پڑھے لکھوں کا لنڈا بازار

پڑھے لکھوں کا لنڈا بازار
پڑھے لکھوں کا لنڈا بازار

  



خبر ہے کہ لا ہور میں قتل کے مقدمہ میں فریقین کے وکلاءنے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں مقدمہ جیتنے کیلئے دلائل کے بجائے مکوں گھونسوں کا سہار ا لیا ، تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد کورٹ روم میں جنگ کا سماں دیکھنے میں آیا ،وہاں موجود کچھ ساتھیوں نے چھڑانے کی کوشش کی تو ان کو بھی منہ کی کھانا پڑی، وکلاءگردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی متعدد بار ایسا ہوچکا ہے، اگر یاد ہو تو اسی لاہورکے جی پی او چوک میں احتجاج کے دوران تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وکیل نے بچوں کے سامنے ان کے باپ کو تھپڑ مارا تھا،صرف لاہور میں ہی نہیں گوجرانوالا میں مرضی کا فیصلہ لینے کیلئے جج کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا،تھوڑا سے اور پیچھے جائیں تو شمالی پنجاب کے قصبہ ڈسکہ میں دو وکلاء کے بہیمانہ قتل کے بعد کالے کوٹ اور کالی وردی کی لڑائی کے دوران پورا پنجاب جلتارہا،ایسے لگ رہا ہے کہ قانون کے رکھوالوں کا کالا پن جیسے پورے جوبن سے باہر نکل آیا ہو۔

گالم گلوچ،دنگا فساد، صرف وکلاءتک ہی نہیں محدود رہا بلکہ اس میں عوام کے لیے رول ماڈل سمھے جانیوالے ان کے نمائندے بھی شامل ہیں جن کے الفاظ،لب و لہجے پر غور کیا جائے تو اپنے آپ کو شرم محسوس ہوتی ہے،چند روز قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی خاتون ا یم پی اے  نصرت سحر عباسی کے ساتھ جو ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے،ممبران اسمبلی فخر کے ساتھ ایسی حرکتیں کرررہے تھے جیسی کہ گلی محلے کے آوارہ لڑکے بھی نہیں کرتے، کہتے ہیں کہ بندے کے کردار سے پتا چلتا ہے کہ وہ کس نسل کا ہے۔

TapMad نے ہمہ وقت سرگرم رہنے والوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کی نئی دنیا متعارف کروادی

سندھ اسمبلی میں اشاروں کنایوں تک محدود رہنے والی بات کی کسر قومی اسمبلی میں نئے اور پرانے پاکستان کے حامیوں نے پوری کردی ،ایک دوسرے پر مکے،گھونسے ایسے برسائے کہ آپ کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ریسلنگ بھول جائے گی،تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔اسی اسمبلی میں ہی حکومتی بنچوں کی طرف سے ایک وزیر نے ’کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ غیرت ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے۔‘ جیسا تاریخی جملہ اچھالا جو سیاسی ضرب الامثال میں شامل ہو گیا۔اسی صاحب نے ہی پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کے بارے میں ایک جملہ بول کر خاصی ’داد‘ کمائی۔

پانامہ کیس کی روزانہ کی سماعت کے بعد میڈیا پر ہونیوالی گفتگو کی ویڈیوز دیکھ لی جائیں تو تھیٹر میں چلنے والے سٹیج ڈرامہ کی زبان اس سے کہیں بہتر لگے گی۔”چور، ڈاکو، سب سے بڑا بدعنوان، جھوٹا مکار، یہودی لابی کا ایجنٹ، بدکردار ‘ ‘جیسی اصطلاحات روزمرہ کی نارمل زبان بنتی جارہی ہے،یہ لوگ اس طرح کی گفتگو کیمرے کے سامنے کرسکتے ہیں تو بھلا” ان کیمرہ “ کاکیا منظر ہوگا؟جب باہر بے لگام بولتے ہیں تواسمبلی میں بھی تو یہی گالیاتی خزانہ لے کر جائیں گے۔ وہاں پر بیٹھ کر بانگِ درا کی شرح تھوڑا بیان ہوگی؟

ان بے چاروں کا بھی قصور نہیں ہے جمہوریت ہے ہی ایسی۔ دنیا بھر کے پارلیمان میں دھول دھپا، جوڈو کراٹے اور باکسنگ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ کوریا، تائیوان، یوکرین، بیلا روس، ترکی اور برازیل وغیرہ کے پارلیمانی ایوان میں تو اکثر فری فار آل ریسلنگ چیمپئن شپ کے کوالیفائنگ راونڈ منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ روایت یہ ہے کہ جب لڑائی شروع ہوتی ہے تو قرار داد نہیں سر پھاڑا جاتا ہے، جوتا نہیں کرسی چلتی ہے ، چوڑیاں نہیں گردن ٹوٹتی ہے۔

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

مجموعی طور پر ہمارے رویے دن بدن ایسے ہوتے جارہے ہیں کہ اپنے آپ کو انسان کہنے سے بھی گھن آتی ہے،انقلاب،تبدیلی،اسلامی پاکستان،جمہوری پاکستان کے نعرے ہم روز سنتے ہیں۔روٹی،کپڑا،مکان،روزگار اچھی تعلیم کے دلکش پیکج بھی ملتے ہیں۔مسجدوں کے واعظ ہر جمعہ کے خطبہ میں حکایات،واقعات بیان کرکے ہمارے رویوں کو بدلنے کا درس دیتے ہیں۔ارکان اسلام پر پابند رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد رہنے والوں کے ساتھ اچھے برتاو کی بھی تلقین کرتے ہیں،سماجی تنظیمیں مردہ معاشرے کو زندگی دینے کی تگ و دو کرتی ہیں،ہم سنتے ہیں،پر عمل نہیں کرتے کیوں؟ایک بنیادی سوال،ذہن میں ہروقت چبھنے والی ایک تکلیف دہ چبھن۔

مسئلہ کسی قانون کا نہیں،کسی کو سزا دینے کا نہیں،مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سچ بولنے والوں کا قحط ہے،سچ لکھنے والوں کا فقدان ہے،سب سے بڑھ کر سچ سننے والوں کی کمی ہے،کوئی سچ لکھنا نہیں چاہتا،کوئی سچ بولنا نہیں چاہتا،اگر کوئی بولتا بھی ہے تو کوئی اسے سننا پسند نہیں کرتا،ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان،ہاتھ ایسے استعمال ہوتے ہیں جیسے جاہل بھی نہیں کرتے،دراصل یہ پڑھے لکھے لوگوں کا لنڈا بازار ہے جن کی الماریوں میں تو کتابوں کے ڈھیرلگے ہیں،گفتار میں تیز طرار ہیں لیکن کردار میں صفر۔علامہ اقبالؒ کے اس شعرکے مصداق ہیں ۔

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے۔۔۔۔ گفتار کا غازی بن تو گیا، کردار کا غازی بن نہ سکا

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ