اگر سعودی عرب جائیں تو وہاں اس ایک چیز کو ہاتھ بھی نہ لگائیں، جان بھی جاسکتی ہے۔۔۔ حکومت نے ملک میں مقیم غیر ملکیوں اور آنے والوں کیلئے وارننگ جاری کردی

اگر سعودی عرب جائیں تو وہاں اس ایک چیز کو ہاتھ بھی نہ لگائیں، جان بھی جاسکتی ...
اگر سعودی عرب جائیں تو وہاں اس ایک چیز کو ہاتھ بھی نہ لگائیں، جان بھی جاسکتی ہے۔۔۔ حکومت نے ملک میں مقیم غیر ملکیوں اور آنے والوں کیلئے وارننگ جاری کردی

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں مرس وائرس سے سینکڑوں ہلاکتیں پہلے ہی ہو چکی ہیں اور تازہ ترین تشویشناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا جان لیوا مرس وائرس تاحال اموات کا سبب بن رہا ہے ،جس کے پیش نظر سعودی محکمہ صحت نے وارننگ جاری کر دی ہے کہ جنتا ممکن ہو سکے اونٹوں سے دور رہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے درہم سے پہلے متحدہ عرب امارات میں کونسی کرنسی استعمال کی جاتی تھی؟ جواب جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

ویب سائٹ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ دنوں کے دوران کل چھ افراد مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم (مرس) کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے دو غیر ملکیوں کی حالت نازک ہے۔ وائرس سے متاثرہ غیر ملکی شہری جبیل اور جدہ میں مقیم تھے، اور ان کی عمریں 27 اور48 سال بتائی گئی ہیں۔ دیگر چار مریضوں کا تعلق تربہ، طائف، ریاض اور القراہ سے بتایا گیاہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ القراہ سے تعلق رکھنے والا مریض براہ راست اونٹوں سے متاثر ہوا۔

سعودی عرب میں جولائی 2012ءسے لے کر اب تک کل 1546 مریض کرونا وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے 641 کی موت ہوچکی ہے، 896صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 9کا تاحال علاج جاری ہے۔ سعودی وزارت صحت کی جانب سے بارہا وارننگ جاری کی گئی ہے کہ لوگ اونٹوں سے دور رہیں۔ اونٹوں کی دیکھ بھال کر مامور افراد کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسا کہ منہ پر حفاظتی ماسک پہننا، متاثرہ جانوروں کو علیحدہ رکھنا اور صفائی ستھرائی کا ہر ممکن انتظام کرنا وغیرہ۔

مزیدپڑھیں:شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے متعدد علاقوں میں اونٹوں میں مرس وائرس پایا گیا ہے۔ متاثرہ مریضوں میں پایا جانے والا وائرس اونٹوں میں پائے جانے والے وائرس سے مشابہت رکھتا ہے، جس کی بناءپر نتیجہ اخذ کیا گیا کہ انسانوں میں یہ وائرس اونٹوں سے منتقل ہوا۔ ماہرین صحت نے نہ صرف اونٹوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے بلکہ ان کے گوشت اور دودھ سے بھی پرہیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

مزید :

عرب دنیا -