بنگلہ بولنے والوں کے شناختی کارڈ بحال کیے جائیں،حافظ نعیم الرحمن

بنگلہ بولنے والوں کے شناختی کارڈ بحال کیے جائیں،حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بنگلہ زبان بولنے والوں کے بلاک شدہ قومی شناختی کارڈ فوری بحال کیے جائیں ، فشری کے لاکھوں مزدور وں کا قتل عام بند کیا جائے ،بنگلہ زبان بولنے والوں کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں،جماعت اسلامی سپریم کورٹ آف پاکستان کا بنگلہ زبون بولنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے پر سوموٹو ایکشن لینے پر شکریہ ادا کرتی ہے ، پاکستان ایک نظریہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اور اسی نظریے کو لے کر پاکستان میں اسلامی اور خوشحال پاکستان بنائیں گے اور ملک کا تحفظ نظریے کی بنیاد پرکریں گے ۔ ان خیالات کا اظہا را نہوں نے جمعہ کے روز پاک مسلم الائنس کے تحت بنگلہ زبان بولنے محب وطن پاکستانیوں کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے حوالے سے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مظاہرے سے جمعیت العلمائے سندھ (ف)کے نائب صدر قاری محمد عثمان ، پاک مسلم الائنس کے صدر ایس ایم فاروق، پاسبان کے جنرل سکریٹری عثمان معظم ، ڈپٹی جنرل سکریٹری علی رضا ، سپریم کورٹ پاکستان کے وکیل شعا ع النبی ایڈوکیٹ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ ا س موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔ مظاہرے میں مرد و خواتین بچوں اور بوڑھوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ حکمران لبرل ازم ، تعلیم اور روشن خیالی کی بات کرتے ہیں ان کی روشن خیالی تعلیم نہیں مغربی ایجنڈے کی تکمیل ہے ۔شناختی کارڈ کے معاملے میں پشتون، مہاجر اور بلوچی تمام کمیونٹی کے لوگوں کو تنگ کیا جارہا ہے اور شناختی کارڈ کے حصول میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ زبان بولنے والے محب وطن پاکستانی ہیں جنہوں نے پاکستان بننے کی تحریک میں لازوال قربانیاں دیں ہیں،مکتی باہنی اور بھارتی فوج کا ساتھ دینے کے بجائے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے اور آج تک پاکستا ن سے محبت کے جرم میں بنگلہ دیش میں پروفیسر غلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی ،صلاح الدین قادر اور ان جیسے کئی محب وطن پاکستانیوں کو پھانسیوں کے ذریعے شہید کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایک کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا جس کا تحفظ نظریے کی بنیاد پر کریں گے اس بڑی جدوجہد میں جماعت اسلامی آپ کے ساتھ ہیں۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ بنگلہ زبان بولنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ، یہ وہ بہادر قوم ہے جس کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ بولنے والے مزدور پیشہ طبقے سے وابستہ ہیں لاکھوں افراد فشری میں کام کرتے ہیں لیکن شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے بھوک و افلاس کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان چاروں طرف سے بحران کا شکارہے اگر فشری بند کردیا جائے تو حکومت کا لاکھوں روپے کا نقصان ہے اس لیے حکومت پاکستان اور سپریم کورٹ فوری بلاک شدہ شناختی کارڈ بحال کرے اور بنگلہ بولنے والوں کا قتل عام بند کرے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -