سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 41

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 41
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 41

  

وہ اسلامی تاریخ کا عجیب و غریب زمانہ تھا۔مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس سروں سے دستار حکومت اتر چکی تھی۔بغداد ایک میوزیم کی طرح زندہ تھا۔جس کے درودیوار بنو عباس کی عظمتِ رفتہ کے مرثیے پڑھ رہے تھے اور عالمِ اسلام عقیدت سے سر جھکا ئے سن رہا تھا۔قاہرہ تخت دمشق کا ایک پایہ تھا۔غرناطہ اور قرطبہ اس تلوارکی طرح علم تھے جس کے قبضے پر جواہرات جڑے ہوں لیکن جوہر مر گئے ہوں۔سمر قند کے بازوؤں میں وہ طاقت نہ تھی جو تاریخ عالم کا رخ موڑ دیا کرتی ہے۔دہلی مرکز سے دور اور طوفان سے بے نیاز خلجیوں کے تاج کیلئے موتی فراہم کر رہا تھا اور عالم اسلام کا سب سے بڑا اور روئے زمین کا سب سے مغرور شہر دمشق۔۔ایوبی پرچم کی چھاؤں میں ایک فاتح کی طرح کھڑا ہوا ملت بیضا کے خزانوں کی حفاظت کر رہا تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 40 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مسلما ن نان جویں اور بازوئے حیدر کا تعلق فراموش کر چکے تھے۔عبدالملک اور ہارون رشید کے سنہرے دن بیت چکے تھے لیکن ایک ایک زبان کو ان کی کہانیاں یاد تھیں۔ایک ایک آنکھ میں وہ مناظر آباد تھے جن میں دنیا کے مقہور بادشاہوں کو بیڑیاں پہنائی گئی تھیں۔پھر مغرب کا صلیبی جوالا مکھی فلسطین کی شہر پناہ سے اتر کر بلاداسلامیہ کو خاک وخون میں نہلانا پڑتا کہ صلاح الدین ایک پشتی بان کی طرح کھڑاہوا غرور لاکر ایک بار پھر مسلمانوں کے عماموں میں ٹانک دیا۔اس طرح وہ عشرت گاہیں محفوظ ہو گئیں جن کو نصف صدی بعد چنگیزی طوفان کو خس وخاشاک بننا مقدر ہو چکا تھا۔

دنیا کے عیش جن درختوں میں پھلتے تھے وہ عالمِ اسلام کے چپے چپے پر سر سبز تھے۔دمشق کی پتھریلی گلیوں میں مخملیں کاٹھیوں اور روپہلی رکابوں سے آراستہ گھوڑوں پر سوار مسلمان گزر رہے تھے۔ان پر اعتماد آنکھوں،روشن پیشانیوں اور شادماں چہروں پر زندگی سے آسودہ طمانیت برس رہی تھی بھاری عماموں پر عقاب کے پروں اور موتیوں کی کلغیوں کی روشنی تھی،کفتانوں کے دامنوں ،آستینوں اور شمسوں پر سونے کے تاروں کی زرد کاریاں تھیں۔نفاست سے ترشی ہوئی داڑھیاں ،بے نظیر تراشوں کی قبائیں،جواہر سے گوندھے ہوئے قبضوں کی تیغیں اور خنجر اور نیچے موج درموج رواں تھے۔

سیدھے ہوئے باز،عقاب اور شکرے ان کے ہاتھوں پر زیوروں کی طرح سجے رہتے ۔شکاری چیتے اور کتے بے زبان غلاموں کی طرح ان کی سواری کے پیچھے دوڑا کرتے۔چھتے دار بازاروں میں اور ہندوستان ،افریقہ اور یورپ کی مصنوعات بھرے رہتے۔زہرہ وناہید کو شرمانے والی ہر نسل اور ہر رنگ کی کنیزوں کا ہجوم کھڑا رہتا۔محلوں کے روکاروں اور مکانوں کی ڈیوڑھیوں پر غلاموں اورگھوڑوں کے گلے چیختے اور ہنہناتے ہوئے ۔دروازوں پر ملک ملک کی صنعت کے نمائندہ پرے بڑی تمکنت کے ساتھ کھڑے رہتے۔

بیش قیمت قالین اپنے آقاؤں کے مبارک قدمون کے لمس کی دعا مانگاکرتے۔روپہلے حاشیوں اور سنہرے فانوسوں کے زیور پہنے لمبی چوڑی چھتیں اپنا سردوگرم سایہ لئے ان تجاہل پیشہ کمینوں کی راہ رتکاکرتیں جو گھوڑوں کی رانوں میں دبائے،کھنچی ہوئی کمانیوں میں تیر جوڑے گھنے کالے جنگلوں میں گورخرکی جستجو کیاکرتے ۔بیش و بہا ہتھیاروں اور بیش قیمت نعمتوں سے بھرے ہوئے طاقوں سے لدی پھندی دیواریں ان کے انتظار میں کھڑی سو کھا کر تیں جو پائیں باغ کی دبلی پتلی نہروں اور موٹے تازے حوصوں کے کنارے سرخ گلاب کے کنجوس کے آس پاس چاند سورج جیسی عورتوں کی پہلو میں لئے ٹہلا کرتے ۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس