تعلیمی بورڈز میں کمشنری نظام، اساتذہ کے حق پر ڈاکہ

تعلیمی بورڈز میں کمشنری نظام، اساتذہ کے حق پر ڈاکہ
تعلیمی بورڈز میں کمشنری نظام، اساتذہ کے حق پر ڈاکہ

  

اساتذہ کہتے ہیں بیوروکریسی اُن کے حق پر ڈاکہ مارنے میں کامیاب ہو گئی ہے، بہت عرصے سے بیورو کریٹس کی تعلیمی بورڈ کی پرکشش پوسٹ پر نظر تھی لیکن اساتذہ کی مزاحمت کے خوف سے پنجاب حکومت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ اب اچانک پنجاب کے 9 میں سے 6 بورڈز کی چیئرمین شپ کا چارج متعلقہ ڈویژنوں کے کمشنروں کو دے دیا گیا ہے۔

جن تعلیمی بورڈوں میں کمشنروں کو چیئرمین تعینات کیا گیا اُن میں ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد، ساہیوال اور بہاولپور کے ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز شامل ہیں۔ تعلیمی بورڈ نیم حکومتی ادارے ہیں، جنہیں بورڈ آف گورنرز کے تحت چلایا جاتا ہے تاہم چیئرمین کو لامحدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں، کروڑوں روپے کے فنڈز اُس کی صوابدید پر ہوتے ہیں اور اُس کے فیصلوں کو چیلنج بھی نہیں کیا جا سکتا۔

تعلیمی بورڈز کی اس ’’خوشحالی‘‘ کے پیشِ نظر ہمیشہ بیوروکریٹس کی اس پوسٹ پر نظر رہی۔ پہلے اس پوسٹ کے لئے صرف سینئر اساتذہ درخواست دے سکتے تھے، مگر کچھ عرصے سے سی ایس پی افسران بھی اُمیدواروں میں شامل ہونے لگے لیکن امتحانی تجربہ نہ ہونے اور تعلیمی بورڈز کے نظام سے عدم واقفیت کے باعث اُنہیں اس منصب پر فائز نہ کیا گیا۔

اب نجانے کیسے وزیراعلیٰ شہبازشریف کو بیوروکریسی نے اندر خانے رام کر لیا ہے اور بیک وقت چھ تعلیمی بورڈز کا چارج کمشنروں کو دے دیا گیا ہے۔ باقی جو تین بورڈ ہیں، اُن پر ابھی پروفیسرز تعینات ہیں، کیونکہ اُن کی بطور چیئرمین مدت مکمل نہیں ہوئی، جونہی مدت مکمل ہوئی وہاں بھی کمشنر راج قائم ہو جائے گا، جن میں لاہور بورڈ بھی شامل ہے۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ تصور موجود ہے کہ جو سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیتا ہے، وہ ہر مرض کا دارو ثابت ہو سکتا ہے۔ سی ایس پی افسران غالباً اس ملک کی واحد مخلوق ہیں جو الٰہ دین چراغ کے جن کی طرح ہر کام کر سکتے ہیں۔

اب یہ ایک پوسٹ بچی تھی، اُس پر بھی شب خون مار دیا گیا ہے۔ غالباً کچھ عرصے تک تو کمشنر چیئرمین بورڈر رہیں گے، اُس کے بعد مستقلاً بیوروکریٹس ان پر بٹھا دیئے جائیں گے،کوئی حکمرانوں سے پوچھے کہ ان لوگوں نے پہلے کس محکمے کو ٹھیک کیا ہے جو اب تعلیمی بورڈز کو ٹھیک کرانے کی راہ نکالی گئی ہے۔ اگر یہ بیوروکریٹس اتنے ہی کامیاب ہوتے تو گورننس کا یہ حال نہ ہوتا۔

یہ لوگ تو اب صرف پرکشش اسامیاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں، چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹس کی تعداد بڑھ گئی ہے اور بیسویں گریڈ کی اسامیاں کم پڑ گئی ہیں، اس لئے تعلیمی بورڈ کی 9 اسامیوں کو بھی اپنے لئے وقف کرانے کی کوششیں جاری تھیں، جو غالباً کامیاب ہو گئی ہیں۔

اب اس فیصلے کو دیکھئے کہ جس میں ڈویژنل سربراہ یعنی کمشنر کو تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کا چارج بھی دیا گیا ہے۔ آیا یہ پارٹ ٹائم جاب ہے، کیا اس کی اہمیت یہی ہے کہ کمشنرصاحب بہادر کبھی کبھار وقت نکال کر تعلیمی بورڈ کے دفتر بھی آ جائیں اور اس کے معاملات کو دیکھیں، جو لوگ چیئرمین تعلیمی بورڈ کی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنا اہم اور مکمل توجہ سے کیا جانے والا کام ہے۔

ہر چیز تو چیئرمین کے گرد گھومتی ہے۔ اب کیا کمشنر صاحب کا انتظار ہی کیا جاتا رہے گا کہ وہ کب اپنی اصل ذمہ داریوں سے وقت نکال کر آتے ہیں، کیا لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے تعلق رکھنے والے اس ادارے کی اہمیت یہی ہے کہ اُسے پارٹ ٹائم سربراہ فراہم کیا جائے۔

آخر ایسی کون سی خرابی سامنے آئی تھی جس کی وجہ سے کئی دہائیوں سے چلنے والے نظام کو اچانک تبدیل کر دیا گیا۔ کمشنر ملتان بلال بٹ نے چارج سنبھالنے کے بعد بورڈ حکام کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات کو شفاف اور بروقت بنانا اُن کا مشن ہے۔

اللہ کے بندے! یہ کام پہلے ہی بڑے احسن طریقے سے ہو رہا ہے، تعلیمی بورڈز کے امتحانات کم از کم پنجاب کی حد تک بہت شفاف اور بروقت ہوتے رہے ہیں بلکہ پورے پنجاب کے تعلیمی بورڈز ایک ہی امتحانی شیڈول جاری کرتے اور نتیجہ بھی ایک ہی دن سناتے ہیں اور یہ سلسلہ اب تو کئی برس سے جاری ہے۔

اس شب خون کے بعد بیوروکریسی کل کلاں یونیورسٹیوں کی وائس چانسلرشپ پر بھی اسی طرح ’’حملہ آور‘‘ ہوگی اور بہانہ یہ بنایا جائے گا کہ یونیورسٹیاں چونکہ سیاست کا گڑھ بن گئی ہیں، اس لئے وہاں سی ایس پی افسر کا بطور وائس چانسلر تقرر ضروری ہے، گویا یہ بیوروکریسی جو درحقیقت ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہے، ہر قسم کے مسئلے کا علاج ہے۔

کچھ وقت گزرے گا تو علم ہوگا کہ تعلیمی بورڈز میں جو تجربہ کیا گیا ہے، وہ کیا رنگ دکھاتا ہے۔ امتحانی نظام کو شفاف رکھنا بہت نازک کام ہے، اس میں آغاز سے لے کر اختتام تک اساتذہ کا کردار ہوتا ہے۔

امتحانی ڈیوٹی بھی وہی دیتے، چیف سیکریسی افسر بھی ریٹائرڈ پروفیسر ہوتا ہے، پرچوں کی مارکنگ بھی اساتذہ کرتے ہیں، پیپرز بھی وہی بناتے ہیں، یعنی ہر قدم پر اساتذہ ہی نظر آتے ہیں، ایک اُستاد کی چیئرمین کی حیثیت سے موجودگی ان سب مراحل کو سہل اور رواں بنا دیتی تھی، اب ایک بیوروکریٹ کی موجودگی میں یہ ورکنگ ریلیشن شپ کیسے قائم ہو سکے گی۔

بیوروکریٹ سے تو ملنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ پھر چیئرمین کے ماتحت کنٹرولر امتحانات اور سیکرٹری تعلیمی بورڈ کی پوسٹیں اساتذہ کے لئے وقف ہیں، کیا ایک بیوروکریٹ بورڈ کے معاملات کو چلانے کے لئے اُن سے اُس طرح مشاورت کر سکے گا جیسے کسی پروفیسر کی اس منصب پر موجودگی کی صورت میں رہتی تھی۔

میرے نزدیک تو ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہو جائے گا، کیونکہ کمشنر صاحب ہمہ وقت بورڈ آفس میں موجود بھی نہیں ہوں گے، اُنہیں ڈویژن بھر کے دیگر معاملات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ جب سے یہ فیصلہ ہوا ہے، اساتذہ اور بورڈز کے ہزاروں ملازمین میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

اساتذہ تنظیموں کی طرف سے مخالفانہ بیانات آنا شروع ہو چکے ہیں، ایک اچھا بھلا تعلیمی سیکٹر کسی نئے بحران سے دوچار ہونے جا رہا ہے۔ شہبازشریف ایک ذہین منتظم ہیں مگر بیوروکریٹس کے مشوروں سے غالباً بچ نہیں پاتے۔ جو اُنہیں سیدھا راستہ دکھانے کی بجائے کسی اُلٹے راستے پر ڈال دیتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ چیئرمین بورڈ کی پوسٹ پر تعیناتی کے لئے میرٹ اور اہلیت کے نظام کو مزید شفاف بنایا جاتا، ماضی میں اس منصب پر تعیناتی کے لئے ارکانِ اسمبلی اپنے پسندیدہ اُمیدوار کے لئے جو رسہ کشی کرتے رہے ہیں، اُس کا خاتمہ کیا جاتا، اس پوسٹ پر تقرری کے لئے قواعد و ضوابط بنائے جاتے اور پورے پنجاب کے اساتذہ سے درخواستیں طلب کی جاتیں لیکن ایسا کرنے کی بجائے قصہ ہی ختم کر دیا گیا۔ چیئرمین بورڈ کی حیثیت سے تعینات ہونے والے پروفیسرز صاحبان تو ایک ایک پیسہ ڈر ڈر کر خرچ کرتے تھے کہ کہیں آڈٹ پیرا نہ بن جائے اور اُن کی پنشن ہی جاری نہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ہر تعلیمی بورڈ میں کروڑوں روپے پڑے ہیں اور کسی تعلیمی بورڈ نے حکومت سے ایک پیسہ نہیں مانگا بلکہ الٹا پنجاب حکومت اپنے منصوبوں کے لئے تعلیمی بورڈز سے قرض لیتی رہی ہے۔

بیوروکریٹس کو تو آڈٹ پیروں کا ڈر ہی نہیں ہوتا۔ اُنہیں تو بے دریغ اور بے خوف و خطر خرچ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ اس پرکشش منصب اور اس کے خزانے پر بیٹھ کر کیا گل کھلائیں گے، اس کا جواب تو کچھ عرصے بعد ہی ملے گا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف کو یہ فیصلہ کرنے سے پہلے اتنا تو سوچنا چاہئے تھا کہ اُنہوں نے اپنی سخت نگرانی اور مضبوط انتظامی گرفت سے سارے پنجاب میں تعلیمی بورڈز کو جس طرح شفاف امتحانات کا مرکز بنایا تھا اور دوسرے صوبے پنجاب کی مثالیں دیتے تھے، اُس میں یہ تجربہ کہیں نقصان دہ تو ثابت نہیں ہوگا۔

ذرا تصور کریں کہ اس فیصلے کی وجہ سے اگر اساتذہ اور بورڈ ملازمین کی اپنے بیوروکریٹ چیئرمین سے مخاصمت شروع ہو گئی تو اس کے اثرات امتحانی نظام پر مرتب نہیں ہوں گے۔

ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک ڈویژن سے دوسرے ڈویژن میں تعینات ہونے والے بیوروکریٹس کو اس لئے کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ نظام ایک ہی ہوتا ہے مگر تعلیمی بورڈز کا تو اُنہیں سرے سے کوئی تجربہ ہی نہیں کیونکہ خودمختار ہونے کی وجہ سے یہ تو کبھی اُن کی دسترس میں ہی نہیں رہے۔

عین اُس وقت کہ جب کچھ عرصے بعد میٹرک اور انٹر کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں، یہ تجربہ پورے سسٹم کو تہہ و بالا بھی کر سکتا ہے۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو، کیونکہ لوگوں کا بڑی مشکل سے امتحانی نظام کی شفافیت پر اعتبار قائم ہوا ہے اگر اس اعتبار پر کوئی زد پڑی تو پھر ایک عرصے تک اُس کی بحالی کا کشٹ کاٹنا پڑے گا۔

مزید : رائے /کالم