، 10سال میں تعلیمی اداروں پر 734حملے ہوئے: ادیب جاودانی

، 10سال میں تعلیمی اداروں پر 734حملے ہوئے: ادیب جاودانی

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ادیب جاودانی،تنظیم کے رہنما ملک خالد‘ سیکرٹری جنرل امجد علی‘ سینئر نائب صدور کاشف ادیب،میاں اویس احمد‘ جاوید انجم اور پنجاب تنظیم کے صدر چوہدری واحد احمد نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں پاکستان کے تعلیمی اداروں پر مختلف نوعیت کے اب تک 734حملے ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ 208 حملے چھ قبائلی علاقوں مہمند ایجنسی، باجوڑ، درہ آدم خیل ، اورکزئی، جنوبی وزیرستان، خیبر ایجنسی میں اور 130حملے خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں پشاور، بنوں، چارسدہ میں ہوئے اگرکسی بڑے شہر کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ نشانہ پشاور اور مضافات کے تعلیمی ادارے بنے۔ اس کے بعد کراچی کا نمبر آتا ہے جہاں 42 تعلیمی اداروں پر مسلح حملے ہوئے ہیں، جبکہ کوئٹہ میں 26تعلیمی ادارے حملوں کی زد میں آئے۔ تعلیمی اداروں سے باہر دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں میں کوئٹہ کے طلباء و طالبات سرفہرست ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ پنجاب کے تعلیمی ادارے دہشت گردوں سے فی الحال محفوظ ہیں، اللہ ان کو محفوظ رکھے۔ لیکن دہشت گردوں کا پنجاب کے سکولوں پر حملہ کرنے کا تھریٹ جاری ہے۔ادیب جاودانی نے کہا کہ حکومت نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو واک تھرو گیٹ لگانے کے بھی احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ چھوٹے تعلیمی اداروں کیلئے دو اڑھائی لاکھ روپے کا واک تھرو گیٹ لگانا بہت مشکل ہے۔ حکومت اگر چاہتی ہے کہ تعلیمی ادارے اپنی حفاظت کے انتظامات خود کریں تو حکومت ان پر لگائے گئے تمام ٹیکس ختم کر دے۔ آج پورے ملک میں تعلیمی اداروں کو جس طرح کے اقدامات کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ تعلیم کو تالے لگانا کے مترادف ہے۔ حکومت نے سکیورٹی کے تمام انتظامات پرائیویٹ سکولوں پر ڈال دیئے ہیں اگر پرائیویٹ سکولوں کے مالکان اور شہری انفرادی طور پر اپنی جان و مال کے تحفظ کا خود پابند ہے تو پھر حکومت کا سکیورٹی اداروں پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کو منظم بنائے جو صرف ’’دہشت گردوں کی آمد کی اطلاع ہی نہ دیں بلکہ انہیں کسی کارروائی سے قبل گرفتار بھی کریں۔ادیب جاودانی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے سکیورٹی کی ساری ذمہ داری پرائیویٹ سکولوں پر ڈال دی ہے جبکہ سکیورٹی کی اصل ذمہ دار حکومت خود ہے۔ حکومت پرائیویٹ سکولوں کے مالکان اور بچوں کے والدین سے متعدد قسم کے ٹیکس وصول کرتی ہے اس لیے حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ پرائیویٹ سکولوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اورویسے بھی پاکستان کے آئین کے مطابق ملک کے ہر فرد کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ یہ ذمہ داری پرائیویٹ سکولوں پر ڈال کر حکومت اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ پرائیویٹ سکولوں نے اپنے وسائل کے مطابق سکیورٹی کے انتظامات کر رکھے ہیں اس کے باوجود سکیورٹی کے نام پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پولیس دندناتی پھررہی ہے اور سکولوں کے مالکان کو ہراساں کر رہی ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کو دہشت گردی کیساتھ ساتھ پولیس گردی سے بھی بچایا جائے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ پولیس کو روکے کہ وہ پرائیویٹ سکولوں کے تحفظ اور تقدس کو پامال نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بڑے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کے سکیورٹی گارڈ اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ پنجاب حکومت تمام پرائیویٹ سکولوں کو سکیورٹی فراہم کرے تاکہ وہ دلجمعی سے بچوں کو تعلیم دے سکیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -