تعلیم کے فروغ اور امن عامہ کے قیام کیلئے ترجیحی بنیادو پر کام کر رہے ہیں : اسد قیصر

تعلیم کے فروغ اور امن عامہ کے قیام کیلئے ترجیحی بنیادو پر کام کر رہے ہیں : اسد ...

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت صحت کی سہولیات کی فراہمی،تعلیم کے فروغ اور امن عامہ کے قیام پر روز اول سے ترجیحی بنیاوں پر کام کررہی ہے۔صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کے ذریعے نہ صرف غریب عوام کوجدیدطبی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا گیا ہے بلکہ اس شعبے سے منسلک افراد کوپیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے لئے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ان کی بدولت صحتمند اور توانا خیبر پختونخوا کا خواب بہت جلد شرمندہ تعبیر ہوگا۔وہ جمعہ کے روز خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں خون کے کینسر اور اس سے منسلک دیگر امراض سے متعلق دو روزہ قومی کانفرنس کی منعقدہ تقریب کے شرکاء سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر حفیظ اللہ،ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا مسعود یونس،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پخونخوا سعید علی خان ،چیف پبلک ہیلتھ نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹرفہیم طارق کے علاوہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران،طلباء اور ملک بھر سے آئے ہوئے ہیلتھ پروفیشنل کثیر تعدادمیں موجود تھے۔دو روزہ قومی کانفرنس کا بنیادی مقصد میڈیکل کے طلباء سمیت خیبر پختونخوا اورملک بھر کے دیگر ہیلتھ پروفیشنلز کو خون کے کینسر اور اس سے منسلک دیگر اقسام کے کینسر کے امراض سے متعلق جدید تحقیق ،ان امراض کی تشخیص اورعلاج سے متعلق آگاہی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے میں نئے قوانین اور اصلاحات کے ذریعے جو اقدامات کئے ہیں ان کی بدولت صوبے میں پیشنٹ کئیر ( (Patient Careمیں واضح تبدیلی آئی ہے ۔صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قانون سازی کے ذریعے بڑے ہسپتالوں کو خودمختار بنایا جارہا ہے جس سے نہ صرف مریضوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں فرق آیا ہے بلکہ ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے شعبے سے منسلک افراد کو جدید بنیادوں پر تربیت فراہم کرنے اوران کی فلاح وبہبود کے لئے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ یہ لوگ پوری تندہی سے علاج معالجے کی خدمات فراہم کرسکیں۔سپیکر نے کہا کہ ڈاکٹروں سمیت عملے کی کمی کو دور کیا جا رہا ہے،شفاف طریقہ کار کے ذریعے ایک ہزار نئے ڈاکٹرز کی تعیناتی کی گئی ہے جبکہ مزید ڈاکٹروں کو بھی بھرتی کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا ڈاکٹروں کی مستقلی کے لئے اسمبلی کے ذریعے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ہیلتھ پروفیشنلز کی اجرت میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔اسد قیصر نے میڈیکل طلباء اور ڈاکٹروں پرزور دیا کہ وہ ایک مقدس پیشے سے منسلک ہیں اور اس ضمن میں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بہتر علاج معالجے کی فراہمی کے لئے بروئے کار لائیں۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ حکومت اپنے دور اقتدار میں صحت عامہ کے فروغ کے لئے جو اقدامات کر رہی ہے ان سے اس شعبے کو دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل بنایا جائے گا۔کانفرنس سے وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر حفیظ اللہ،ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا مسعود یونس،چیف پبلک ہیلتھ نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹرفہیم طارق نے بھی خطاب کیا اور کانفرنس کے انعقاد اور اس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔قبل ازیں وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر حفیظ اللہ،ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا مسعود یونس ،چیف پبلک ہیلتھ نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹرفہیم طارق نے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی موجودگی میں خیبر پختونخوا میں اپنی طرزکے واحد اور پاکستان کے دوسرے جدید اور بین الاقوامی معیار کی " پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری خیبر پختونخوا " کے قیام کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔واضح رہے کہ یہ لیبارٹری صوبے کی سطح پر مہلک اور موذی امراض کی تشخیص اور اس سے متعلق عوام میں آگاہی اور ہیلتھ پروفیشنلز کو ان امراض سے متعلق تحقیق کے مواقع فراہم کرے گی۔یہ لیبارٹری محکمہ صحت خیبر پختونخوا ،خیبر میڈکل یونیورسٹی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ کے باہمی اشتراک سے قائم کی جارہی ہے۔تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر ڈاکٹر حفیظ اللہ نے مہمان خصوصی اور دیگر شرکاء کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -