کابل حملہ میں پاکستان ، افغانستان کے مشترکہ دشمن کا ہاتھ ہے،علامہ ناصر عباس

کابل حملہ میں پاکستان ، افغانستان کے مشترکہ دشمن کا ہاتھ ہے،علامہ ناصر عباس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خودکش حملے کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ان واقعات کے پیچھے پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمنوں کا ہاتھ ہے۔ امریکہ ،اسرائیل اور بھارت خطے کے مسلم ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے اپنی سازشوں میں مصروف ہیں۔پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔قومی و ملکی سلامتی جیسے حساس امور میں ہمیں مشترکہ جدوجہد کرنا ہوں گی۔ دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو کر ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے ان عناصر کا تعاقب کرنا زیادہ ضروری ہے جو دوستی کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے دشمن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش عراق و شام سے فرار ہونے کے بعد افغانستان میں پناہ گاہیں ڈھونڈ رہی ہیں۔انہیں افغانستان میں قدم جمانے کا موقع دینے کا مقصد اس خطے پر عالمی قوتوں کو لشکر کشی کے لیے جواز فراہم کرنا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کو مل کر ایسے عناصر کے خلاف مربوط و منظم پالیسی طے کرنا ہو گی۔دونوں ممالک کی سالمیت و بقا باہمی اتحاد میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کے مسلم ممالک کا اتحاد ان عالمی قوتوں کی شکست تصور ہو گی جو ہمیں دست و گریباں دیکھنے کی خواہاں ہیں۔پاکستان کو گزشتہ تین دہائیوں سے بدترین دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردی کی حالیہ کاروائی بھی انہیں قوتوں کی کارستانی ہے۔انہوں نے شہداکی بلندی درجات اور ان کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر