جے آئی ٹی نے ایمان فاطمہ قتل کیس بھی ری اوپن کردیا

جے آئی ٹی نے ایمان فاطمہ قتل کیس بھی ری اوپن کردیا

قصور(شیخ محمدحسین سے)زینب قتل کیس میں بننے والی جے آئی ٹی نے ایمان فاطمہ قتل کے مقدمہ کو ری اوپن کرکے قتل کے جرم میں مدثر کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کرنیوالے پولیس افسران،اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرلئے ۔تفصیلات کے مطابق قصور میں ہونیوالے دلخراش واقعات میں معصوم ایمان فاطمہ کو بھی درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کرکے نعش کو زیر تعمیر مکان میں پھینک دیا گیاتھا۔نعش ملنے (بقیہ نمبر54صفحہ12پر )

کے بعد قصور پولیس نے مختلف لوگوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی،مگرلاپرواہی سے کی جانیوالی تفتیش کے دوران مدثر نامی شخص کو ایمان فا طمہ کا قاتل قرار دے کر مبینہ پولیس مقابلہ میں مار کر عوام اور حکومت کے پریشر کو ختم کر دیا، تاہم درندہ صفت قاتل بچ نکلا جس نے اپنی درندگی جاری رکھی اور ایک اور معصوم بچی زینب کو اغواء کر کے جنسی تشدد کا نشانہ بناکر قتل کر کے بعد نعش کو کچرا کے ڈھیر میں پھینک دیا، لیکن اس مرتبہ اہل علاقہ کے شدید احتجاج اور میڈیا میں معاملہ آنے پر پولیس سمیت دیگر ایجنسیوں اور متاثرہ خاندان کی کاوشوں سے سفاک ملزم قاتل عمران پکڑا گیا، پولیس کے مطابق عمران کا ڈی این اے ٹیسٹ نہ صرف معصوم زینب اس سے قبل اسکی درندگی کا شکار ہونیوالی ایمان فا طمہ سمیت آٹھ بچیوں کیساتھ بھی میچ کر گیا،جس سے قصور کی سوگوار فضا مزید غم و غصہ میں بدل گئی، جے آئی ٹی کی نگرانی میں کیے گئے ڈی این اے ٹیسٹ میں عمران 8بچیوں کاقاتل ہے تو مدثر کو کیوں پولیس مقابلہ میں مارا گیا؟۔

مزید : ملتان صفحہ آخر