4دہائیوں بعد امریکہ کے سب سے بڑے جھوٹ کا پول کھل گیا، ایسا انکشاف منظر عام پر کہ اب دنیا امریکہ کی کسی بات پر یقین نہ کرے

4دہائیوں بعد امریکہ کے سب سے بڑے جھوٹ کا پول کھل گیا، ایسا انکشاف منظر عام پر ...
4دہائیوں بعد امریکہ کے سب سے بڑے جھوٹ کا پول کھل گیا، ایسا انکشاف منظر عام پر کہ اب دنیا امریکہ کی کسی بات پر یقین نہ کرے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہم سب جانتے ہیں کہ ناسا کا مشن اپالو 11، 1969ءمیں چاند پر گیا اور نیل آرمسٹرانگ نے چاند کی سطح پر پہلا قدم رکھا۔ تاہم ناسا کا چاند تسخیر کرنے کا یہ دعویٰ شروع سے ہی متنازعہ چلا آ رہا ہے ۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے اور اس کے ثبوت میں ناسا نے جو ویڈیو جاری کی وہ زمین پرہی چاند کی سطح جیسا سیٹ لگا کر فلمائی گئی تھی۔ اس سازشی نظریئے کے داعی کہتے ہیں کہ امریکہ خلائی دوڑ میں فتح حاصل کرنا چاہتا تھا اور روس سے پہلے چاند تسخیر کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے یہ ڈرامہ رچایا۔ اب ایک اور ویڈیو منظرعام پر آ گئی ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ ناسا کا مشن اپالو10بھی جعلی تھا۔

”اس معاملے میں تمہیں منہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں دیں گے “چین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دن میں تارے دکھا دئیے

برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی ویڈیو یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ہے۔ ویڈیو پوسٹ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ ناسا نے اپالو10کے چاند پر جانے کی جو ویڈیو جاری کی تھی وہ بھی جعلی تھی اور یہ ویڈیو ناسا کی جاری کردہ اسی اصل ویڈیو کا وہ حصہ ہے جو ناسا نے کاٹ دیا تھا۔ اس اصلی ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کو فلماتے ہوئے سکرین کے ایک طرف انسانی عکس نمایاں ہو رہا ہے۔ یہ عکس ویڈیو فلمانے والے خلانورد کے ہیلمٹ کے شیشے سے منعکس ہو کر کیمرے میں محفوظ ہو رہا تھا۔

ویڈیو پوسٹ کرنے والے شخص برٹ سبریل کا کہنا ہے کہ” اگر یہ لوگ واقعی چاند پر یہ ویڈیو فلما رہے تھے تو جس خلانورد کا عکس کیمرے میں آ رہا تھا اسے بے وزنی کی حالت میں معلق ہونا چاہیے تھا کہ کیونکہ چاند پر انسان بے وزن ہوتا ہے۔ لیکن عکس میں آنے والا خلا نورد پہلے اکڑوں بیٹھا ہوتا ہے اور پھر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اورآسانی کے ساتھ دائیں بائیں بھی مڑ رہا ہوتا ہے۔ پھر ویڈیو کے اختتام پر وہ چلتا ہوا ایک طرف چلا جاتا ہے۔ اس ویڈیو کلپ میں اس شخص کو اپنی پینٹ اور جوتے درست کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس وقت چاند پر نہیں بلکہ زمین پر ہی موجود تھے۔ اگر یہ لوگ اس وقت چاند پر ہوتے تو اس خلانورد کے لیے اس طرح آزادانہ حرکت کرنا ناممکن ہوتا۔“

ویڈیو دیکھیں:

مزید :

بین الاقوامی -