سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا دائرہ اختیار چیلنج ،صرف عدالت درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے سکتی ہے ،کامران شیخ نے اپیل دائر کردی

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا دائرہ اختیار چیلنج ،صرف عدالت درخواستوں کو ناقابل ...
سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا دائرہ اختیار چیلنج ،صرف عدالت درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے سکتی ہے ،کامران شیخ نے اپیل دائر کردی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاکستان بار کونسل کے رکن اور سینئر قانون دان محمد راحیل کامران شیخ نے آئینی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے دائرہ اختیار کو چیلنج کردیا ،اس سلسلے میں انہوں نے عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی ہے جس میںانہوں نے رجسٹرار کی طرف سے "روڈ سیفٹی "سے متعلق آئینی درخواست کوناقابل سماعت قرار دینے کے اقدام کے قانونی جواز کو چیلنج کیا ہے.

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

کل30جنوری کو چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اس اپیل کی اپنے چیمبر میں سماعت کریں گے ،راحیل کامران شیخ نے پاکستان میں سٹرکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات کی بنیاد پر شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کے آئینی آرٹیکلز پر عمل درآمد کے لئے اقدامات کی خاطر عدالت عظمیٰ میں 24ستمبر 2016ءکو آئینی درخواست دائر کی تھی جسے رجسٹرار سپریم کورٹ نے 30ستمبر 2016ءکو ناقابل سماعت قرار دیا تھا ،اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل184(3)اور سپریم کورٹ رولز کے تحت رجسٹرار کو کوئی درخواست ناقابل سماعت قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے ،سپریم کورٹ رولز کے تحت رجسٹرار کو صرف درخواست کی وصولی کے حوالے سے انتظامی اقدامات کا اختیار ہے ،وہ کسی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ،کسی درخواست کو قابل سماعت یا ناقابل سماعت قرار دینا عدالت کا اختیار ہے ،اپیل میں کہا گیا ہے کہ آئینی درخواست میں مفاد عامہ اور عوامی اہمیت کے اہم نکات اٹھائے گئے تھے جبکہ رجسٹرار نے یہ کہہ کر درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی کہ اپیل کنندہ نے دادرسی کے متبادل ذرائع استعمال نہیں کئے اور متعلقہ فورم کی بجائے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن 2015ءکی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 25ہزار781افراد سٹرک حادثات میں موت کا شکار ہوئے.

اپیل میں کہا گیا ہے کہ سٹرکوں پر حادثات کی روک تھام حکومت کی ذمہ داری ہے ،راحیل کامران شیخ نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے ایک از خود نوٹس کیس کا حوالہ بھی دیا ہے جو گجرات میں ایک سکول وین کے حادثہ کی بنا پر لیا گیا تھا ،آگ لگنے سے اس وین میں 16بچے اور ٹیچر جاں بحق ہوگئے تھے ،راحیل کامران شیخ کی درخواست میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی ،چاروں صوبائی حکومتوں ،چاروں صوبوں کے آئی جی صاحبان ،صحت کے محکمے ،اوگرا ،پیمرا اور اسلام آباد پولیس سمیت 25افراد کو فریق بنایا گیا ہے ،آئینی درخواست میں جان لیوا حادثات کی روک تھام کے لئے فول پروف اقدامات کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

مزید :

لاہور -