صنعتی شعبہ کیلئے سائنس اینڈٹیکنالوجی کی جدید تحقیقی اکیڈیمیوں کا قیام ناگزیر ہے : عبد الکریم

صنعتی شعبہ کیلئے سائنس اینڈٹیکنالوجی کی جدید تحقیقی اکیڈیمیوں کا قیام ...

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم خان نے شعبہ صنعت کیلئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جدید تحقیقی اکیڈیمیوں کے قیام کو ناگزیر قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے تحت یہاں پر بننے والے صنعتی یونٹوں کو جدید ضرورتوں سے ہم آہنگ بنانا ہو گا اور اس کے لئے پہلے سے تربیت اور تیاریاں مکمل کرنی چاہئیے تاکہ درپیش ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام میں سی ایس آئی آر (پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ انڈسڑیل ریسرچ لیبارٹریز کمپلیکس پشاو ر میں سرٹیفیکشن انسینٹیو پروگرام برائے سمال، میڈیم انٹر پرائزز انڈر پروڈیکٹیو کوالٹی انیوشن انشی ایٹیوز 2025کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری برائے صنعت چوہدری محمد اشرف ،چےئرمین پی سی سی آئی آر ڈاکٹر شہزاد عالم ،چےئر پرسن ویمن چیمبر آف کامرس انڈسڑی فطرت الیاس بلور، چیمبر آف کامرس انڈسٹری کے صدر حاجی محمد افضل ،پراجیکٹ منیجر شاہین راجہ اور انڈسٹریل ایسوسی ایشنز کے صدور اور صنعتی و تعلیمی اور تحقیقی شعبوں سے وا بستہ ماہرین موجود تھے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے صوبے میں صنعتوں میں تیار ہونے والی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ اور ان کے معیار بہتربنانے اور ان میں جدت لانے کیلئے آگہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور مقامی طور پر تیار ہونے والی چیزوں کو عالمی معیار سے ہمّ آہنگ کرنے سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو قدرت نے بے بہا وسائل سے نوازا ہے اس لئے صوبائی حکومت توانائی کے 17سو میگاواٹ کے منصوبے شروع کررہی ہے جبکہ 700میگاواٹ تواانائی کے منصوبوں کا ٹینڈر ہو چکا ہے جن سے صوبے میں صنعتوں کیلئے وافر بجلی میسر آئے گی۔معاون خصوصی نے مذکورہ پروگرام کی اہمیت کو سراہتے ہوئے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ خیبر پختونخوا میں چھوٹی صنعتوں کو سرٹیفیکیشن انشی ایٹیوز پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ حصہ دیا جائے تاکہ یہاں کی مقامی صنعتوں کو فروغ مل سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -