’’ خدا کی قسم جن آگئے، ہمارا انسانوں سے نہیں بلکہ جنات سے ۔۔۔ ‘‘ جنگ قادسیہ میں مجاہدین آگے بڑھتے، دریا ان کا راستہ چھوڑتا جاتا

’’ خدا کی قسم جن آگئے، ہمارا انسانوں سے نہیں بلکہ جنات سے ۔۔۔ ‘‘ جنگ قادسیہ ...
’’ خدا کی قسم جن آگئے، ہمارا انسانوں سے نہیں بلکہ جنات سے ۔۔۔ ‘‘ جنگ قادسیہ میں مجاہدین آگے بڑھتے، دریا ان کا راستہ چھوڑتا جاتا

  

تاریخ انسانیت میں ایک واقعہ دریائے نیل کا ہے اور دوسرا دریائے دجلہ کا جب اللہ کے دوجلیل القدر بندوں کے کہنے پر شورش زدہ دریاوں نے راستہ دے کر اپنے اندر سے لشکراور قافلے کو امن سے گزرنے دیا تھا ۔دریائے نیل نے اگر حضرت موسیٰ ؑ کے حکم پر اپنے قافلہ کو گزرنے کے لئے راستہ دے دیا تھا اور تو دوسرا معجزہ رسول کریم ﷺ کے محبوب صحابی اور خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروقؓ کی نسبت سے رونما ہوا تھا ۔

تاریخ طبرانی میں لکھا ہے کہ جنگ قادسیہ میں جب امیر لشکر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کا نام لے کر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واسطہ دیادریا نے سمٹ کر راستہ دے دیاَ ۔ مجاہدین نے گھوڑے دریا میں اتار دیئے۔ سازو سامان کے ساتھ لشکر اسلام دریا میں اس طرح جارہا تھا جیسے کوئی خشکی میں سفر کررہا ہو یہاں تک کہ تمام لشکر نے دجلہ عبور کرلیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لشکر اسلام دریائے دجلہ سے اس طرح صحیح سلامت باہر نکلا کہ نہ ہی ان کی کوئی چیز کم ہوئی اور نہ ان کا کوئی آدمی غرق ہوا البتہ ایک پیالہ دریا میں گرگیا۔ اس پیالے کا مالک قریش کا حلیف مالک بن عامر تھا، اس نے دریا کو مخاطب کرکے کہا ’’ خدا کی قسم میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک دریا میرا پیالہ واپس نہ کردے۔ کیا سارے لشکر میں سے دریا نے میرا پیالہ ہی چھیننا تھا؟ ‘‘وہ گھوڑے سے نیچے اتر آیا، دریا کے کنارے کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ دریا کی موجوں نے اس کا پیالہ کنارے پر باہر پھینک دیا‘‘۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’ میں دریائے دجلہ میں امیر لشکر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا، لشکر پانی میں اس طرح جارہا تھا جیسے خشک زمین پر چل رہا ہو۔ یہ جنگ جو مدائن میں ہوئی، اس سے بڑھ کر حیران کن واقعہ کوئی نہ دیکھا گیا۔ اس دن کو ’’یوم الماء‘‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اس واقعہ کو اہل فارس حیرت سے دیکھ رہے تھے اور انگشت بدنداں تھے کہ وہ دریا کی بپھری موجوں کو کس پْرسکون انداز سے عبور کررہے ہیں۔ جب لشکر اسلام نے دریا کو عبور کرلیا اور مدائن میں داخل ہونے لگے تو لوگ چیخ چیخ کر ایک دوسرے سے کہنے لگے’’ خدا کی قسم دیو آمدند، دیو آمدند یعنی جن آگئے، ہمارا انسانوں سے نہیں بلکہ جنات سے واسطہ ہے‘‘

مزید : روشن کرنیں