فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر343

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر343
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر343

  

اِن دنوں ہم بالکل ریٹائرمنٹ اور گوشہ نشینی کی زندگی بسرکررہے تھے۔ سخت پرہیزی کھانا کھاتے تھے۔ کھانے کے بعد چہل قدمی ضرور کرتے تھے۔ زیادہ تر آرام کرتے رہتے تھے۔ لکھنے سے بھی پرہیز تھا۔ صرف پڑھنے سے سروکار تھا۔ یار دوستوں سے ٹیلی فون پر گپ شپ کرلیتے تھے ورنہ لکھنے لکھانے اور فلم بنانے کے سلسلے میں تمام منصوبے وقتی طور پر ہم نے بالائے طاق رکھ دیے تھے۔ غصّہ ہمیں ہمیشہ سے بہت زیادہ آتا ہے۔ ان دنوں چِڑچِڑاپن کچھ اور زیادہ ہوگیا تھا۔ ذرا سی بات پر ہم غصّے میں آگ بگولا ہوجاتے تھے اس لیے گھروالے بہت سے امور ہمارے علم ہی میں نہیں لاتے تھے۔ سٹوڈیو میں ہمارا دفتر بھی موجود تھا اور سٹاف بھی تھا لیکن انہیں ہم نے سختی سے منع کردیا تھا کہ کام کاج یا کاروبارکی کوئی بات ہم سے نہ کریں ورنہ ہمیں غصّہ آجائے گا اورہم پریشان ہوجائیں گے اور ان دونوں باتوں سے ڈاکٹر نے ہمیں پرہیز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر342پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

ہمارے گھر پر عموماً فلمی اداکاروں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ نہ ہی کبھی کبھار ملاقات کرنے کے سوا کوئی فلمی مصروفیت ہم گھر کے لیے اٹھا رکھتے تھے مگر ان دنوں چونکہ بیماری سے اٹھے تھے اور اسٹوڈیو یا دفتر نہیں جاتے تھے، اس لیے کئی فنکارہماری مزاج پُرسی کے لیے گھر بھی آجاتے تھے۔

رخسانہ (چیکو) اور ان کی والدہ کا قصّہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں۔ رخسانہ کی والدہ کسی زمانے میں مِڈوائف تھیں۔ دُبلی پتلی‘ چھوٹے قد کی خاتون تھیں۔ باتیں ایسے کرتی تھیں جیسے مشین گن گولیاں برساتی ہے۔ یعنی مسلسل اور اندھا دھند‘ آنکھوں پر بڑے بڑے شیشوں کی عینک بھی پہنتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ دنیا کا کوئی مریض ایسا نہیں ہے جس کا علاج ان کے پاس نہ ہو۔ انہوں نے ہمارے گھر آکر ہمیں کافی ڈانٹا ڈپٹا اور کہا ’’آفاقی! تم کتنے بے وقوف ہو۔‘‘

’’کیوں؟‘‘ ہم نے گھبرا کر پوچھا ’’ہم نے کیا کردیا؟‘‘

بولیں ’’ارے بھئی تمہیں السر تھا تو مجھے بتایا ہوتا۔ میں دو پُڑیوں میں ٹھیک کردیتی۔‘‘ ہمارے آپریشن کے بعد بھی انہوں نے ہم سے یہی کہا تھا کہ اگر مجھ سے پُڑیوں لے لیتے تو آپریشن وغیرہ کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ کچھ اور قریبی دوست فنکار بھی اُدھر اِدھر کی باتیں کرنے کے لیے ہمارے پاس آجاتے تھے مگر اب ہم مسلسل بیکاری اورآرام کرنے سے اُکتا چکے تھے۔ کبھی سوچتے کہ خدا جانے یہ اَلسر کیا بلا ہے۔ ممکن ہے ڈاکٹروں نے ہم سے چھپایا ہو اور درحقیقت یہ کوئی مہلک اور جان لیوا مرض ہو۔ کبھی خیال آتا کہ اتنی جدوجہد کے بعد کامیابی کی پہلی سیڑھی پر چڑھے تو اچانک بیمار پڑ گئے۔ کہیں یہ ہماری زندگی کا آخری دور تو نہیں ہے؟ ۔۔۔اکیلے بیٹھے بیٹھے دنیا بھر کے وسوسے ہمیں گھیر لیتے تھے۔ سارے پُرانے دُکھ یاد آجاتے۔ مصیبت زدہ دوستوں اور رشتے داروں کا خیال کرکے خودبخود آنکھوں میں آنسو آجاتے۔

کچھ دن بعد ہم نے محسوس کیا کہ ہم قنوطی اور یاس زدہ ہوگئے ہیں۔ مایوسی اور محرومیوں نے ہمیں گھیر لیا ہے۔ اب ہم زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے۔ یہ سوچ سوچ کر ہم باقاعدہ ڈپریشن کے مریض بن گئے تھے۔

جب نیند کے لیے خواب آور گولیاں بھی بے اثرہونے لگیں اور ہم بلاوجہ ساری ساری رات بے کار کے اندیشے ہائے دور دراز کی وجہ سے کروٹیں بدلنے لگے تو ہماری پریشانی اور الجھن میں اضافہ ہوگیا۔ ڈاکٹر ولیم نے ہمیں تمام نیند آور دوائیں استعمال کرا دی تھیں اور ان کے ناکام ہونے پر ’’م‘‘ (بوجوہ نام نہیں لکھ رہے)نام کی گولیاں تجویز کی تھیں۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ بعض نشے باز ان گولیوں کو منشیات کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کی ایک شیشی میں موٹی موٹی دس سفید گولیاں ہوتی تھیں۔ ڈاکٹرولیم نے ہمیں رات کو ایک چوتھائی گولی کھانے کی ہدایت کی تھی۔ بہ امر مجبوری ہم نصف گولی بھی کھا سکتے تھے لیکن جب دماغ مسلسل سوچنے میں مصروف رہے تو کیسی گولی‘ کہاں کی گولی۔ ایک رات ہم نے پاؤ گولی کھائی مگر نیند نہ آئی تو باقی پاؤ حصّہ بھی کھا لیا۔ پھر بھی نیند نہ آئی توبقیہ آدھی گولی بھی ہضم کرلی۔ ایک گھنٹہ سوئے تھے کہ پھر آنکھ کُھل گئی اور اتنی بے چینی ہوئی کہ ہم پریشان ہوکر مزید پوری ایک گولی کھا بیٹھے۔ کچھ دیر بعد نیند آگئی مگر دو تین گھنٹے بعد ہی آنکھ کھل گئی۔ بہرحال صبح ہوچکی تھی اس لیے کچھ حوصلہ ہوا مگر دوائی کی زیادہ مقدار کھانے کی وجہ سے ’’ہینگ اوور‘‘ ہوگیا۔ یعنی سر میں درد اور چکّر وغیرہ۔ ڈپریشن اتنا شدید کہ دوچار بار سوچا کہ خودکشی کرنا بہتر ہوگا مگروہ کون سا طریقہ اپنائیں جس سے تکلیف نہ ہو۔ کافی دیر تک خودکشی کرنے کے مختلف طریقوں پر غور کرتے رہے اور جب مرنے کی ہمّت نہ پڑی تو سوچا کہ کیوں نہ ڈاکٹرولیم سے مشورہ کریں۔

ڈاکٹر ولیم کے دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ آج ان کے پاس ملاقات کا وقت نہیں ہے۔ ہم نے انہیں ایک چٹ لکھ کر بھیجی کہ ہمیں دومنٹ ضرور دے دیں۔ نہایت ایمرجنسی کی صورت ہے۔

انہوں نے فوراً ہمیں طلب کرلیا۔ ہماری شکل دیکھی تو وہ کچھ اور سنجیدہ ہوگئے۔ ’’کیا پرابلم ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

ہم نے اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں بتایا۔ گولی کھانے کا قصّہ بھی سنایا۔ وہ بولے ’’مجھ سے غلطی ہوگئی۔ پوری شیشی آپ کو نہیں خریدنی چاہیے تھی۔ جو لوگ زیادہ خواب آور گولیاں کھا کر مر جاتے ہیں وہ اسی طرح غیرارادی طور پر گولیاں کھاتے رہتے ہیں جیسے کہ آپ نے کھالیں۔ شکر ہے کہ نیند آگئی تھی ورنہ آپ تو ساری شیشی خالی کردیتے۔‘‘

’’ڈاکٹر آخر ہمیں ہوا کیا ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

بولے ’’ڈپریشن۔۔۔ غالباً نروس بریک ڈاؤن ہونے والا ہے۔‘‘

ہم نے گھبرا کر بوچھا ’’تو پھر کیا کریں؟‘‘

کہنے لگے ’’آپ فوراً ہسپتال میں داخل ہوجائیں۔ ایک کمرہ ابھی خالی ہوا ہے۔ میں آپ کے نام کردیتا ہوں۔‘‘

ہم نے کہا ’’مگر ہسپتال میں داخل ہوجانے سے ڈپریشن کیسے دور ہوجائے گا؟‘‘

وہ مسکرائے ’’آپ کا علاج کریں گے۔ ٹیسٹ لیں گے۔ چیک اَپ کریں گے۔ بس آپ آج ہی آجائیے۔‘‘

اس طرح ہم دوبارہ ہسپتال میں داخل ہوگئے۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر344 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ