ہربل انڈسٹری کو بچالیجئے

ہربل انڈسٹری کو بچالیجئے
ہربل انڈسٹری کو بچالیجئے

  

تحریر: حکیم محمد عثمان (چیف ایگزیکٹو مرحبا لیبارٹریز)

پاکستان میں آلٹرنیٹو میڈیسن کے طور پرہربل اور یونانی دواسازی نہایت اہمیت کی حامل ہوچکی ہے ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یو ایس ایڈ کے کئی ایسے ہیلتھ پراجیکٹ متبادل طریقہ علاج کو پروان چڑھانے میں سرگرم ہیں جو پاکستان میں سستا اور بہتر علاج مہیا کرنے میں معاون ہوں گے جبکہ ان اداروں کا حکومت پاکستان اور صحت کے اداروں کے ساتھ روابط اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ملک میں متبادل طریقہ علاج کے طور پرمعیاری آلٹرنیٹو میڈیسن صحت کے عالمی اداروں کی ترجیحات ہیں ۔ یہ کام پاکستان کے علاوہ دیگر ترقی پذیرملکوں اور یورپ میں بھی ہورہا ہے،اس کا مشاہدہ ڈبلیو ایچ اور اور یو ایس ایڈ کی ویب سائٹ پر جا کر کیا جاسکتا ہے ۔

ہم دنیا کاروبار کے لئے گھوم چکے ہیں،ہر ملک میں متبادل اور روائتی ادویہ سازی اور انکی مارکیٹ کا بغور جائزہ لے چکے اور وہاں کی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے بارے میں کسی حد تک جان چکے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے ملک میں ہربل میڈیسن یا آلٹرنیٹو میڈیسن کی آبیاری کرتے ہوئے اپنے قومی خزانے کو بھرتے ہوئے شفاف نظام بناتے ہیں ۔ان ملکوں میں ہربل میڈیسن وغیرہ کے اسٹیک ہولڈرزاور متعلقہ اتھارٹیز ایک پیج پر ہوتی ہیں جس سے وہاں جعلی اور ناقص ادویات کا مافیاپنپ نہیں سکتا ۔لیکن جب اپنے ملک میں دیکھتے ہیں توصحت کے شعبہ اورسرکاری اداروں کے درمیان کرپشن اور نااہلی کی خلیج نظر آتی ہے جسے عبور کرنا کار دشوار نظر آتا ہے۔یہاں حفظان صحت اور ہیلتھ سسٹم کو مربوط کرتے ہوئے جو قوانین بنائے جاتے ہیں اس سے پہلے متعلقہ انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور زیادہ تر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ لوگ ہڑتالوں احتجاجوں سے اپنے تحفظات سے سرکار کو مطلع کرتے اور ذاتی کوششوں سے بہتری کی راہ نکال کر کاروبار اور پوری انڈسٹری کی بقا کا تحفظ کرتے ہیں ۔

حالیہ ڈیڑھ ماہ کے دوران اسی قسم کی صورتحال یونانی اور ہربل ادویہ ساز اداروں کو درپیش ہے ۔حکومت نے ڈریپ کے نام پر ایک ایسا قانون بنا کر ہربل انڈسٹری کو انلسٹمنٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کریک ڈاؤن کرایا ہے جب سندھ ہائی کورٹ میں حکم امتنناعی جاری ہوچکا تھا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ ڈریپ ہربل انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کرتے ہوئے اسے انگریزی ادویہ سازوں کے نظام سے الگ کرسکے اور ڈریپ اس دوران ہربل اداروں کو تنگ نہ کرے۔عجیب مذاق یہ بنا ہے کہ ڈریپ نے ان اسٹیک ہولڈرز کے مطالبات جزوی طور پر مان کر نومبر 16 کے آخری ہفتے میں اپنی ویب پر لوڈ کئے تاکہ ہربل یا یونانی ادارے ان رولز کے مطابق انلسٹمنٹ کا پراسس مکمل کرسکیں ۔واضح رہے کہ اس پراسس میں ہر ادارے کو دستاویز کے لئے وقت درکار تھا جو فطری بات ہے لیکن ڈریپ اور پنجاب حکومت کے تعاون سے جعلی دواسازوں کے خلاف مہم کے نام پر ہربل انڈسٹری کو ہراساں کرتے ہوئے انہیں بند کیا گیا،پرچے کاٹے گئے،اور انکی ادویات و مصنوعات کو مارکیٹ کرنے سے روک دیا گیا ۔ان حالات میں پاکستان کے مستند ،معتبر اور عالمی شہرت رکھنے والے اداروں کو بھی نہیں بخشا گیا لہذا ان میں سے چیدہ چیدہ اداروں نے ہائی کورٹ سے ریلیف حاصل کرکے فیکٹریوں کو دوبارہ کھولا اور ڈریپ و محکمہ ہیلتھ سے اس ایکشن کا سبب دریافت کیا کہ پاکستان کے انتہائی معیاری اداروں کو ہراساں کیوں کرکے ملکی معیشت اور ہربل انڈسٹری کو نقصان پنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں ناقص اور جعلی ادویات کا کاروبار اپنے عروج پر رہا ہے ۔اس حوالے سے یونانی و ہربل اداروں نے ہمیشہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں سے انسانی جانوں کا قتل عام کرنے والے جعل سازوں کا احتساب کیا جائے ۔ہسپتالوں میں ہونے والی اموات اس بات کی علامت ہیں کہ جعلی ادویات کی وجہ سے اس مقدس پیشے کو کتنا بدنام کیا گیا ہے۔ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا حکومت کے لئے یقیناً چیلنج رہا ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکومت نے جب جعلی ادویہ سازوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تو اس قانون کا اندھا استعمال کرکے اچھی ساکھ والے معیاری ادویہ سا زاداروں کو بھی اس صف میں لاکھڑا کیا ۔ خاص طور پر ہربل انڈسٹری میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے عالمی معیارات قائم کرنے والے اداروں کے خلاف بھی قانون کے نام پر غیر قانونی ہراسمنٹ کرکے بہت سے اداروں کو بند کیا گیا ۔ اس بارے میں واضح کرنا ضروری ہے کہ جن ہربل اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ان میں ایکسپورٹ کوالٹی کے حامل ادارے بھی ہیں جواپنی ذاتی کوششوں سے ملک کو کروڑوں روپے زرمبادلہ کماکردیتے ہیں ۔ ان اداروں کے خلاف ایک طرف ڈریپ کے تحت اقدامات اٹھائے گئے دوسری جانب محکمہ صحت نے وزیر اعلیٰ کے حکم پر کریک ڈاؤن کیا ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جب اس بارے میں متعلقہ محکمہ سے سوال کیا گیا تو کسی کے پاس معقول جواب نہیں تھا۔واضح رہے کہ ڈریپ نے انلسٹمنٹ کے نام پر جو طریقہ کار وضع کرکے ہربل اداروں کو قانون کی چکی میں پیسنا چاہا ہے یہ اصولِ ادویہ سازی یونانی دواسازی کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ڈریپ نے انگریزی اور یونانی میڈیسن کے لئے ایک ہی کسوٹی بنائی جو غلط ہے اور دنیا بھر میں جہاں یونانی ادویہ سازی ہوتی ہے وہاں ایسے قوانین اور اصول نافذ نہیں ہیں ۔ڈریپ کے اس قانون کے خلاف پی ٹی پی ایم اے نے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا تھا لیکن حالیہ کارروائیوں کے دوران اسکو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے ہربل ادارے انڈیا اور چین سے مقابلہ کررہے ہیں اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی یونانی میڈیسن کو اسکی کوالٹی کی بنا پر منوا چکے ہیں لیکن اسکی جڑیں خود اپنے ملک میں کاٹی جارہی ہیں ۔اس صورتحال کے پس منظر میں بہت گہری اور منظم سازش کارفرماہے۔اور اسکا مقصد پاکستان کی ہربل انڈسٹری کو ختم کرنا ہے ۔حکومت کو اس کا ادراک کرتے ہوئے ہربل انڈسٹری کے خلاف غیر فطری قوانین کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -