’’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر آسمانی قہر کا غصہ کم نہ ہوا‘‘کپواڑہ سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے 5قابض فوجی لاپتا ہو گئے ،امدادی ادارے ڈھونڈنے میں ناکام

’’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر آسمانی قہر کا غصہ کم نہ ہوا‘‘کپواڑہ سیکٹر ...
’’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر آسمانی قہر کا غصہ کم نہ ہوا‘‘کپواڑہ سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے 5قابض فوجی لاپتا ہو گئے ،امدادی ادارے ڈھونڈنے میں ناکام

  

سری نگر(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں قابض ہندو فوج پرآسمانی قہر برفانی تودوں کی شکل میں گرنے کا سلسلہ جاری ،ایک اور بھارتی فوج کی ’’گشتی ٹیم ‘‘برفانی تودے کی ذَد میں آگئی ،5ظالم فوجی برف تلے دَب کر زندہ لاپتا ہو گئے ،مقبوضہ وادی میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک ہی گھر کے 4افراد اور 16قابض فوجی لقمہ اجل اور کئی لاپتا ہو گئے ۔

مزید پڑھیں:بھارتی دریاؤں کا پاکستان بہہ جانے والا پانی روکیں گے : بھارتی وزیراعظم نریندر مودی

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے شمالی علاقے کپواڑہ سیکٹر میں گشت پر مامور بھارتی فوج کے قافلے پر اس وقت آسمانی قہر ٹوٹ پڑا جب برفانی تودہ گرنے سے 5فوجی اہلکار زندہ برف تلے دَب کر لاپتا ہو گئے ۔ہندوستانی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مڑھل سیکٹر میں انڈین فوج کے 56راشٹریہ رائفلز کے 5اہلکار برفانی تودے کے نیچے دبنے سے لاپتا ہو گئے ہیں جن کی تلاش کے لئے ریسکیو سرگرمیاں شروع کر دی گئیں ہیں لیکن تاحال ابھی تک لاپتا ہونے والے فوجیوں کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل رہا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مقبوضہ وادی کے متعدد سرحدی علاقوں میں برفانی تودے گر آنے کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر بھارتی فوج کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ برفانی تودے کی زَد میں آکر ایک ہی گھر کے 4افراد بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔دوسری طرف ایک ہی روز میں وسطی کشمیر کے علاقے میں برفانی تودے کے قہر میں آکر بھارتی فوج کا ایک میجر ہلاک جبکہ 4اہلکار لاپتا ہو گئے تھے ۔اس تازہ واقعہ سے قبل مقبوضہ شمالی کشمیر کے مشہور ضلع بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں دو فوجی چوکیوں اور فوج کی ایک گشتی پارٹی بھی بھاری برکم برفانی تودوں کی زد میں آنے سے 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات نے مقبوضہ وادی اور خطہ لداخ کے بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرآنے کی تازہ وارننگ بھی جاری کردی گئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -