چیف جسٹس ثاقب نثار نے کمرہ عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کمرہ عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کمرہ عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زینب قتل کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے اینکر پرسن ڈاکٹرشاہد مسعود کو ’رنگے ہاتھوں‘ پکڑلیا۔

دوران سماعت ڈاکٹرشاہد مسعود نے کہاکہ انہوں نے خبر (جج صاحبان کیخلاف کسی نوٹیفکیشن کی افواہ )بریک کی تھی ، اس وقت افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس تھے ، رات 12بجے بھی عدالت لگی تھی ۔ ڈاکٹرشاہد مسعود کی بات کاٹتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ پھرپتہ چلا کہ وہ خبر بھی جھوٹی تھی، رات 12نہیں ، کوئی 10، سوادس بجے کا وقت تھا جب جج صاحبان اکٹھے ہوئے تھے ، میں افتخارچودھری نہیں،ثاقب نثارہوں۔

چیف جسٹس نے شاہد مسعود سے استفسار کیا کہ آپ اپنے پوائنٹ پر قائم کیوں نہیں رہے،رات 12بجے آپ کا پروگرام سنا اور صبح آپ کو بلایا، آپ نےجوبات کی انتہائی سنجیدہ ہے،بتائیں آپ کےپاس کیاثبوت ہیں?آپ نے ان باتوں کو تسلیم کیا،جو آپ نے بتایا آپ اسے ثابت نہ کر سکے۔

ڈاکٹرشاہد مسعود نے عدالت میں موقف اپنایا کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں ،عدالت جو سزا دے قبول ہے لیکن ان کو نہیں چھوڑوں گا، زینب کے قاتل کو عدالتی تحویل میں لے لیں، اسے مار دیا جائے گا,پوسٹ مارٹم ڈاکٹرنہیں کرتے،بچوں کی ویڈیوزبنتی ہیں،300ویڈیوزبنی اورریکٹ پکڑاگیا،یہ عمران مجرم نہیں ہے،اس کےانگوٹھےچیک کرائیں4اورنکل آئیں گے،آگرآپ کہتےہیں تو میں یہاں سےچلاجاتاہوں۔جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ اب میں آپ کو یہاں سےایسےنہیں جانےدوں گا، میرانام ثاقب نثارہےمجھےپتہ ہےکیاکرناہےاورکیانہیں?میرامقصدمفادعامہ اوربنیادی حقوق کاتحفظ ہے،آج کےبعد کوئی وزیراعلیٰ،وزیراعظم جوڈیشل کمیشن بنانےکانہ کہے،یہ کام تفتتیشی اداروں کاہے اور اسے ہی کرناچاہیے،ایسے کمیشن بناکرکچھ حاصل نہیں ہوتا۔

مزید : قومی