ورلڈ الیون شائقین ہاکی کی پذیرائی حاصل نہ کرسکی

ورلڈ الیون شائقین ہاکی کی پذیرائی حاصل نہ کرسکی

پاکستان میں ہاکی کا کھیل مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ شائقین ہاکی بھی اب فیڈریشن کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس کھیل سے دور ہوگئے ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ حال ہی میں ورلڈ الیون جس میں دنیائے ہاکی کے نامور کھلاڑی شامل تھے ان کے دورہ پاکستان میں دو میچ کھیلنے کے دوران کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کے دونوں ہاکی سٹیڈیم خالی رہے ورلڈ الیون میں شامل عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی خالی سٹیڈیم دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئے اور یقینی طور پر ان کے ذہین میں یہ سوال ضرور پیدا ہوا ہوگا کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے مگر یہ کھیل پاکستان میں اب ختم ہوتا نظر آرہا ہے یہ سب فیڈریشن کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے اورضرورت اس بات کی ہے کہ اس کھیل کو ترقی دی جائے اور محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے اس کے بعد ٹیموں کومدعوکیا جائے تاکہ لوگ بھی سٹیڈیمز کا رخ کریں اور اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ اس کھیل میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں اس حوالے سے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی پال لٹجز نے کہا کہ جب ماضی میں پاکستان آکر کھیلتے تھے تو سٹیڈیمز شائقین سے بھرے ہوتے تھے مگر آج کی صورتحال دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ اب خالی پڑے ہوئے ہیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ہاکی کا کھویاہو امقام حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہے تاکہ ایک مرتبہ دوبارہ اس کھیل کو عروج مل سکے اور شائقین بھی اس کھیل کی طرف بھرپور توجہ دیں ورنہ سٹیڈیمز اسی طرح سے ویران ہی نظر آئیں گے جو اس کھیکے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی نے مزید اس بارے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آنے کی بہت خوشی ہوئی ہے اس سے قبل جب 1981 میں ہالینڈ کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور چیمپنز ٹرافی جیتی تھی تو بہت خوشی ہوئی تھی اور دورہ کا بہت مزا آیا تھا اور اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزازمجھے حاصل ہوا تھا جسے میںآج تک نہیں بھول سکا پاکستان کا دورہ کرکے بہت خوشی ہوئی ہے اور ہم پاکستان میں ہاکی کے کھیل کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کھیلوں کے لئے پرامن ملک ہے اور یہاں پر کھیلوں کا انعقاد ہونا چاہئیے اورامید ہے کہ ہمارے اس دورہ سے پاکستان کاامیج پوری دنیا میں بہت بہتر ہوگا پاکستان ہاکی فیڈریشن کھیل کی ترقی کے لئے صرف بلند وبانگ دعوے کرتی نظر آرہی ہے اور اس کھیل پر عملی توجہ دینے سے قاصر ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پاکستان میں کئی کھیلے جانے والے مقبول کھیل جو آج ماضی کا حصہ بن ہیں ہاکی کا کھیل بھی ان کھیلوں میں شامل ہوجائے گا پاکستان ہاکی فیڈریشن کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے غیر ملکی ٹیموں کو قائل کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی ہاکی ٹیم کی بہتری کے لئے عملی اقدامات بھی بھرپور ضروری ہیں اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب اس حوالے سے مل جل کر کام کیا جائے اور فیڈریشن سیاست سے دوری اختیار کرلے کسی بھی کھیل کی ناکامی کے پیچھے سب سے بڑاہاتھ سیاست کاہوتا ہے اور اس کا خاتمہ کھیل کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔

مزید : ایڈیشن 1