ڈاکٹر عامر لیاقت اور آئی ایس آئی۔حیرت ہے بھئی؟

ڈاکٹر عامر لیاقت اور آئی ایس آئی۔حیرت ہے بھئی؟
ڈاکٹر عامر لیاقت اور آئی ایس آئی۔حیرت ہے بھئی؟

  

پاک فوج اور آئی ایس آئی کے حق میں بولنے والی آواز کو یہ کہہ کر بند کردیا گیا کہ یہ’’ نفرت‘‘ پھیلارہی تھی۔۔۔۔۔۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ جو پاکستانی اینکربھارت کیخلاف کھلم کھلا بول رہا تھا اورجس کی آواز کی گونج بھارتی کیمپوں میں کھلبلی مچارہی تھی وہی آواز بند کردی گئی۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور بول ٹی وی پر ان کے پروگرام ’’ایسے نہیں چلے گا‘‘پر پابندی بھی پاکستانی ادارے ’’پیمرا‘‘نے لگائی ہے۔۔۔۔۔۔یہ اپنی نوعیت کی پہلی پابندی ہے جس میں اب وہ کسی پروگرام (نئے یا نشرِ مکرر) میں بطور میزبان، مہمان، تبصرہ نگار، رپورٹر، ایکٹر، اینکر پرسن، آڈیو یا ویڈیو بیپر یا کسی بھی حیثیت میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔۔۔۔۔۔ نہ ہی انہیں اس چینل پر چلنے والی کسی اشتہاری مہم، آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت ہوگی۔۔۔۔۔۔اس سے قبل ڈاکٹر شاہد مسعود پر 45دن کی پابندی لگائی گئی تھی لیکن اے آروائی نیوز اْن کے حق میں اشتہاری مہم چلاتا رہا۔۔۔۔۔۔پیمرا کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتا رہا۔۔۔۔۔اس کے چیئرمین کی ایک میڈیا ادارے سے وابستگی کے بارے میں بھی کھلم کھلا کہتارہا۔۔۔۔۔۔اس لئے ناظرین ڈاکٹر شاہد مسعود کو روزانہ کسی نہ کسی صورت ٹی وی پر دیکھتے رہے۔۔۔۔۔۔لیکن اب پیمرا نے اپنی تاریخ کی سخت ترین پابندی لگائی ہے اور یہ غیر معینہ مدت کیلئے ہے۔

سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں رکھ نیچی نگاہ اپنی

کوئی اْن سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور ان کے پروگرام سے سب زیادہ کون پریشان تھا؟یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا پر یہ باتیں بھی ہوتی رہیں کہ عامر لیاقت اپنی حدود سے باہر جارہے ہیں انہیں روکنا بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔۔لیکن اس کا حل یہ ہرگز نہیں تھا کہ ان پر اور ان کے پروگرام پر ایسی سخت پابندی عائد کردی جاتی۔۔۔۔۔۔ایسا تو کیپیٹل ٹی وی کے ایک پروگرام میں پاک فوج کے آرمی چیف کو مغلظات بکنے پر بھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔اس وقت بھی ٹی وی چینل کو صرف سات دن کیلئے بند کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن غیرمعینہ مدت کیلئے پابندی میں کئی خفیہ پیغامات پوشیدہ ہیں۔

ٹی وی چینلز میں ’’اے آروائی ‘‘اور’’ سماء ‘‘کے بعد ’’بول‘‘تیسرا ٹی وی چینل ہے جس نے پاک ا فواج اور آئی ایس آئی کی بھرپورحمایت کی۔۔۔۔۔۔اور’’ ایسے نہیں چلے گا ‘‘پروگرام نے تو پاک افواج اور آئی ایس آئی کی حمایت کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کے بخیے بھی ادھیڑ کررکھ دیئے۔۔۔۔۔۔یہ تاثر عام ہونے لگا کہ ’’بول‘‘کے پیچھے ’’کون‘‘ ہے۔۔۔۔۔۔؟’’بول ‘‘کی شروعات میں ہی سب یہ سمجھنے لگے تھے کہ یہ فوج کا چینل ہے۔۔۔۔۔۔وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی یہی بتایا گیا کہ فو ج نے آپ کیخلاف چینل نکالا ہے جس پر ایک سال تک چینل کے مالک شعیب شیخ جیل کے ہوکر رہ گئے اور ایف آئی اے ایک چالان تک پیش نہ کرسکی لیکن چینل کو آن ایئر نہیں ہونے دیا گیا۔۔۔۔۔۔یہ بھی کہا گیا کہ اس چینل کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ ہے اور ایک بڑے میڈیا گروپ نے اپنے اخبارات میں یہ خبر بھی شائع کردی۔۔۔۔۔۔جس میں داؤد ابراہیم پرنہ صرف کڑی تنقیدکی گئی بلکہ وہ زبان استعمال کی گئی جو بھارتی اخبارات کا’’اسٹائل‘‘رہا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن یہ بھی حیرت انگیز بات ہے کہ پاک فوج’’ اپنے ‘‘چینل کو نہ بچا سکی۔۔۔۔۔۔شعیب شیخ جو جیل سے باہر نہ لاسکی۔۔۔۔۔۔ملازمین کو تنخواہیں نہ دلواسکی۔۔۔۔۔۔یعنی ’’بول‘‘ایک کمزور فوج کا کمزور چینل تھا۔

عامر لیاقت کے پروگرام کے بعد پھر یہی پروپیگنڈہ شروع کیا گیا کہ اس کے پیچھے پاک فوج ہے۔۔۔۔۔۔آئی ایس آئی تھپکی دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔یہ سب کچھ اس صورت سچ ثابت ہوجاتا جب پیمرا اتنی سخت پابندی نہ لگاتی۔۔۔۔۔۔پیمرا نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ انہیں مسلسل شکایات مل رہی تھیں۔۔۔۔۔۔ لیکن پیمرا کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ کو دیکھا جائے تو وہاں اس پروگرام کی حمایت میں بھی بہت بڑی تعداد میں ٹویٹس موجود ہیں۔۔۔۔۔۔یہ بھی ممکن تھا کہ جس نے شکایت کی تھی اس کیخلاف پروگرام کرنے سے روکا جاتا۔۔۔۔۔۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور بھارت کیخلاف پروگرام بھی بند کردیئے گئے۔۔۔۔۔جو واقعی ایک انتہائی بھونڈامذاق ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -