سول جج کیلئے تحریری امتحان : 6ہزار 537امیدواروں میں صرف 21کامیاب

سول جج کیلئے تحریری امتحان : 6ہزار 537امیدواروں میں صرف 21کامیاب

 لاہور(نامہ نگار خصوصی)سول جج کے عہدہ کے لئے تحریری امتحان دینے والے6 ہزار537امیدواروں میں سے صرف 21کامیاب ہوسکے جبکہ 6ہزار 516 امیدوارتحریری امتحان پاس نہ کرسکے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے سول ججوں کی خالی اسامیوں کے لئے ہونے والے تحریری امتحان کے نتائج کا اعلان کیا۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں اس بابت ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالتوں کو چلانے کے لئے سمجھوتہ کبھی نہیں کرنا، بے خوف و خطر انصاف فراہم کرنا ہے۔ ہم صبح و شام ایک امتحان سے گزرتے ہیں، قانون سے ہٹ کر فیصلہ کرنے کا سوچنا بھی نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ مقابلے کے امتحانات کی طرز پر سول ججوں کے امتحانات کا انعقاد آسان کام نہیں تھا لیکن ہماری کمیٹی کا کام لائق تحسین ہے جس نے مشکل کام کو ممکن کر دکھایا۔ساڑھے 6 ہزار امیدواروں میں ایک نابینا امیدوار بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا خواتین کی شمولیت بھی حوصلہ افزاء نہیں ہے ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ خواتین کا تناسب 50 فیصد ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا امتحانی مراحل کو مکمل طور ہر شفاف رکھا گیاہے۔ اس موقع پر نامزد چیف جسٹس محمد یاور علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے امتحانی کمیٹی کے ممبران اور دیگر عملہ کی خدمات کو سراہا، انہوں نے کہا ہم لئے باعث اطمینان ہے کہ سول ججوں کو مکمل میرٹ کے تحت بھرتی کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں تقریب سے چیئرمین ایگزامینیشن کمیٹی جسٹس شاہد وحید نے امتحانی مراحل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹس کی خالی اسامیوں پر لاہور ہائی کورٹ کے زیر انتظام نومبر 2017 ء میں پہلی مرتبہ مقابلے کا امتحان منعقد کیا گیا ہے جس میں تقریبا ساڑھے 6ہزار امیدواروں نے شرکت کی ،جن میں 1500 کے قریب خواتین شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج صرف امتحانات میں ناکام امیدواروں کا اعلان کیاگیا ہے، کامیاب امیدواروں کا اعلان انٹرویوز کے بعد کیا جائے گا جبکہ امتحانات میں بے قاعدگیوں میں ملوث امیدواروں کے خلاف چارج شیٹس بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ جسٹس سرداد نعیم احمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس نے ایگزامینیشن کمیٹی کے ممبران اور سپورٹنگ ٹیم میں شیلڈز اور اسناد بھی تقسیم کیں۔

سول جج؍ نتائج

مزید : علاقائی