بٹ خیلہ ،ایم ایس نے تبدیلی کے دعویداروں کے دعوؤں کو پاؤں تلے روند ڈالا

بٹ خیلہ ،ایم ایس نے تبدیلی کے دعویداروں کے دعوؤں کو پاؤں تلے روند ڈالا

  

بٹ خیلہ (بیورورپورٹ )مردان میڈیکل کمپلیکس کے ایم ایس نے تبدیلی کے دعویداروں کے دعوءں کو پاؤں تلے روندڈالا۔ضلع ملاکنڈسے آئے ہوئے زخمی بچے کو بغیرابتدائی طبی امدادکے واپس گھربھیج دیا ۔مریض کے لاحقین اپنا فریاد سنانے درگئی میں میڈیا کے دفترپہنچ گئے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ ،صوبائی وزیرصحت اور سیکرٹری صحت سے ایم ایس مردان میڈیکل کمپلیکس کے ایم ایس ڈاکٹرامیررحمان،ایمرجنسی میں موجودڈاکٹروں اور ای این ٹی سپیشلسٹ کے خلاف انکوائری کرکے فوری اور تادیبی کاروائی کا مطالبہ کیا ۔تفصیلات کے مطابق ضلع ملاکنڈکے علاقہ احمدآباد پیتاؤ سے تعلق رکھنے والے محمدیوسف ولداحمدنے درگئی میں میڈیا کے نمائندوں کو فریادسناتے ہوئے کہا کہ24جنوری کو اُن کا معصوم تین سالہ بچہ آذان کھیلتے ہوئے زخمی ہوگیا اور اس کا گلا کٹ گیا ۔ہم نے زخمی معصوم کو بہترعلاج کی غرض سے مردان میڈیکل کمپلیکس لایا جہاں پر ایمرجنسی میں موجودڈاکٹرعدنان نے بچے کا معائنہ کیا اور ہمیں ای این ٹی کے پاس بھیجنے کا مشورہ دیا ۔جب ہم ای این ٹی ڈاکٹرکے پاس پہنچ گئے تو وہ چائے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف تھا ۔میں نے اُن کی کافی منت سماجت کی کہ بچے کی حالت خراب ہے اور اسے فوری طورپر علاج کی ضروت ہے لیکن کہ وہ میری فریادسے ٹھس سے مس نہیں ہوئے ۔اس دوران میں مردان میڈیکل کمپلیکس کے ایم ایس ڈاکٹرامیررحمان کے دفترگیا اوراُن کو اپنی فریاد سنائی اور بچے کی فوری علاج کی التجاء کی لیکن وہ میری باتوں کو سننے اور بچے کی علاج کے لئے فوری بندوبست کرانے کی بجائے مجھ کو دھمکیاں دینے لگے جس کے بعدمیری اوراُن کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم وہ میٹنگ کے بہانے رفوچکر ہوگئے اور مردان میڈیکل کمپلیکس میں علاج تو دورکی بات میرے بچے کو ابتدائی طبی امدادبھی نہیں دی گئی اور مجبورا میں اپنے بچے کو تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال درگئی ملاکنڈواپس لایا جہاں پر موجودسرجن نے مجھے تسلی دیتے ہوئے بچے کے گلے کی فوری اپریشن بھی کردی جس سے بچے کی حالت سنبھل گئی اور خطرے سے باہر ہوگئی ۔اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبائی حکومت آئے روزمحکمہ صحت میں تبدیلیوں اور بہتری کی باتیں کرتے ہوئے نہیں تکتی جبکہ دوسری جانب مردان میڈیکل کمپلیکس جیسے بڑے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی رویئے اور علاج کی یہی صورتحال ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ میرے بچے کو تو اللہ تعالیٰ نے زندگی دی لیکن آئے روزمردان میڈیکل کمپلیکس میں درجنوں ایسے واقعات رونماء ہورہے ہیں اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔اُنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ،وزیراعلیٰ صوبہ خیبرپختونخوا ،صوبائی وزیرصحت اور سیکرٹری صحت سے مردان میڈیکل کمپلیکس کے ایم ایس ڈاکٹرامیررحمان،ایمرجنسی میں موجودڈاکٹروں اور ای این ٹی سپیشلسٹ کے خلاف انکوائری کرکے فوری اور تادیبی کاروائی کا مطالبہ کیا ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -