سیالکوٹ میں رشتہ داروں کا خاتون پر تشدد ،گھر اور زمین پر قبضہ کر کے بچوں سمیت کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا ،پولیس بھی ملزمان کے ساتھ مل گئی

سیالکوٹ میں رشتہ داروں کا خاتون پر تشدد ،گھر اور زمین پر قبضہ کر کے بچوں سمیت ...
سیالکوٹ میں رشتہ داروں کا خاتون پر تشدد ،گھر اور زمین پر قبضہ کر کے بچوں سمیت کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا ،پولیس بھی ملزمان کے ساتھ مل گئی

  

سیالکوٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن )اثروسوخ رکھنے والے افرادکی غریب اور لاچار لوگوں پر ظلم ڈھانے کی کہانیاں ہر طرف نظر آتی ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی آنکھوں پر پٹیاں باندھے بیٹھے ہیں ،اسی طرح کا افسوسناک واقعہ سیالکوٹ کے گاﺅں بلاوالا میں پیش آیا جس کے بعد ایک معصوم بچے کو جب کہیں سے تحفظ نہ ملا تو اس نے وزیراعلیٰ شہبازشریف سے مدد کی اپیل کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق 12سالہ عبداللہ سجاد جو کہ سیالکوٹ کے گاﺅں بلا والا کا رہائشی ہے ،اس نے حکومت پنجاب سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے اپنے ساتھ ڈھائے جانے والے ظلم کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے والد سجاد احمد روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر ہیں جبکہ اس کے دوبھائی اور ایک والدہ یہیں رہتے ہیں ۔

مزیدپڑھیں:شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

اس کا کہناتھا کہ ان کی گاﺅں میں کچھ زمین اور ایک گھر ہے جس پر ان کے رشتہ دار قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسی حوالے سے گزشتہ رات ان کے کچھ رشتہ داروں نے آدھی رات کو ان کے گھر پر دھاوا بولا اور ان کی والدہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔عبداللہ سجاکا کہناتھا کہ ان کی والدہ کو اتنا زیادہ مارا گیا کہ وہ بیہوش ہو گئیں اور انہیں گھر سے نکال دیا گیا ۔جس کے بعد انہوں نے ہمسائیوں کے گھر جا کر پناہ لی اور 15پر کال کر کے پولیس کو اطلاع کی ۔معصوم بچے کا کہناتھا کہ پولیس والے آئے توانہوں نے ہمیں تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ہم پر ہی تشدد شروع کر دیا اور ملزمان کے ساتھ مل گئے اور گالیاں بھی نکالیں ۔

مزید :

سیالکوٹ -