قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ، سپیکرایاز صادق کی مستعفی ہونے کی پیشکش

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ، سپیکرایاز صادق کی مستعفی ہونے کی پیشکش

  

 اسلام آباد (آئی این پی) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کو ایوان میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں مستعفی ہونے کی پیش کش کردی ‘ پارلیمانی جماعتوں سے کہا ہے کہ اگر وہ ان سے مطمئن نہیں تو وہ وزیراعظم سے بات کر کے ان کواپنا استعفیٰ بھیج دیتے ہیں ۔سپیکر نے بعض جماعتوں کی تنقید پر پارلیمانی قائدین کے اجلاس میں اس استعفی کی پیش کش کی ۔سپیکر نے پارلیمانی قائدین کے اجلاس میں کہا ہے کہ وہ استعفیٰ دینے کو تیار ہیں اور اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیتے ہیں سردار ایاز صادق کو غیر جانبداری سے ایوان چلانے کی جرات ہی نہیں ہے وہ جمہوریت اسمبلی اور اپوزیشن کسی کا ساتھ نہیں دیتے بے یقینی ان کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وزراء کو دیکھ کر اسمبلی نہیں چلائی جاتی انہوں نے اس بارے میں سابق سپیکر سید یوسف رضا گیلانی کی مثآل دی اور کہا کہ 1990 کی دہائی میں اس وقت کی حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کے شدید دباؤ کے باوجوداس دور میں ایوان میں پیش ہونے والے ناخوشگوار واقعہ کے سپیکر نے انہیں طلب نہیں کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن میں کشیدگی کو دور کرنے کے لئے پارلیمانی قائدین فیصلے کے سلسلے میں کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے‘ تاحال دونوں بڑی جماعتوں میں شدید تناؤ برقرار ‘ مشاورت کے لئے پیر کو دوبارہ ’’اکٹھ‘‘ ہوگا۔ ایوان میں کشیدگی کے ذمہ داران کے تعین کے لئے جمعہ کو سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارتمیں حکومت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا ہنگامی مشاورتی اجلاس ہوا ۔اجلاس میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ‘ سید نوید قمر‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی‘ ڈاکٹر شیریں مزاری‘ جماعت اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اﷲ‘ عواممی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور‘ شیخ رشید احمد‘ اعجاز الحق‘ وفاقی وزراء زاہد حامد‘ اکرم خان درانی‘ شیخ آفتاب احمد اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا تاہم ناخوشگوار واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لئے پارلیمانی جماعتوں میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ اجلاس کے پرامن ماحول میں انعقاد کے لئے تجاویز پیش کی گئیں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پارٹی قیادت سے بات کرکے پیر کو مشاورتی اجلاس میں اس معاملے پر اپنے حتمی موقف سے آگاہ کردے گی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ مشاورتی اجلاس میں تمام رہنماؤں کا رویہ انتہائی مثبت تھا۔ سب نے ایوان میں ہونے والی ہاتھا پائی پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ تمام جماعتیں اس معاملے پر ایوان میں ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کریں گی۔ تمام رہنما ایوان میں اس واقعہ پر بات کریں گے اور افسوس کا اظہار کریں گے۔ تمام رہنماؤں کے یہی احساسات ہیں کہ جو ہوا وہ غلط ہے کوئی اس کی حمایت نہیں کرسکتا، سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ واقعہ کی فوٹیج موجود ہے کیا ہوا سب کو پتہ ہے، حکومت اپوزیشن دونوں سے زیادتی ہوئی ہے جس کا ازالہ کرتے ہوئے ایوان کے تقدس کو بحال کرنا ہے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں جمعرات کو ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی اور دنگل کے اثرات اور خوف کے سائے جمعہ کو بھی ایوان میں منڈلاتے رہے، ایک اور ہنگامے کے ممکنہ خطرات کے باعث جمعہ کو اجلاس کی کارروائی نہ ہوسکی ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت پر سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا تو تلاوت اور نعت رسول ؐ کے بعد سپیکر نے کہا کہ گزشتہ روز ایوان میں جو واقعہ پیش آیا وہ افسوسناک تھا۔ اراکین اور قائد ایوان کے لئے جو الفاظ استعمال ہوئے ان سے ایوان کا تقدس مجروح ہوا۔ اس طرح ایوان نہیں چلایا جاسکتا۔ تمام پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق مرتب کرنا ہے۔ سپیکر نے اجلاس تیس منٹ کیلئے ملتوی کیا بعد ازاں پینل آف چیئرمین کے رکن چوہدری محمود بشیر ورک کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو انہوں نے کہا کہ ایوان کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔

سپیکرایازصادق

مزید :

صفحہ اول -