نئی مانیٹری پالیسی کے برآمدات پر مزید منفی اثرات مرتب ہونگے ، مہنگائی کا طوفان آئے گا ، صنعتکار رہنما

نئی مانیٹری پالیسی کے برآمدات پر مزید منفی اثرات مرتب ہونگے ، مہنگائی کا ...

لاہور(فورم رپورٹ :اسد اقبال) ممتاز صنعتکار تنظیموں کے رہنماؤں نے سٹیٹ بنک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی میں 0.25پوائنٹس اضافہ سے پالیسی ریٹ 6فیصد مقرر کرنے کو مہنگائی کے طوفان میں اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی ریٹ بڑھنے سے ڈالر کی قدر میں اضافہ اورکاسٹ آف ڈوئنگ بڑھنے سے برآمدات پر مزید منفی اثرات مرتب ہو نگے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت انرجی کرائسز پر قابو پاتے ہوئے صنعتی برادری کو بجلی کی قیمت میں فی یو نٹ 3روپے کا ریلیف دے تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ کر سکیں ۔ پاکستان فورم" میں اظہار خیال کر تے ہوئے سارک چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخار علی ملک ، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری پنجاب کے ریجنل چیئر مین عرفان یو سف ، آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی جنرل سیکرٹری نعیم میر ،بزنس مین فرنٹ اور پاکستان کسٹمز کلیئر نس ایجنٹس ایسو سی ایشن کے چیئر مین امجد چو دھری ،پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری نبیل محمود طارق اور ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر فلاحت عمران نے کہا کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں اضافہ سے حکومت کے قرضوں پر سود میں معمولی اضافہ ہو گا نجی شعبہ کو زائد مارک اپ پر بنک قرضے جاری کریں گے ۔ جس رفتار سے ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے اس بنیاد پر افراط زر بڑھے گا مہنگائی کی شرح زیادہ ہو گی ۔ ملک میں پہلے ہی کاسٹ آف ڈوئنگ بڑھنے سے اخراجات بڑھ چکے ہیں جس سے ہماری ایکسپورٹ 25بلین سے کم ہو کر 20بلین رہ گئی ہے جس کے لیے حکومت کو انر جی بحران پر قابو پاتے ہوئے صنعتی سیکٹرکو ریلیف دینا چائیے ۔ حکومت نے مالیاتی اور بیرونی شعبے میں جو اصلاحات کر نی تھیں وہ بھی نہیں کیں اس لیے ضروری ہے کہ ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے وفاقی حکومت اور سٹیٹ بنک کی پالیسیوں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے ۔

پالیسی ریٹ

مزید : علاقائی