پنجاب یونیورسٹی کی صورتحال، حکومتی رویہ نا قابل قبول:عاصمہ جہانگیر

پنجاب یونیورسٹی کی صورتحال، حکومتی رویہ نا قابل قبول:عاصمہ جہانگیر

لاہور( ایجوکیشن رپورٹر) معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے آج کل یونیورسٹی میں جو ہورہا ہے اور پنجاب حکومت کا جو رویہ ہے وہ قابل مذمت ہے، یونیورسٹیز میں طلبہ تنظیم کا ایک گروپ حاوی ہو گیا ہے۔ پنجابیوں کو جب تشدد کا نشا نہ بنایا گیا تو تب بھی احتجاج کیا تھا اب بھی پنجاب یونیورسٹی میں صورتحال ناقابل قبول ہے۔گزشتہ روز پریس کلب لاہور میں بلوچ پختو ن طلبہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا اگر وائس چانسلر کا بیان آئے کے ڈنڈے دے کر پہاڑوں پر بھیج دیں گے تو یہ ا فسو سناک ہے۔ طلباء یونین پرپابندی کے سخت خلاف ہیں پابندی میں بھی ایک جمعیت کی یونین فعال ہے کسی طلباء یونین کو ٹارچر سیل بنانے کی اجازت نہیں ہونی چا ہئے کسی بھی بچے پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں ۔ پنجاب یونیورسٹی میں دوسرے صوبوں سے بچوں کا آنا خوش آئند ہے بچے پوچھتے ہیں اگلی بار پنجاب میں ویزہ لے کر آئیں ۔190 گھرانے اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں ، پنجاب حکو مت کو چاہئے باہر سے بچوں کو بلانے کے بعد ان سے رویے بھی بہتر رکھاجائے ۔مذہبی شناخت اور دیگر چیزیں ذاتی معاملہ ہیں انہیں مت چھیڑیں پنجاب حکومت فی الفور تمام بچوں کو رہاکرے ہمارے طالبعلم دہشتگرد ہیں جو ان پر دہشتگردی کی شقیں لگائی گئیں؟ایسا مت کریں ۔اس موقع پر ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین آئی اے رحمان نے کہا طلباء یونین کیلئے قانون سازی کی جائے یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر اور ڈسپلنری کمیٹی امن و امان قائم رکھتی ہیں ۔وائس چانسلر جب تھانے داروں کو بلا کر ایسے اقدامات کریں گے تو معاملات بگڑیں گے ابھی تک وائس چانسلر اور اکیڈمک کونسل کا کوئی کردار نظر نہیں آیا۔طالبعلم رہنماجواد شاہ کاکہنا تھا ہم پرجھوٹا الزام لگایا جارہا ہے سی ایس ایس کے امتحانات دینے والے آپ نے پکڑ لیے ہیں سب لڑائی جھگڑے سیاستدان کروارہے ہیں ۔وائس چانسلر نے نومینشن کا بیان دیا تو کیا ہم ویزہ لگوا کر آئیں گے۔بلوچی طالبعلم رہنماسہیل شاہ نے کہا 21 جنوری کو سول لائن میں بلوچی طلباء کو مارا گیا جمعیت کے پاس پروگرام کو خر اب کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ،سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں جمعیت نے طالبعلم کو مارا سب واقعات کے باوجود انتظامیہ کا کوئی بندہ سامنے نہیں آیا ،پشتون طلباء پر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر حملہ کیا گیا۔ عاصمہ جہانگیرنے حکومت کو کہا حالات کی بہتری اور شفاف تحقیقات کیلئے سابق چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے امیر حیدرخان ہوتی پنجاب یونیورسٹی میں واقعے کی شدید الفاظ مذمت کرتے ہیں اس واقعے سے دوسرے صوبوں کو غلط پیغام جارہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر