ٹرمپ کے احکامات پر عملدرآمد شروع، امریکہ آنے والے 6 عراقی اور ایک یمنی شہری کوایئرپورٹ پر روک لیا گیا

ٹرمپ کے احکامات پر عملدرآمد شروع، امریکہ آنے والے 6 عراقی اور ایک یمنی شہری ...
ٹرمپ کے احکامات پر عملدرآمد شروع، امریکہ آنے والے 6 عراقی اور ایک یمنی شہری کوایئرپورٹ پر روک لیا گیا

  

نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کے ایگزیکٹو آرڈرز آنے کے بعد اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے اور نیو یارک ایئر پورٹ پر پہنچنے والے 6 عراقی اور ایک یمنی شہری کو جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر ہی روک لیا گیا جبکہ امریکہ کے اند ر ہی سفر کرنے والے 2 عراقی شہریوں کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔

TapMad نے ہمہ وقت سرگرم رہنے والوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کی نئی دنیا متعارف کروادی

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے نیو یارک کیلئے آنے والی مصر ایئر کی فلائٹ 985 پر 6 عراقی اور ایک یمنی شہری سوار تھے۔ فلائٹ نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر لینڈ ہوئی جہاں حکام نے دونوں ملکوں کے شہریوں کو ایئر پورٹ پر ہی روک لیا اور انہیں امریکہ میں داخل نہیں ہونے دیا۔

دوسری جانب اسی ایئر پورٹ سے امریکہ کے اندر سفر کرنے والے 2 عراقی شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک شخص حمید خالد درویش پیشے کے لحاظ سے ترجمان ہے اور گزشتہ 10 سال سے امریکی فوج کیلئے عراق میں ترجمانی کا فریضہ سر انجام دے رہا تھا۔ حراست میں لیا گیا دوسراشخص حیدر سمیر جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے اپنے بچوں کے پاس امریکی ریاست ٹیکساس جا رہا تھا ۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ نے اب تک کا سب سے بڑا حکم جاری کردیا، ایسی تبدیلی آگئی جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے سات اسلامی ممالک شام ، عراق، ایران، سوڈان، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر 90 روز کیلئے پابندی عائد کی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -