شہزادہ ولید بن طلال کو کس چیز کے بدلے رہائی دی گئی؟ بالآخر اصل حقیقت سامنے آگئی

شہزادہ ولید بن طلال کو کس چیز کے بدلے رہائی دی گئی؟ بالآخر اصل حقیقت سامنے ...
شہزادہ ولید بن طلال کو کس چیز کے بدلے رہائی دی گئی؟ بالآخر اصل حقیقت سامنے آگئی

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) 2ماہ قبل سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف ایک مہم شروع کی گئی جس میں درجنوں شہزادوں سمیت سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے رٹزکارلٹن ہوٹل میں قید کر دیا گیا۔ ان میں سے اکثر لوگ حکومت کو بھاری رقوم واپس کرکے رہا ہو چکے تھے اور اب زیرحراست افراد میں سب سے اہم کھرب پتی شخصیت شہزادہ الولید بن طلال بھی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرکے رہا ہو گئے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ شہزادہ الولید حکومت کے بھاری رقم واپس کرکے رہا ہوئے تاہم انہوں نے اس تصفیے کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے شہزادہ الولید کو رہائی کے عوض 6ارب ڈالر (تقریباً6کھرب روپے) ادا کرنے کو کہا گیا تھا۔ سعودی حکومت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اٹارنی جنرل نے شہزادہ الولید اور حکومت کے مابین مالی معاہدے کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد انہیں رہائی ملی اور وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔شہزادہ الولید کے خاندانی ذرائع نے بھی ان کے گھر پہنچنے کی تصدیق کر دی ہے۔واضح رہے کہ شہزادہ الولید کے خلاف منی لانڈرنگ، رشوت خوری اور حکام سے جبری بھتہ وصول کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مزید : عرب دنیا