شیخ رشید احمد بند گلی میں !

شیخ رشید احمد بند گلی میں !
 شیخ رشید احمد بند گلی میں !

  

شیخ رشید کو بھی میڈیا میں اِن رہنے کے لئے اداکارہ میرا جیسی عادت پڑ گئی ہے۔ عزت بھلے چلی جائے، لیکن نام میڈیا میں اِن رہنا چاہئے۔ اسی عادت سے مجبور ہو کر انہوں نے مال روڈلاہور کے ناکام پاور شو میں ’’ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار‘‘ بنتے ہوئے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ شاہ سے مراد عمران خان ، طاہر القادری ، آصف علی زرداری ، چوہدری پرویز الٰہی سمیت کسی کو بھی لیا جا سکتا ہے، کیونکہ شیخ صاحب کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنا مطلب نکالنے کے لئے کسی کو بھی ’’شاہ ‘‘ بنانے کے لئے تیار رہتے ہیں ۔

استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے شیخ چلی کی طرح ان کے ذہن میں بھی آیا ہوگا کہ ان کا اعلان بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگا اور اس کے بعد عمران خان سمیت تمام اتحادی بھی جوش میں آکر ان کی تقلید کرتے ہوئے استعفوں کا اعلان کر دیں گے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

شیخ صاحب کے دل پر بجلی تو اسی وقت گر گئی تھی جب ان کے استعفیٰ دینے کے اعلان پراسٹیج کے اوپر بیٹھے عمران خان نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے طنزیہ ہنسی چہرے پر سجائی تھی ، جس کا مطلب تھا کہ ہم اتنے کاکے بھی نہیں جتنا آپ ہمیں سمجھتے ہیں ۔

اب جب استعفیٰ کا ’’وار‘‘ ناکام گیا اوریہ استعفیٰ بارش کا پہلا قطرہ نہ بن سکا تو شیخ صاحب کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو گئے کہ جوش خطابت میں وہ تو سیاست کی’’ بند گلی‘‘ میں آگئے ہیں، اب ان کی سوچ کا ایک ہی محور تھا کہ زبان سے نکلا ہوا اعلان اور کمان سے نکلا ہوا تیر کس طرح واپس ہو۔ دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ ان کو یہ فکر لاحق ہوگئی تھی کہ کس طرح اب اپنا یہ تھوکا ہوا چاٹیں ۔

سب سے پہلے توانہوں نے یہ کیا کہ فوراً دوبئی پہنچے ، تاکہ کچھ’’ ریفریشمنٹ ‘‘ بھی ہو جائے اور شاید اس دوران کمزور حافظہ کے عوام ان کی یہ بھڑک بھول چکے ہوں۔ لیکن یہ استعفیٰ تو ان کی چھیڑ ہی بن کر رہ گئی ۔

جب جان چھوٹتی دکھائی نہ دی تو انہوں نے حسب سابق بہت ڈھٹائی سے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ ’’ مجھے عمران خان نے استعفیٰ دینے سے روک دیا ہے ۔ میرے اکیلے کے استعفیٰ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

سات آٹھ دن انتظار کر لیں ، اب سردار ایاز صادق کے ساتھ ہی جاؤں گا۔ ‘‘ اس پریس کانفرنس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کو توسوموٹو ایکشن لیتے ہوئے شیخ صاحب کو نا اہل قرار دینا چاہے تھا کہ وہ سرعام ایک بہت بڑے جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں لہٰذا اب وہ صادق و امین نہیں رہے۔

لیکن بہر حال لاہور کے مرزا محمد صادق نے لاہور ہائی کورٹ میں رانا راشد ایڈووکیٹ کے توسط سے ایک درخواست دائر کی ہے جس میں استعفیٰ کا اعلان کرنے کے باوجود استعفیٰ نہ دینے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ’’ رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد نے استعفیٰ دینے کے بارے میں عوام سے جھوٹ بولا ہے ، جس کی وجہ سے وہ صادق و امین نہیں رہے لہٰذا عدالت ان کو نا اہل قرار دے ۔‘‘یہ ایک بالکل جائز اور قانونی نکتہ ہے جس پر عدالت کو ضرور میرٹ پر فیصلہ صادر کرنا چاہئے ۔

شیخ صاحب کے استعفیٰ کو سنجیدہ نہ لینے کے حوالے سے میں نے اپنے ایک دوست سے جو پی ٹی آئی کے اہم رہنما ہیں ، استفسار کیا کہ’’ آپ لوگ آج کل شیخ رشید احمد کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ جب انہوں نے ’’ہمت اور جرأت‘‘ کرکے استعفیٰ دیا تو پی ٹی آئی کو بھی استعفا دینا چاہئے تھے۔

‘‘میرے اس دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’شیخ صاحب ایک نمبر کے شعبدہ با ز انسان ہیں۔ جب سے ان کا سایہ پی ٹی آئی پر پڑا ہے تب سے ہماری جماعت بحرانوں کا شکار ہے۔

شیخ صاحب نے 2013ء کے الیکشن میں عمران خان اور طاہر القادری کو اس بات کا یقین دلا دیا تھا کہ ’’امپائر‘‘ ان کے ساتھ ڈائریکٹ رابطے میں ہے۔

آپ لوگ لانگ مارچ لے کر اسلام آباد دھرنا دیں، حالات مناسب ہوتے ہی ’’امپائر ‘‘ انگلی کھڑی کر دے گا۔ شیخ صاحب کی اس یقین دھانی پر عمران خان اور طاہر القادری نے لانگ مارچ کا اہتمام کیا، دھرنا دینے کی تاریخ رقم کی گئی ، جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، اسمبلی کو گالیاں دی گئیں ، قومی اسمبلی سے استعفے دئیے گئے۔

ہر ایک ایکشن کے بعد جب شیخ رشید سے پوچھا جاتا کہ ’’ امپائر ‘‘ کب انگلی اٹھائے گا؟ تو وہ مزید امید دلا کر مطمئن کر دیتے کہ بہت جلد یہ اسمبلی لپیٹ دی جائے گی۔ طاہر القادری صاحب کو شیخ رشید کے جھوٹ کی پہلے سمجھ آگئی ، اسی لئے وہ تحریک انصاف کو اکیلے چھوڑ کر اس دھرنے سے واپس چلے گئے جبکہ تحریک انصاف 126دن تک ’’ امپائر ‘‘ کی انگلی اٹھنے کی آس میں دھرنے پر بیٹھی رہی ۔

لیکن امپائر نے نہ انگلی اٹھانی تھی نہ اٹھائی کیونکہ شیخ رشید کا کسی قسم کا کوئی رابطہ امپائر سے تھا ہی نہیں ، وہ تواپنے سیاسی تجربے کی روشنی میں اس امید پر یہ سب ڈرامہ اسٹیج کروا رہے تھے کہ امپائر کا موڈ ایسے ہی ماحول اور حالات میں مچلتا ہے اور اگر مناسب ماحول اور حالات دیکھ کر حسب سابق امپائر نے انگلی کھڑی کر دی تو وہ سارا کریڈٹ یہ کہہ کر خود لے لیں گے کہ ’’دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ امپائر میرے رابطے میں ہے۔

‘‘اس بے ثمر دھرنے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت نے عمران خان کو شیخ رشید سے فاصلہ رکھنے کا مشورہ دیا تھاکہ جو شخص نواز شریف جیسے اپنے سب سے بڑے محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا ہے، وہ ہمیں کیوں بخشے گا؟ لیکن خان صاحب نے اس مشورہ کو نہیں مانا ، جس کی وجہ سے پارٹی قیادت بلکہ تحریک انصاف کے کارکنوں میں بھی بد دلی پیدا ہوئی ۔

اس کے بعد ہم نے خان صاحب کو یہ مشورہ دیا کہ اگر شیخ رشید سے فاصلہ نہیں رکھ سکتے تو اسے اس پر قائل کریں کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو جائے۔ اس پر عمران خان نے شیخ رشید سے بات کی لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا ۔

پھر شیخ رشید کو جب عمران خان نے میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا امیداوار نامزد کیا تو اس پر پارٹی قیادت کے شدید تحفظات سامنے آئے کہ کیا تحریک انصاف میں ایسا کوئی اہل شخص نہیں ہے، جس کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا جائے؟

لیکن نا معلوم عمران خان کی کیا مجبوری تھی کہ وہ شیخ رشید جیسے ابن الوقت کو پارٹی قیادت کے تحفظات کے باوجود ترجیح دیتے رہے ۔ لیکن اب عمران خان کافی محتاط ہو چکے ہیں شیخ صاحب کے معاملے میں۔

کیونکہ مال روڈ پر متحدہ اپوزیشن کے جلسہ کا انعقاد کروانے میں بھی شیخ رشید نے وہی پرانا داؤ استعمال کیا تھا کہ ’’ امپائر‘‘ ان کے رابطے میں ہے۔ اگر تمام اپوزیش جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر اورمتحد ہو کر جلسہ کریں اور اسے دھرنے میں بدل دیں تو امپائر نے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف انگلی کھڑے کر دے گا ۔

اسی فارمولے کو لے کر شیخ رشیدپہلے طاہر القادری کے پاس گئے ، پی پی کی قیادت کو یقین دھانی کروائی اور عمران خان کو بھی شیشے میں اتارنے کی کوشش کی ۔ لیکن مال روڈ کے ناکام ترین جلسہ نے ثابت کر دیا کہ شیخ صاحب کا امپائر سے دور دور کا بھی رابطہ اور واسطہ نہیں ہے۔

کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اگر’’ امپائر‘‘ کسی کام کے پیچھے ہوتا ہے تو وہ کم ہی ناکامی سے دوچار ہوتا ہے۔ یعنی اگر’’ امپائر‘‘ مال روڈ لاہور کے جلسہ کی پشت پر ہوتا تو عوا م کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یہاں امنڈ آتا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ، جس سے شیخ رشید ایک بار پھر بے نقاب ہوگئے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی چیئر مین نے شیخ صاحب کو زیادہ لفٹ نہ کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اب توپی ٹی آئی کے عام کارکن بھی عمران خان کی موجودگی میں یہ آوازیں کسنا شروع ہو گئے ہیں کہ ’’ چپڑاسی کا مشورہ نامنظور۔ ‘‘

پی ٹی آئی رہنماء کی بتائی ہوئی اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ مبینہ طور پر طاہر القادری اور عمران خان ’’ امپائر ‘‘ کے نام پر شیخ رشید کے ہاتھوں بار بار ٹریپ ہوئے۔ اور اب مال روڈ لاہو رکے جلسہ میں قومی اسمبلی پر لعنت بھیجنے اور استعفیٰ کا اعلان کر کے انکار کر دینے سے پوری قوم پر ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ شیخ رشید احمدپر نہ صرف یہ کہاوت صادق آتی ہے کہ ’’جس’’ اسمبلی‘‘ میں کھاتے ہیں ،اسی میں چھید کرتے ہیں ‘‘ بلکہ یہ بھی مکرر ثابت ہوگیا کہ وہ ایک ’’بے زبان ‘‘اور مفاد پرست انسان ہیں۔

کل جس طرح وہ مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کو اپنا بھائی اور محسن کہتے تھے، اسی طرح آج وہ عمران خان کو اپنا مائی باپ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا ٹریک ریکارڈ گواہ ہے کہ جس طرح آج وہ میاں نواز شریف کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اور ذاتیات پر رذیل ترین وار کرنے سے نہیں چوکتے، عین اسی طرح کل عمران خان، شیخ صاحب کے بد ترین دشمن ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں خان صاحب کی ذات پرمفاد ات ختم ہوجانے کے بعد جو کیچڑ شیخ رشید نے اچھالنا ہے ، اس کا ابھی کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ ایسے ابن الوقت لوگوں کی یہی تاریخ رہی ہے۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لی جائے ، ایسا وقت بہت جلد آنے والا ہے!

مزید : رائے /کالم