ذوالفقار چیمہ کی دوسری کتاب کی تقریب رونمائی،مقررین کی جانب سے زبر دست پذیرائی

ذوالفقار چیمہ کی دوسری کتاب کی تقریب رونمائی،مقررین کی جانب سے زبر دست ...
ذوالفقار چیمہ کی دوسری کتاب کی تقریب رونمائی،مقررین کی جانب سے زبر دست پذیرائی

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) نیوٹیک کے چیرمین اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار چیمہ کی دوسر ی کتاب ’دوٹوک‘ کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے انہوں نے اس کاوش کوزبردست اقدام دیا۔

تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل کراچی میں نیوٹیک کے چیرمین اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار چیمہ کی دوسری تقریب رونمائی میں مقررین کا کہنا تھا کہ ذوالفقار چیمہ نے پولیس سروس میں رہ کر نامساعد حالات میں بھی قانون کی حکمرانی قائم کر کے دکھائی اس لیے آج نوجوان سول سرونٹس انہیں رول ماڈل سمجھتے ہیں ِ، انکی پہلی کتاب کی طرح انکی دوسری کتاب کو بھی اپنے مضامین کے تنوع اور تحریر کی روانی اور شگفتگی کے باعث بڑی پذیرائی مل رہی ہے، یہ کتاب ہر سول سرونٹ اور ہر سیا سی کارکن کو پڑھنی چاہیے۔

مقررین نے کہا کہ مصنف نے درد ِ دل سے حکمرانوںکی کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے اور طاقتور اداروں کو سمجھانے کی سعی کی ہے کہ ملک کی بقا ءآیئن کی پاسداری میں ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوے سینرصحافی اور ماہنامہ اطراف کے ایڈیٹرمحمود شام نے کہا کہ، ’دو ٹوک’ ایسی کتاب ہے کہ جسے پڑھنے بیٹھ جائیں تو چھوڑی نہیں جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ چیمہ صاحب نے ہر ادارہ ٹھیک کیا ہے، اب یہ مُلک ایسے لوگوں کی رہنمائی میں دینا چاہئے تاکہ یہ اسے بھی ٹھیک کریں۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ میں نے چیمہ صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے اور میرے اندر جو خوبیاں ہے اس میں بھی چیمہ صاحب کی چھاپ ہے، میں نے سروس کا آغاز ان کے ساتھ کیا تھا انکے ہاں نا ممکن کا لفظ ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ساری کتاب پڑھی ہے یہ ہر سول سرونٹ کو پڑھنی چاہئے۔ممتاز صنعت کار مرزا اشتیاق بیگ نے کہا کہ اداروں کو ٹھیک کرنے کے لئے ذوالفقار چیمہ کا نام ایک برینڈ بن گیا ہے ۔ انہوں نے پاسپورٹ کے ڈوبتے ہوئے محکمے کو چند مہینوں میں پاﺅں پہ کھڑا کر دیا ۔ اب انہوں نے نیوٹیک کو بھی بے حد متحرک کر دیا ہے اور وہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا عظیم کام کر رہے ہیں۔پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیرمین ڈاکٹر نجف قلی مرزا نے کہا کہ، میں نے اتنے اعلیٰ کردار کا پولیس افسر کم دیکھا ہے، اللہ نے اُنھیں غیر معمولی صلاحیتیں عطا کیں ہیں، انہوں نے پولیس میں بہت اعلیٰ معیار قائم کیے۔ وہ بہت اچھا لکھتے ہیں اور بہت اچھا بولتے ہیں قوم کو انکی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے اپنی سابقہ سروس پولیس کے غلط کاموں پر تنقید بھی کی ہے اور انکی رہنمائی بھی کی ہے ، انہوں نے پہلی با ر تھانہ کلچر کی وضاحت کی ہے اور بڑے موثر انداز میں اُسے بدلنے کا طریقہ بتایا ہے۔ انہوں نے مسائل کی نشاندھی کی ہے تو اسکا حل بھی بتایا ہے۔آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ مصنف کی تحریر وں میں اعلی پا ئے کا طنزاور مزاح ملتا ہے، انہوں نے کتاب کے مضامین’کیس تو ٹریس ہے ’ ’آج تو کریلے ہی پکیں گے’ اور ’مدد’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصنف واقعات سے مزاح پیداکرنے کا فن جانتے ہیں اور انکا اسلوب بڑادلپذیرہے۔

تقریب کی میزبانی کسٹمز سروس کے کلکٹر عرفان جاوید نے کی ، تقریب میں بٹری تعداد میں قلم کاروں، صنعتکاروں، سرونگ اور سابق سرکاری افسروں ، نوجوانوں اور خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی