سندھ سے ہر سال400موربرآمد کیے جاتے ہیں،نثار کھوڑو

سندھ سے ہر سال400موربرآمد کیے جاتے ہیں،نثار کھوڑو

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے وزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ سندھ سے ہر سال 300 سے لے کر 400 تکق مور ایکسپورٹ کئے جاتے ہیں اور پرندوں کی برآمد وفاقی حکومت کی اجازت سے ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو وائلڈ لائف سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے نشاندہی کی کہ صدر ایمپریس مارکیٹ کے علاقے میں سرعام پرندے فروخت کئے جارہے ہیں۔ سگنل پر جنگلی پرندے اڑائے جاتے ہیں ایسا کس کی اجازت سے ہورہا ہے۔ صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے بتایا کہ سندھ میں 27 ڈیلر کو فروخت کرنے کا لائسنس دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکار کے لئے محکمہ وائلڈ لائف مختلف درخواست گزاروں کو لائسنس جاری کرتا ہے اور بغیر لائسنس کے شکار کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکار کے لئے 2 سے 3ماہ مخصوص ہیں جن میں شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سیما ضیاء نے اپنے ایک سوال کے دوران سندھ اور کراچی کو علیحدہ پڑھ لیا جس پر پیپلز پارٹی کے اراکین نے احتجاج کیا۔ انہوں نے دریافت کیا تھا کہ کراچی میں زو ہے اور سندھ میں کہیں زو موجود ہے یا نہیں۔ ایم کیو ایم کے قمر عباس رضوی کے سوال کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ جنگلی سور کے شکار کے لئے حکومت کی جانب سے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -