریٹ اس موقف کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں دوسری مرتبہ نظر ثانی کی درخواست دائر نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس سلسلے میں مذکورہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود ہے ،ذرائع کے مطابق دونوں دھڑے اپنے اپنے موقف سے وزیراعلیٰ کو بھی آگاہ کرچکے ہیں ،وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے کا قانونی حل نکالا جائے اور قانون کے برعکس کوئی اقدام نہ کیا جائے ۔

مزید :

صفحہ اول -