2017:کراچی کی سیاست میں تبدیلیوں کے آثار نمایا ں ہو گئے

2017:کراچی کی سیاست میں تبدیلیوں کے آثار نمایا ں ہو گئے

  

 کراچی (رپورٹ/نعیم الدین )نیا سال شروع ہوتے ہی کراچی میں سیاسی تبدیلیوں کے آثار نمایاں نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس وقت صوبے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے ۔تاہم طویل عرصہ سے سندھ کے شہری علاقوں میں راج کرنے والی ایم کیوا یم اختلافات کا شکار ہوئی ہے ۔ایم کیو ایم کے بطن سے اس وقت تین جماعتیں جنم لے چکی ہے اور تینوں کے درمیان یقینی طور پر 2018کے انتخابات میں شہر قائد میں اپنا مینڈینٹ منوانے کے لیے سخت مقابلہ متوقع ہے ۔2016ء میں مصطفی کمال کی قیادت میں منظر عام پرآنے والی پاک سرزمین پارٹی عوام کے دل جیتنے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ اس کے پاس وقت ہے۔ اسے عوام کے پاس جانے کیلئے اور انہیں آئندہ الیکشن میں اپنے حق میں ووٹ ڈالے کیلئے راضی کرنے کی گنجاش باقی ہے۔اس حوالے سے اس نے 29جنوری کو کراچی میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے تبت سینٹر پر جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔پی ایس پی کی سیاست کے لیے یہ جلسہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔مصطفی کمال اور ان کی جماعت کے لیے اس جلسہ کو عمران خان کے2013کے انتخابات کے لاہور جلسہ سے تشبیہ دی جارہی ہے جس سے سیاسی پنڈتوں نے اندازہ لگالیا تھا کہ آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر انتخابی نتائج دے گی ۔ایم کیو ایم کے بانی کی 22اگست کی تقریر کے بعد تنظیم کے ایک بڑے گروپ نے فاروق ستار کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا ۔فاروق ستار کی زیر قیادت ایم کیو ایم نے نشتر پارک میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا جس میں عوامی شرکت کو قابل ذکر کہا جاسکتا ہے ۔اس تمام صورت حال میں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ2018کے انتخابات میں ووٹرز ان تینوں جماعتوں میں سے کس کی جانب رخ کرتے ہیں ۔ عوام متحدہ کے لیے کہتے رہے ہیں کہ متحدہ کا کھمبا ووٹ ہوتا ہے ، الیکشن میں کھڑی ہونے والی شخصیت کی اہمیت نہیں ہوتی ، بلکہ اہمیت یہ ہوتی ہے کہ بانی متحدہ نے اس شخص کو کھڑا کیا ہے اور ووٹ اس کو دینا ہے، جس کو عام زبان میں کھمبا ووٹ کہا جاتا ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ووٹ کس کے نام پر مانگا جاتا ہے اور کراچی کے شہری کس پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں ۔ مصطفی کمال کی PSP کتنی نشستیں حاصل کرسکے گی۔اس صورت حال میں پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی، جماعت اہلسنت پاکستان ، تحریک انصاف، سنی تحریک اور دیگر جماعتیں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے تین حصوں میں بکھر جانے سے جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی بھی شہری علاقوں سے زیادہ بہتر انتخابی نتائج لینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -