نواز شریف کو اگلے ماہ منی لانڈرنگ کیس میں سزا ہو گی،عمران خان

نواز شریف کو اگلے ماہ منی لانڈرنگ کیس میں سزا ہو گی،عمران خان

کراچی (صباح نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو اگلے ماہ منی لانڈرنگ میں سزا ہو گی ،نواز شریف اور آصف زرداری میں فرق صرف طریقہ واردات کا ہے، زرداری ایک مصدقہ مجرم ہے اس لئے اس کیساتھ کھڑے ہونے کا جرم نہیں کر سکتا۔کراچی ایئر پورٹ پر میڈیا کیساتھ گفتگو میں سینیٹ الیکشن سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ خدانخواستہ میں آصف زرداری کے ساتھ کہیں نہیں کھڑا ہو سکتا میں ایسا جرم نہیں کر سکتا آصف زرداری سند یافتہ مجرم ہے یہ اتنا ہی کرپٹ ہے جتنا نواز شریف ہے ان میں کوئی فرق نہیں دونوں نے اس ملک کو لوٹا ہے دونوں کی اربوں روپے کی باہر جائیدادیں ہیں ان سے میرا کیا تعلق ہو سکتا ہے۔میری 21سال کی جدوجہد ہی آصف زرداری اور نواز شریف کے خلاف ہے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر میں سپریم کورت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں نواز شریف پوری کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح اسے توہین عدالت میں جیل میں ڈالا جائے فوج پر حملے کر رہا ہے تا کہ کسی طرح جمہوریت ڈی ریل ہو جائے نواز شریف کو منی لانڈرنگ میں سزا ہونے جا رہی ہے اس کی کوشش ہے کہ وہ کسی طریقے سے اس سے بچ جائے سب کو پتہ ہے نواز شریف کو سزا ہونی ہے جعلی قطری خط پر بھی اسے سزا ہونی چاہیے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح نظام ڈی ریل ہو اگر سزا ہو گئی تو 30برسوں سے لوٹ کر باہر لے جانے والا سارا پیسہ منجمند ہو جائے گا اور جب ان کے اکاؤنٹس منجمند ہو جائیں گے پھر وہ پیسہ واپس آئے گا اور انشاء اللہ تحریک انصاف کی حکومت تعلیم پر لگائے گی یہ پیسے بچانے کیلئے جڑانوالہ اور ادھر ادھر بھاگے پھر رہے ہیں اور رٹ لگا رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ان کو پتہ ہے کہ انہوں نے بہت بڑی چوری کی ہے ان کے وزیروں اور پتلے وزیر اعظم کو بھی علم ہے کہ نواز شریف اپنی چوری چھپا رہا ہے راؤ انوار کے بارے میں سوال پر عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی پولیس والا کسی کو قتل نہیں کر سکتا جب تک اس کی پشت پر طاقتور نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ کراچی اور پنجاب پولیس ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے زینب کے قتل سے پہلے بھی قصور میں بچوں سے بداخلاقی کا سکینڈل سامنے آیا تھا جس کا بین الاقوامی چائلڈ پورنو گرافی سے تعلق تھا ۔انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کو سیاسی نہ بنایا جاتا تو کبھی شہر کراچی اور پنجاب میں رینجرز کی ضرورت نہ پڑتی اگر کے پی کے کی طرح یہاں بھی پولیس اصلاحات ہوتی تو کبھی ماورائے عدالت ہلاکتیں نہ ہوتی اور میں یہ تو نہیں کہتا کہ کے پی کے کی پولیس یورپ کی پولیس بن گئی ہے۔مردان کی عاصمہ کے باپ نے یہ نہیں کہا کہ مجھے آرمی چیف اور چیف جسٹس سے مدد چاہیے جس طرح قصور میں زینب کے والد نے کہا کہ مجھے آرمی چیف پر اعتماد ہے مجھے چیف جسٹس سے انصاف چاہیے عاصمہ کے والد نے اس لیے نہیں کہا کیونکہ لوگوں کو پولیس پر اعتماد ہے جب تک پنجاب اور سندھ میں پولیس کو غیر سیاسی نہیں کیا جائے گا غلط کاموں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، انہوں نے میرے خلاف چھ ایف آئی آر دہشتگردی کی کٹوا رکھی ہیں ہمارے آدمیوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز کٹوائیں دونوں جماعتیں 19سال اقتدار میں رہی ہیں اتنے عرصے میں رتی بھر بھی پولیس میں اصلاحات نہیں ہوئی ۔عمران خان نے کہا کہ قصور میں زینب کے قاتل کو پکڑنے کیلئے دو افراد کو مار دیا گیا اس سے پہلے بھی قصور میں بچوں کے ساتھ بداخلاقی کا بڑا سکینڈل آیا تھا مگر بعد میں یہ دب گیا خدشہ ہے کہ ان کے پیچھے طاقتور لوگ ہیں جو ان کی پشت پر بیٹھے ہوئے ہیں اور انصاف نہیں ہونے دیتے اور پولیس کو کام کرنے سے روکتے ہیں ۔عمران خان نے کہا کہ ڈولفن پولیس ڈرامہ ہے شریف خاندان نے پولیس کو اپنا ذاتی غلام بنا لیا ہے پولیس کا صرف یہی کام ہے کہ اس نے شریف بادشاہت کو بچانا ہے رائیونڈ میں اڑھائی ہزار پولیس اہلکار ہے سات برسوں میں سات ارب روپیہ خرچ ہوا مجھے بتائیں انگلینڈ کی ملکہ کے پاس کتنے پولیس والے ہیں انہوں نے پولیس تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے لوگوں کو قتل کر دیا گیا دو عورتوں کو دو دو فٹ سے منہ پر گولیاں ماری گئیں ہم طاہر القادری سے یکجہتی کیلئے گئے تھے یہ ایک انسانی مسئلہ ہے چار برسوں سے ان کو انصاف نہیں ملا بدقسمتی سے اس کے پیچھے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ ہیں اس لیے انصاف نہیں مل رہا کیونکہ طاقت کو ہمارا نظام پکڑ ہی نہیں سکتا ۔دریں اثناء ایک ٹویٹ میں ن عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت جرائم کی شرح نیچے لے آئی، ایسا پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کی وجہ سے ہوا۔عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر بھرتیاں بھی معاون ثابت ہوئیں۔

عمران خان/ٹویٹ

مزید : صفحہ اول