اشرف جلالی جیل بھرو تحریک کیلئے 4 گھنٹے بیٹھے رہے، پولیس نہ آئی

اشرف جلالی جیل بھرو تحریک کیلئے 4 گھنٹے بیٹھے رہے، پولیس نہ آئی
اشرف جلالی جیل بھرو تحریک کیلئے 4 گھنٹے بیٹھے رہے، پولیس نہ آئی

  

لاہور (ویب ڈیسک) تحریک لبیک کے زیر اہتمام مطالبات ختم نبوت کے سلسلہ میں جیل بھرو تحریک کا آغاز کردیا گیا تاہم پہلے روز تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی اپنے ساتھ مدارس کے طلبہ سمیت 100 افراد کے ساتھ گلے میں گلاب کے ہار ڈالے اسمبلی ہال کے سامنے گرفتاری پیش کرنے کیلئے 4 گھنٹے تک پولیس کا انتظار کرتے رہے لیکن پولیس نے وہاں کا رخ ہی نہیں کیا اور یوں گرفتاری کی خواہش دل میں لئے تحریک کے قائد اپنے جانثاروں کے ساتھ واپس گھروں کو لوٹ گئے۔

اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے کہا کہ منظور شدہ مطالبات پر عملدرآمد نہ کرکے حکمران اقتدار کا شرعی اور اخلاقی جواز کھوچکے ہیں۔ پاکستان جیسی سلطنت میں ختم نبوت پر حملہ ہونا اور شدید جرم کے ثابت ہوجانے کے باوجود آج تک مجرموں کو سزا نہ ملنا بلکہ ان کا بے نقاب نہ ہونا یاک بہت بڑا المیہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران خود ہی اس گناہ کے مجرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی جیب میں عزت کی نہیں ذلت کی ٹکٹیں ہیں، حلف نامے میں تبدیلی سے ہونے والے نقصان کا اندازہ انہیں عام انتخابات کے وقت ہوگا۔

انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرنے تو کم از کم گرفتاری کا مطالبہ ہی تسلیم کرلیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم روزانہ ایک بجے پنجاب اسمبلی کے سامنے گرفتاریوں کے لئے آئیں گے اور چار بجے تک حکومتی ہتھکڑیوں کا انتظا رکریں گے اور مطالبات کی منظوری تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر مفتی محمد عابد جلالی، پیر محمد اقبال ہمدمی، صاحبزادہ محمد امین اللہ نبی سیالوی، صاحبزادہ سردار احمد رضا فاروقی، علامہ محمد طارق لطیف نقشبندی، علامہ فیض سلطان رضوی، صاحبزادہ مرتضیٰ علی ہاشمی، علامہ فرمان علی جلالی، مولانا امانت علی سرداری، مولانا محمد زویب جلالی، مولانا احسان الرحمن نورنی اور محمد جمیل جلالی بھی موجود تھے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور