یہ صحافت ہے: انفلوئنزا پھیل رہا ہے!

یہ صحافت ہے: انفلوئنزا پھیل رہا ہے!
یہ صحافت ہے: انفلوئنزا پھیل رہا ہے!

  

ایک قانونی اصطلاح ہے۔۔۔ ’’بادی النظر میں‘‘یہ عام طور پر مختلف امور میں استعمال کی جاتی ہے، تاہم محترم ڈاکٹر شاہد مسعود کے سنسنی خیز انکشاف کی تو پہلی ہی نظرمیں کوئی حقیقت نہیں تھی، اس کے باوجود ہم نے دو تین روز انتظار کیا کہ یہ ڈرامہ فلاپ ہوجائے تو اس پر کوئی بات کریں۔

اب سب کچھ سامنے آچکا اور ثابت ہوگیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے تئیں بہت بڑا سکوپ سامنے لے کر آئے تھے اور ان کے خیال میں انٹرنیشنل گینگ کی بات بھی انٹرنیشنل سطح پر ہی چلے گی اور ایسا ہوا بھی ہے، لیکن اس کے فلاپ ہونے میں بھی کچھ زیادہ وقت نہیں لگا اور غبارے میں سے ہوا نکل گئی، اس سے پھر ثابت ہوا کہ صحافت مذاق نہیں ہے، اس کے لئے خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے، اساتذہ کی خدمت اور سخت ترین محنت کی ضرورت ہوتی ہے، پھر یہ بھی لازم ہے کہ آپ خود حالات کے حوالے سے واضح ہوں اور کسی ابہام کو قریب نہ آنے دیں۔

دکھ اور معذرت کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں دیگر شعبوں کی طرح صحافت میں بھی سب اچھا نہیں ہے،خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کا عالم ہی اور ہے، یہاں صحافت سے زیادہ اور بہت کچھ ہورہا ہے، الیکٹرانک میڈیا یکایک آیا، اصحاب کی تربیت نہیں تھی، ایک آدھ چینل مالک نے تربیت کا اہتمام کیا، تاہم اس کی نوعیت تکنیکی تھی، صحافتی آداب نہیں سکھائے جاسکے۔

البتہ جو حضرات پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں گئے ان کی کیفیت مختلف ہے، ان کو صرف اس جدید مواصلاتی ذریعے کے تکنیکی پہلوؤں پر نظر ڈالنا پڑی، مزید بدقسمتی یہ ہوئی کہ بعض ایسے حضرات جن کا صحافت سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، اس شعبے میں درآئے کہ ان کی آواز اور لہجہ گرجدار ہے، انہی میں سے ایک یہ ڈاکٹر موصوف بھی ہیں، یہ پہلے بھی بہت کچھ کرچکے ہوئے ہیں، پھر بھی باز نہیں آتے، اب تو یہ بہت بڑا بلنڈر آگیا ہے۔

اب معمولی سی تحقیق سے اندازہ ہوگیا کہ ڈاکٹر موصوف خود ہی چکرا گئے اور انہوں نے جرنلزم کی اے، بی، سی سے بھی کام نہیں لیا، اصل میں وہ ایک ایسے بلاگر کے پیچھے چل پڑے، جو مختلف چینلوں کی خبروں کو توڑ مروڑ کر سکینڈل بناتے ہیں اور انہی کی سنسنی خیز اطلاع کو ڈاکٹر شاہدمسعود نے اپناکر کمال دکھادیا، حالانکہ تھوڑی سی محنت اور سوچ سے بھی یہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ ایسا ممکن نہیں، یہ ایسا دور ہے جب سٹیٹ بینک والے ایک کلک سے سارے اکاؤنٹ سامنے لاسکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا کہ سٹیٹ بینک نے واضح طور پر تردید کردی اور اصلیت بھی بتادی، اب ڈاکٹر موصوف ہیں اور پورا میڈیا، ان کا ایک بھی حمائتی نہیں ہے، اب وہ کس منہ سے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے؟

۔۔۔بہرحال یہ مسئلہ اپنی جگہ، اصل معاملات تو پہلے سے اوجھل ہوگئے تھے، ان کو سامنے آنا چاہئے تھا، یہاں کوئی تحقیق نہیں ہوئی، ذکر ہوا ایک چینل نے معصوم بچیوں کے قتل کی تاریخ دہرائی جو پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اس سے بعض سوال بھی پیدا ہوتے ہیں، وارداتوں کو پورا کرنے کے لئے ڈی، این، اے کا سہارا لیا گیا ہے۔

پوسٹ مارٹم اور زیادتی کی تفصیل سامنے نہیں لائی گئی، بعض اطلاعات یہ ہیں کہ زیادتی میں ایک سے زیادہ درندے ملوث ہیں، پھر اگر آٹھ کے آٹھ کیس اس ایک ملزم کے ہیں تو پولیس مقابلے میں پار کئے جانے والے افراد کس کھاتے میں مارے گئے؟

اس کے علاوہ ابھی مزید چار کیس ’’اندھے‘‘ ہیں، ان کے ملزم سامنے نہیں آئے، کیا پتہ کہ جلد ہی وہ بھی اسی عمران کا ’’کارنامہ‘‘ بتادیا جائے کہ ڈائریکٹر جنرل فرانزک لیبارٹری کو چالیس سالہ تجربہ ہے اور پنجاب کی یہ لیبارٹری دنیا کی دوسری بڑی لیبارٹری ہے، اللہ رحم کرے، یہ دعویٰ بہت بڑا ہے،ان وارداتوں کی وجہ سے قصور میں 284 نابالغ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی بازگشت بھی سنائی دی ہے، اگرچہ ان وارداتوں میں مقدمات درج ہوئے، لوگ پکڑے بھی گئے لیکن مکمل طور پر تفتیش کے بعد پورے حقائق باہر نہیں آئے اور سہولت کار یاسرپرست اب بھی سکون سے ہیں اور ان کو کوئی فکر نہیں، کیا بہتر نہیں کہ ان واقعات کی پھر سے چھان بین کی جائے۔ شاید نئے حقائق سامنے آئیں اور جرائم کی بیخ کنی میں مدد ملے، وزیر اعلیٰ کو توجہ دینا ہوگی، عدالت عظمیٰ بھی اس پہلو کو دیکھ سکتی ہے۔

اب ایک اپنی پریشانی کا ذکر کریں جو اجتماعی ہے وہ یہ کہ ملتان کا انفلوائنزہ وائرس اب جنوب سے شمال کی طرف آچکا ہے، ہم یہ کالم بستر پر کمبل اوڑھے لکھ رہے ہیں کہ دفتر نہیں جاسکتے۔

دو تین دن سے ناک بہہ رہی تھی، جوشاندہ سے گزارہ کرنے کی کوش کی، ناکام ہوگئے، جمعہ کو طبیعت زیادہ خراب ہوئی، کھانسی بھی شروع ہوگئی، آنکھوں سے پانی بہنے لگا، مجبوراً صاحبزادے عاصم چودھری کو تکلیف دی اور رات اپنے فزیشن ڈاکٹر عدنان قاضی صاحب کے پاس پہنچ گئے، خود کو دکھایا تو حیرت انگیز صورت حال سامنے آئی، ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ وائرس ہے، جو پھیل رہا ہے، بہت مریض آرہے ہیں اور اندیشہ ہے کہ بروقت ویکسین کا انتظام نہ کیا گیا تو آئندہ برس یہ شدید وبائی مشکل اختیار کرجائے گا۔

چیک کرایا، ادویات لکھوائیں اور آرام کرنے کی ہدایت لے کر آئے۔ تبادلہ خیال سے یہی ثابت ہوا کہ یہ فضائی آلودگی کے باعث ہے، اس وقت فضا میں گردو غبار اور دھوئیں کے ساتھ ساتھ مٹی کی تہہ بھی گھل چکی ہے جو لاہور ہی میں ہونے والے ان ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ہے جو بالترتیب مکمل کرنے کی بجائے بیک وقت مکمل کرنے اور لیٹ نکالنے کی وجہ سے ہے۔

اورنج میٹروٹرین اور سیف سٹی پروگرام کی وجہ سے پہلے بھی شہری بھگت چکے اور اب پھر بھگتنا شروع ہوگئے ہیں، اس سلسلے میں کام کی تکمیل کے لئے معروف ٹھیکدار کوئی فکر نہیں کررہے، اس وقت فضا میں آلودگی کی شرح خطرناک حد پر ہے اور اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کے مطابق ماسک بھی چڑھا رکھا ہے کہ دوسرے متاثر نہ ہوں اور چھاتی صاف کرنے کے لئے ادویات بھاپ کا سلسلہ جاری ہے، دعا کی درخواست ہے، رپورٹر حضرات کی توجہ کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، میڈیا حرکت میں آئے تو ذمہ دار بھی ہلتے ہیں، ورنہ کرسیوں سے نکلنا محال ہوتا ہے۔وائرس کی متعلقہ دوا بازارمیں دستیاب نہیں۔

مزید : رائے /کالم